اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری دو ٹیسٹ میچز کی سیریزکا دوسرااور آخری میچ قذافی سٹڈیم لاہور میں جاری ہے۔دوسرے روز کھیل کے اختتا م پر پاکستان نے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں 359رنز کے جواب میں اپنی ابتدائی 4وکٹیں کھو کر 140رنز بنارکھے ہیں۔کریز پرسابق کپتان انضما م الحق اور مصباح الحق 10,10رنز پر موجود ہیں ۔لاہور ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستانی بولر ز کا کھیل دیکھ کر شعیب اختر کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ مار ک باؤچر اور پال ہیرس نے آٹھویں وکٹ کی شراکٹ میں 86رنز جوڑ کر ایک با ر پھر پاکستانی بولنگ اٹیک کو کمزور ثابت کردیاہے۔اگر یہاں تیسرا فاسٹ بولر ہوتا تو میرے خیال میں افریقی ٹیم 359رنز تک رسائی حاصل نہ کرپاتی۔اطلاعات ہیں کہ کل شعیب اختر کے مستقبل کا فیصلہ ہونے والہ ہے کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ شعیب اختر کے مستقبل کو سامنے رکھنے کے بجائے پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو سامنے رکھ کرکوئی فیصلہ کرے جس کا فائدہ قومی کرکٹ ٹیم کو ہو۔
یوں لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرارہی ہے۔لاہور ٹیسٹ میں ماضی کی طر ح پاکستانی ٹاپ آرڈر بلے باز ناکام ہوچکے ہیں اور چار وکٹیں کھونے کے بعد پاکستان کی پوزیشن اس وقت کمزور لگ رہی ہے تاہم ساتھی کھلاڑی محمد یوسف کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی توقع کی جارہی ہے کہ انضمام الحق حریف ٹیم کو اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے۔انضما م الحق پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے بلے باز ہیں اور وہ جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیل رہیں جہاں قومی ٹیم اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوچکی ہے وہیں انضما م الحق اس وقت سب کی امیدوں کا محو ر بن چکے ہیں ۔حریف ٹیم کی بھی تمام تر کوشش ہوگی کہ وہ انضمام الحق کو جلد آؤٹ کرکے اپنے لیے جیت کا راستہ ہموار کرے اور انضما م الحق کی بھی مکمل کوشش اور خواہش ہے کہ وہ اپنے کیرئیر کے آخری ٹیسٹ میں انفرادی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو لاہور ٹیسٹ میں کامیابی دلائیں اور اس وقت صورت حال ازخود انضما م کے سامنے واضع ہوچکی ہے جہا ں وہ نہ صرف وکٹ پر قیام کریں بلکہ سکور کرکے پاکستان کو مشکل سے نکالیں۔انضمام الحق کے ساتھ اس وقت وکٹ پر مصباح الحق موجود ہیں جنہیں انضما م کا متبادل کہا جارہا ہے اور مصباح کیلئے بھی یہ ٹیسٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ بہتر کھیل پیش کرکے کراچی ٹیسٹ میں اپنی ناکامی کا ازالہ کریں۔اس کے بعد کپتان شعیب ملک کی باری ہے جو اس وقت بھرپور فارم میں ہیں ان پر بھی ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد شدید دباؤبڑھ گیا ہے ۔گو کہ افریقی ٹیم کے سکورتک پاکستان کی رسائی مشکل لگ رہی ہے لیکن اگر انضما م ،مصباح یا کپتان شعیب ملک ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی کھلاڑی وکٹ پر کچھ دیر کیلئے قیام کر گیا تو پاکستان جنوبی افریقہ کی برتری ختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا تاہم ایسا کرنے کیلئے ذمہ داری سے بیٹنگ کرنا ہوگی۔گزشتہ روز خلاف توقع قومی اوپنرز نے ایک طویل عرصے بعد بہترین اوپننگ سٹینڈ فراہم کیا۔ کامران اکمل اور سلمان بٹ نے وکٹ پر آتے ہیں آزادانہ سٹروک کھیلنا شروع کردیے دونوں کے درمیان 91رنز کی شراکت ہوئی تاہم پہلی وکٹ گرنے کے بعد یک بہ دیگر پاکستان کی مزید 3وکٹیں اگلے 10رنز میں گر گئی جس سے قومی ٹیم کو دفاعی پوزیشن میں واپس آنا پڑا۔کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد جب انضمام الحق آخری ٹیسٹ میں بیٹنگ کیلئے میدان میں داخل ہوئے تو شائقین نے کھڑے ہوکر عظیم بیٹسمین کا استقبال کیا اور کئی منٹ تک تالیاں بجتی رہیں ۔انضما م الحق جب وکٹ کے قریب پہنچے تو پوری جنوبی افریقی ٹیم نے انضما م الحق کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور ان سے ہاتھ ملا کر استقبال کیا۔اس بات میں کوئی شک نہیں انضما م الحق دنیائے کرکٹ کے عظیم بلے باز ہیں پوری دنیا کے مبصرین اور کرکٹ شائقین کو ان کی ریٹائرمنٹ کی خبر سن کردکھ ہوا کیونکہ انضمام الحق جیسے کھلاڑی بار بار نہیں آتے ۔یہ بات سچ ہے کہ بطور کپتان انضما م الحق زیادہ کامیاب نہ ہوسکے مگر بیٹنگ کارکردگی کی وجہ سے وہ ہمیشہ شائقین کے دلوں میں رہیں گے۔انضما م الحق کی خوش قسمتی ہے کہ کرکٹ بورڈ نے انہیں باعزت طریقے سے رخصت ہونے کا موقع فراہم کیا جس کا پاکستان کرکٹ میں کوئی رواج تو نہیں ہے تاہم سابق کہتے ہیں کہ ”میں نے ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے“ ۔انضمام الحق کو اپنے آخری ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں میانداد کا سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ توڑنے کیلئے اس وقت محض10رنز کی ضرورت ہے ممکن ہے جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں توانضمام الحق اس ریکارڈ کے مالک بنے چکے ہوں گے۔آج کھیل کا تیسرا اور اہم دن ہے جہاں میچ کی صورت حال واضح ہوجائے گی ۔قومی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ اس ٹیسٹ میں فتح حاصل کرنے کیلئے جان لڑا دیں اور عظیم بیٹسمین کوفاتح کے روپ میں رخصت کریں۔