اعجاز وسیم باکھری:
مصباح الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کے اثاثہ ۔تھا…یا… ہے۔اس کا جواب شاید مصباح الحق کے پاس بھی نہ ہو کیونکہ ٹونٹی 20ورلڈکپ میں شاندار کھیل پیش کرنے والا درازقد بلے باز28مئی 2007ء کو اپنی 33ویں سالگرہ مناچکا ہے اور اب 34ویں کی جانب محوسفر ہے مگر اس کے کیرئیر پر اگر نظر دوڑائی جائے تو سوائے ناانصافی کے اور کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ ہر دور کے سلیکٹرز نے اس ”نیازی پٹھان“سے ناروا سلوک روا رکھا۔ جس پر بعض دفعہ یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ شاید مصباح الحق خان نیازی کو ”جنرل نیازی ”کی کی ہوئی غلطی کی سزا دی جاتی رہی ہے، کیونکہ مصباح نے ہر دور میں ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگائے مگر اسے قومی ٹیم کے ہمراہ گراؤنڈ میں اترانے میں ہمیشہ کنجوسی برتی گئی۔
28مئی 1974ء کو میانیوالی میں پیدا ہونے والے مصباح الحق خان نیازی نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سنجیدہ طور پر کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا۔MBAکی ڈگری ہولڈرمڈل آرڈر بلے باز نے اپنے فرسٹ کلاس کیرئیر کاآغاز1998ء میں کیا۔دھیمے انداز میں گفتگو کرنے والے مصباح الحق کو پہلے ڈومیسٹک سیزن میں محض تین میچوں کے قابل سمجھا گیا ۔
2001ء کا سال مصباح الحق کے کیرئیر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں مصباح نے 12فرسٹ کلاس میچوں 4سنچریوں کی مدد سے 953رنز سکور کیے اور یہی کارکردگی اسے قومی سکواڈ میں لے آئی اور وہ نیوزی لینڈ کے دورے کیلئے قومی سکواڈ کا حصہ بن گئے۔آکلینڈ کرکٹ گراؤنڈ پر مصباح کو ٹیسٹ کیپ دی گئی جہاں وہ پہلی اننگز میں پراعتماد28اور دوسری بار ی میں وہ10رنز بنا سکا۔اس کارکردگی کی بنا پر وہ اگلے دونوں ٹیسٹ میچ گراؤنڈ سے باہر بیٹھ کر دیکھتا رہا تاہم اگلے چند دن بعد وہ اے ٹیم کے ہمراہ سری لنکا چلا گیاجہاں اس نے کئی عمدہ اننگز کھیلیں مگر وہ قومی ٹیم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔مصباح الحق کو کم مواقع ملنے کی ایک ہی وجہ تھی کہ وہ جب اپنے عروج تھا توا س وقت قومی ٹیم میں ہر پوزیشن پر ایک اہم کھلاڑی اس کی راہ میں رکاوٹ بنا کھڑا تھا۔ورلڈکپ 2003ء میں ناکامی کے بعد جب آٹھ سنیئر کھلاڑیوں کو گھر کی راہ دکھائی گئی تو نئے آنے والوں میں ایک نام مصباح الحق کا بھی تھا۔شارجہ میں ہونے والے چار ملکی کرکٹ ٹورنامنٹ میں مصباح الحق کوئی خاطر خواہ کھیل پیش کرنے میں ناکام رہے اور آنے والے دنوں میں متعدد بار وہ ٹیم کے حصہ بنتے رہے کبھی ناکامی اور کبھی کامیابی اس کا مقدر ٹھہری۔بالآخر 2005ء میں زمبابوے کے خلاف پشارو ون ڈے مصباح الحق کا پاکستانی ٹیم کی جانب سے آخری ون ڈے ثابت ہوا ۔قومی ٹیم سے دور ہونے کے بعد مصباح الحق ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کا ابنار لگاتے رہا اور وہ قومی اے ٹیم کا بھی مستقل حصہ بنے رہا۔یہ ایک حیران کن امر ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بولرز پر راج کرنے والا مصباح انٹرنیشنل کرکٹ میں ہمیشہ جلدپویلین لوٹ جاتا ہے جو کہ اس کی بدقسمتی کہی جاسکتی ہے۔
مصباح الحق جب جوان تھا تب اسے کبھی پاکستانی ٹیم کا حصہ مستقل طور پر نہیں بنایا گیا جبکہ اس کے برعکس ناقص تیکنیک اور ٹمپرامنٹ کے فقدان کے حامل بیٹسمینوں کو مسلسل مواقع ملتے رہے جبکہ مثالی ٹمپرامنٹ کے مالک مصباح الحق کو اے ٹیموں تک محدود رکھا جاتا رہا جو کہ اس کوالٹی پلیئر کے ساتھ کھلی نا انصافی تھی۔ایک اور بات ذہن میں کھٹکتی ہے کہ جیسا کہ پاکستان میں اوپنرز کی ناکامی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور انتظامیہ نے اس کے حل کیلئے کئی مڈل آرڈر بیٹسمینوں کو زبردستی اوپنر بنایا مگر کوئی بھی اس میں کامیاب نہ ہوسکا ۔ہاں …البتہ اگر مصباح کو یہاں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جاتا تو ممکن ہے وہ اوپننگ کے مسئلے کا حل ثابت ہوتا مگرایسا”رسک“لینے کی کسی نے زحمت گوارا نہیں کی ۔2007 ء کا سال جہاں پاکستان کرکٹ کیلئے بھیانک سال ثابت ہوا وہیں یہ سال مصباح الحق کی خوشی بختی کی علامت بھی سمجھا جارہا ہے ۔یہ مصباح کی خوشی قسمتی ہے کہ وہ 33سال کی عمر میں محض 7ٹیسٹ میچوں کے تجربے کے ساتھ قومی ٹیم کا حصہ بننے میں کامیاب رہا اور اپنا انتخاب درست ثابت کردکھایا۔مصباح الحق کیلئے سب سے بڑے اعزاز کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے انضمام الحق پر فوقیت دیکر سنٹرل کنٹریکٹ سے نوازا گیا اور جب یوسف اور رزاق کو ڈراپ کرکے مصباح کو ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کیلئے روانہ کیا گیا تو سلیکٹرزکے اس فیصلے پر کافی لے دے ہوئی مگر نیازی پٹھان اس باریہ تہیہ کرکے جنوبی افریقہ پہنچا کہ وہ اپنی پرفارمنس سے ناقدین کے منہ بند کردیگا جس کا اس نے بھرپور ثبوت بھی پیش کیا یہ الگ بات ہے کہ وہ دومرتبہ بھارت کے خلاف ہاتھ سے نکلا ہوئے میچ دوبارہ اپنی دسترس میں لے آیا مگر شاید قسمت ا س پر مہربان نہ تھی اور دونوں بار قومی ٹیم کوروایتی حریف کے خلاف فتح دلانے میں ناکام رہا مگر عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف اس نے یہ ثابت کیا کہ بڑھتی ہوئی عمر اس کی کارکردگی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی اور وہ آج بھی اپنے ہمعصروں سے کئی گنا بہتربلے بازہے۔ٹونٹی ورلڈکپ میں مصباح الحق ایک کامیاب اور مستند بلے باز کے روپ میں نظر آیا جو مشکل وقت میں اپنی ٹیم کو سہارا فراہم کرکے جیت کیلئے راہیں آسان کرتا ہے مصباح اب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی بھی ضرورت بن چکاہے جہاں اسے انضمام الحق کا متبادل سمجھا جارہا ہے ۔مصباح نے ٹیم میں اپنی جگہ تو پکی کرلی ہے مگر انضمام جیسے عظیم بیٹسمین کے متبادل کی حیثیت سے کھیلنے کا پریشرہمیشہ اس کے سر پر رہے گا۔مصباح الحق اب عمر کے اس حصے کو چھو رہا ہے جس کو قومی سلیکٹرز ”برداشت“نہیں کرتے ۔لہذا اب مصباح کے پاس خود کوعالمی سکرین پر برقرار رکھنے کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ دوگنی محنت کرکے اور مستقل پرفارمنس دیکر مزید دو سے تین سال تک پاکستانی ٹیم کا مستقل حصہ بنا رہے بصورت دیگر اس کا ”بوڑھا“پن اس کی ٹیم سے انخلاء کی سب سے بڑی وجہ بن سکتا ہے۔امید ہے مصباح الحق اپنی پرفارمنس کے سلسلے کو برقرا ر رکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں پاکستان کی فتوحات میں اپنا کردار ادا کرتا رہیگا۔