اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیمیں آج دوسرے ایک روزہ میچ میں لاہور میں مدمقابل آرہی ہیں ۔ٹیسٹ سیریز میں ایک صفر کی شکست کھانے کے بعد پاکستانی ٹیم پانچ ون ڈے میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں 45رنز سے شکست کھاکر سیریز میں ایک صفر کے خسارے میں چلی گئی ہے۔پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کی جانب سے ہرشل گبز اور اے بی ڈی ویلیئرز نے شاندار سنچریاں سکور کیں جبکہ بولنگ میں نٹینی نے ابتدائی دس اوورز میں پاکستانی ٹاپ آرڈر بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی۔نٹینی کی حاصل کردہ ابتدائی چار وکٹوں کی بدولت پاکستان کو دفاعی حکمت عملی اختیار کرنا پڑی جس سے رن ریٹ اوسط پاکستانی بلے بازوں کی دسترس سے دور چلی گئی تاہم آخری اوورز میں شاہد آفریدی نے تابڑتوڑ بلے بازی کا مظاہرہ کرکے پاکستانی بولرز اور ساتھی بیٹسمینوں کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی جہاں وہ محض 26گیندوں پر 47رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تب میچ پاکستان کی گرفت سے نکل چکا تھا یوں پاکستان کو سیریز کے پہلے میچ میں 45رنز کی شکست کا سامنا کرناپڑا جس سے قومی ٹیم کی کارکردگی اور ناقص حکمت عملی کا پول کھل گیا ۔ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا فائنل کھیلنے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ قومی ٹیم اب شکستوں کے بھنور سے نکل آئے گی تاہم یہ اندازہ اس وقت غلط ثابت ہوا جب جنوبی افریقہ نے کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کو بھاری مار جن سے شکست دیدی ۔کراچی ٹیسٹ ہارنے کے بعد لاہور ٹیسٹ میں انضمام الحق اور محمد یوسف کی واپسی ہوئی تاہم اس بار بھی قومی ٹیم جنوبی افریقہ کو شکست دینے میں ناکام رہی ۔ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک اور ٹیم منیجر طلعت سمیت کوچ جیف لاسن کا بھی کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے زیادہ ترکھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کا تجربہ نہیں رکھتے ون ڈے سیریز میں ٹیسٹ سیریز کی شکست کا ازالہ کیا جائیگا تاہم جب لاہور میں پہلا ایک روزہ میچ شروع ہوا تو پاکستانی بولرز نے حریف ٹیم کے دوکھلاڑیوں کو سنچریاں سکورکرنے کا نہ صرف موقع فراہم کیا بلکہ سکور بورڈ پر 294رنز کا مجموعہ سجانے میں بھی مدد کی ۔جواب میں ہمیشہ کی طرح قومی اوپنر زتوقعات پر پورا نہ اترسکے اور دیگر بیٹسمینوں نے بھی غیرمتاثر کھیل پیش کیا جس کا نتیجہ پاکستان کو ملنے والی 45رنز کی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ایک بار پھر قومی ٹیم کے کپتان سمیت دیگر کرتا دھرتا یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ بقیہ میچز میں حریف ٹیم کو شکست دیں گے ۔کپتان سمیت ٹیم انتظامیہ سے التماس ہے کہ وہ بات کیا کریں جووہ کہتے ہوئے بھی اچھے لگیں ۔ البتہ بجائے یہ کہنا کہ ہم بقیہ میچز جیتیں گے اگر اپنی کمزریوں پر قابوپایا جائے اور انوکھے فیصلوں سے گریز کیا جائے تو ممکن ہے پاکستان بقیہ میچز جیت سکتا ہے مگر خالی بڑھکیں مارنے سے کچھ نہیں ہوگا۔کس قدر افسوس کی بات ہے حریف کپتان گریم سمتھ نے یہ پوائنٹ آؤٹ کیا کہ ”شاہد آفریدی کو آٹھویں نمبر پر بھیجنے کی انہیں سمجھ نہیں آئی“ سمتھ کہتے ہیں کہ ”اس بات میں کوئی شک نہیں آفریدی ایک میچ ونر بیٹسمین ہے“اگر اسے کچھ دیر پہلے اوپربھیجا جاتا تو شاید ہم اتنی آسانی سے یہ میچ نہ جیت پاتے“ یہ تھے حریف کپتان کے الفاظ ۔مگر پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کو شاید آج تک اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ شاہد آفریدی میچ ونر کھلاڑی ہے یا نہیں۔اگر ٹیم انتظامیہ کو اس بات کا علم ہوتا تو ممکن ہے اتنے بڑے ٹارگٹ کا تعاقب کرتے ہوئے جہاں ابتدائی بلے باز بھی جلدواپس لوٹے گئے تھے ضرورشاہد آفریدی کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاتا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج تک ضرورت کے وقت کبھی بھی شاہد آفریدی کے جارح مزاجی کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔جب سے وہ نچلے نمبر پر کھیلنا شروع ہواہے اُسے اُس وقت بیٹنگ کیلئے بھیجا جاتا ہے جب پانی سر سے اوپر گزر چکا ہوتا ہے ایسے میں وہ آتے ہی مار دھاڑ شروع کردیتا ہے جہاں وہ بھرپور کوشش کرنے کے باوجود بھی ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہیں کراسکتا ۔یہ بات تسلیم کرلینے میں کوئی قباحت نہیں کہ شاہد آفریدی پر اعتبار کرنا ایک بہت بڑا رسک ہوتا ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کرکٹ میں وہ ٹیم کامیاب ہوتی ہے جو موقع کی مناسبت سے رسک لینے میں ذرا بھر بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتی تاہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ ہمیشہ چاہے بہت بڑا مفاد ہی کیوں نہ ہوں رسک لینے میں گھبراہٹ کا شکار ہوتی ہے اور اگر کبھی لیا بھی جاتا ہے تو ہمیشہ عجیب وغریب فیصلہ کیا جاتا ہے جس کا نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے۔اس تمام صورت حال میں کپتان کا اہل اور شاطر ہونا بہت ضروری ہوتاہے مگر اسے آپ پاکستان کرکٹ کی بدقسمتی کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان اور وسیم اکرم کے بعد پاکستان کو کوئی دلیر اور حوصلہ مند کپتان نہیں ملا سکا جس کی بدولت یہ سب صورت حال پیش آرہی ہیں۔