اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا میچ کراچی میں جاری ہے ناقص بیٹنگ کی بدولت قومی ٹیم پر شکست کے بادل منڈلانے لگے۔دوسرے روز کھیل ختم ہونے پر پاکستان نے پانچ وکٹ کھو کر 127رنز بنائے ہیں اورا بھی فالوآن کی خفت سے بچنے کیلئے مزید 124رنز ردکار ہیں اورابھی میچ میں محض دو دن کا کھیل ہوا ہے لیکن پاکستان اور جنوبی افریقہ کی پوزیشنز واضح ہوچکی ہیں۔پاکستان نے کراچی ٹیسٹ میں کھیل تینوں شعبوں میں ناقص کھیل پیش کیا ۔سب سے پہلے فیلڈرز نے ناقص فیلڈنگ کی بعدازاں بولرز نے انتہائی ناقص کھیل پیش کیا اور رہی سہی کسر قومی بلے بازوں نے غیرمعیاری اور غیر ذمہ دارانہ کھیل سے میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکلنا شروع ہوگیا ہے ۔غیر متوقع طور پر قومی اوپنرز محمد حفیظ اور کامران اکمل نے 71رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن بدقسمتی سے پاکستانی ٹاپ آرڈر بالکل ناکام رہا اور ایک ایک کرکے سبھی بیٹسمین پویلین لوٹ گئے۔کراچی ٹیسٹ کے دوسرے روز افریقی بیٹسمینوں نے سلووکٹ کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے سکوربنائے اور پاکستانی فاسٹ بولرز کی دسترس سے اپنی وکٹیں دور رکھیں۔ کراچی ٹیسٹ کے پہلے دن کی طرح دوسرے روز بھی قومی فیلڈر نے ناقص کھیل پیش کیا اور بولرز کی کارکردگی بھی غیر متاثر رہی البتہ پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے لیفٹ ہینڈ سپنر عبدالرحمن نے معیاری بولنگ کی اور 4وکٹیں حاصل کرکے اپنا انتخاب درست ثابت کردکھایا۔کراچی ٹیسٹ کا آغاز ہی پاکستانی ٹیم کیلئے مایوس کن تھا کیونکہ میچ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے سٹار بیٹسمین محمد یوسف نے کھیلنے سے انکار کردیا اور انہوں نے اپنے انکار کی وجہ فٹنس مکمل نہ ہونا بتائی جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ محمد یوسف چونکہ انڈین لیگ سے معاہد ہ کرچکے ہیں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی ایل انتظامیہ نے پاکستانی کرکٹرز کو معاوضے کی رقم کی پہلی قسط بھی ادا کردی ہے لہذا اسی تناظر میں یوسف نے کراچی ٹیسٹ کھیلنے سے انکار کردیا تاہم کرکٹ بورڈ کی جانب سے چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ یوسف کی میچ فٹنس مکمل نہیں ہے لہذا اس لیے وہ کراچی ٹیسٹ میں حصہ نہیں لے سکے ۔اگر صلاح الدین صلو کی یہ بات درست ہے تو تمام لوگ اس بات آشنا تھے کہ محمد یوسف 40روز تبلیغی جماعت کے ساتھ دورہ کرکے آئے تھے اور ان کی میچ فٹنس مکمل نہیں ہے یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اسے 15رکنی سکواڈ میں شامل کرنے کا جواز ہی نہیں بنتاتھالیکن یہ سب جاننے کے باوجود یوسف کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ یہاں اس بات کا واضح اشارہ مل رہا ہے کہ محمد یوسف نے کرکٹ بورڈ کے ساتھ تو سنٹرل کنٹریکٹ پر سائن کردیئے ہیں لیکن ان کیلئے انڈین لیگ سے چٹکارہ حاصل کرنا شاید اتنا آسان نہیں ہے اور یہ بات واضح ہے کہ یوسف نے انڈین لیگ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی سے بچنے کیلئے کراچی ٹیسٹ میں شرکت سے معذرت کی یہاں اب کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اگر یوسف کو پاکستانی ٹیم میں رکھنا چاہتے ہیں تو بیٹسمین کے دفاع میں واضح پالیسی مرتب کرنا ہوگی اور یوسف کا ٹیم میں کھیلنا یقینی بنانا ہوگا۔کراچی ٹیسٹ کے آغاز میں یوسف کی خدمات سے محروم ہونے کے بعد قومی ٹیم کے دیگر بلے باز مکمل طور پر آف کلر دکھائی دیئے ۔وکٹ پر ا س وقت کپتان شعیب ملک اور نائٹ واچ مین عبدالرحمن موجود ہیں۔شعیب ملک کا بطور کپتان یہ پہلا” ٹیسٹ “ہے جس میں ان کا اصل امتحان بھی شروع ہوچکا ہے اب تمام تر ذمہ داری شعیب ملک کے کاندھوں پر ہے کہ وہ سب سے پہلے ٹیم کو فالوآن سے محفوظ رکھیں اور پھر ساؤتھ افریقہ کی برتری کو کم کرنے کیلئے سکور بورڈ پر ایک قابل بھروسہ مجموعہ تشکیل دیں۔
جنوبی افریقہ نے 450رنز بنا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے اگر پاکستان کو فالو ان ہوا تو میچ بچانا مشکل ہو جائیگا۔ایک بات کی سمجھ نہیں آسکی کہ پاکستان نے کراچی ٹیسٹ کی وکٹ اس قدر سلو کیوں بنائی۔تیزرفتار بولروں کی موجودگی میں پاکستان نے جس قسم کی وکٹ تیار کی ہے وہ کھیل اور کھلاڑیوں سے زیادہ شائقین کرکٹ کے لیے تکلیف دہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ میچوں کو زندہ رکھنے کے لیے جان دار وکٹوں کی تیاری کے احکامات دے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ ہوم گراؤنڈز پر ڈیڈ وکٹیں تیار کیں ہیں۔ پاکستان کے پاس جنوبی افریقا کے مقابلے میں زیادہ تیز اور برق رفتار بولرز تھے ان کی موجودگی میں اسپن بولنگ پر انحصار کرنا درست فیصلہ نہیں تیز وکٹ پر مہمان بیٹسمین بڑا اسکور نہیں کرپاتے لیکن اس کے باوجود عبدالرحمن نے شاندار گیندبازی کی اور ڈیبو پر چار وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی فیلڈنگ کا معیار بھی پست نظر آیا، ون ڈے اور ٹونٹی 20 کرکٹ کے اثرات پاکستانی کھلاڑیوں پرفیلڈنگ کے دوران نمایاں نظر آئے انہوں نے دو تین کیچز بھی ڈراپ کیے۔اس کے علاوہ محمد یوسف کی عدم موجودگی میں پاکستان کی بیٹنگ قوت شدید متاثر ہوئی اور اس وقت 127پر پاکستان کے ابتذائی پانچ بلے باز واپس لوٹ چکے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ محمدیوسف تجربہ کار کھلاڑی ہیں ان کی موجودگی میں جنوبی افریقہ کے بولرز دباوٴ میں نظر آتے۔ محمد یوسف کے نہ کھیلنے سے پاکستان کی بیٹنگ لائن دباوٴ میں دکھائی دی اور اس وقت میچ ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے۔