اعجاز وسیم باکھری:
پاکستا ن نے پانچ میچوں کی سیریز کے دوسرے ایک روزہ میچ میں جنوبی افریقہ کو 25رنز سے شکست دیکر سیریز برابر کردی ہے۔پاکستان کی جیت میں سٹار بیٹسمین محمد یوسف کی شاندار سنچری کا اہم کردار رہا۔ جہاں انہوں نے9چوکوں کی مدد سے 117رنز بنائے۔پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے جنوبی افریقہ کو میچ جیتنے کیلئے 266رنز ٹارگٹ دیا جواب میں جنوبی افریقی ٹیم 240رنز پر ڈھیر ہوگئی ۔پاکستان کی جانب سے عمرگل اور راؤ افتخار نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔
ادھر دوسری جانب پانچواں اور آخری ون ڈے میچ کے بارے میں سننے میں آیا ہے کہ میچ کو سیکورٹی کی وجہ سے لاہور میں منتقل کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں سیکورٹی خدشات اور کشیدگی کے پیش نظر پانچواں ون ڈے جو29اکتوبر کو نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی میں کھیلا جانا تھا اسے لاہور میں منتقل کئے جانے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔اگرچہ جنوبی افریقہ ٹیم منیجر ایک روز قبل پریس کانفر نس میں کہہ چکے ہیں کہ سیریز شیڈول کے مطابق ہو گی لیکن دوسری جانب یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ یہ میچ لاہور منتقل کیا جائے گا۔یقینا کراچی کے شائقین کیلئے یہ خبر دکھ سے کم نہیں ہے تاہم اس بارے میں تاحال کی کسی نے تردید یا تصدیق نہیں کی۔
پاکستان کی دوسر ے ون ڈے میچ میں فتح خوش آئند ضرورہے مگر اس تسلسل کو جاری رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔بدقسمتی سے ایک بار پھر پاکستانی اوپنر ز توقعات پر پورا نہیں اتر سکے ۔دوسرے میچ میں ٹیم مینجمنٹ نے محمد حفیظ کو ڈراپ کرکے کامران اکمل سے اوپننگ کرائی ، جو کہ مکمل طور پر ناکام رہے اورصفر کی خفت سے دوچار ہوکر کپتان شعیب ملک کے پہلو میں جابیٹھے ۔شاہد آفریدی کو ایک بار پھر ایسے موقع پر بیٹنگ کیلئے بھیجا گیا جب پاکستانی اننگز کے ختم ہونے میں محض 5اوورز باقی بچے تھے ایسی صورت حال میں جارح مزاج بلے باز نے آتے ہی سٹروک کھیلنا شروع کردیے اور ایک ہی چھکا لگانے کے بعد واپس لوٹے گئے۔محمد یوسف کی بیٹنگ فارم میں واپس آنا یقینا پاکستانی ٹیم کیلئے خوش آئندبات ہے کیونکہ اس وقت محمد یوسف ہی پاکستانی ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں کپتان شعیب ملک نے بھی مشکل حالات میں متاثر کن کھیل پیش کیا۔ اگرچہ پاکستان نے فیلڈنگ ناقص کارکردگی دکھائی اور باؤلنگ میں ضرورت سے زیادہ فاضل رنز دیے لیکن یہ محمد یوسف کی شاندار بیٹنگ تھی جس نے قومی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا پاکستانی فیلڈروں سے اہم موقعوں پرکئی قیمتی کیچ ڈراپ ہوئے اور سب سے اہم مسئلہ اوپنروں کی ناکامی کا ہے جو جوں توں ہے کامران اکمل کو اوپننگ کرانے کی سمجھ نہیں آئی ۔بولنگ میں عمر گل اور راؤ افتخارنے متاثر کن کھیل پیش کیا تاہم شعیب اختر اور محمد آصف کی کمی نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ قومی سلیکٹرز ہوم سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو مواقع کیوں نہیں دیتے ۔پوری دنیا میں جب بھی کوئی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیل رہی ہوتی ہے تو وہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع فراہم کرتی ہے جبکہ پاکستان ایسا واحد ملک ہے جہاں بیرون ملک میں نوجوان کھلاڑیوں کوآزمایا جاتا ہے۔جیسا کہ شعیب اختر اور محمد آصف ٹیم سے باہر ہیں سلیکٹرز کو چاہیے تھا کہ وہ محمد خلیل ،نجف شاہ اور محمد ارشاد کوٹیم میں شامل کرتے کیونکہ پاکستان کا اگلا دورہ بھارت کا ہے اگر خدا نخواستہ بڑے بولرز زخمی ہوجاتے ہیں تو ٹیم کیلئے مشکلات بڑجائیں گی۔مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سلیکٹرز کو پتہ نہیں اس بات کا احساس کیوں نہیں ہے اور یہ کھلاڑی نہ صرف ضائع ہورہے ہیں بلکہ موجودہ ٹیم بھی مشکلات کا شکار ہے۔محمد ارشاد کو شعیب اختر کے بعد پاکستان کا سب سے تیزترین بولر سمجھاجاتا ہے مگر سلیکٹرز نے ہمیشہ اس سے ناروا سلوک کیا اور پچھلے تین سال سے اس کھلاڑی سے تسلسل کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ۔کئی بار ایسے مواقع بھی آئے جب ارشاد کو ٹیم میں شامل کرنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔دوسری جانب ان فٹ محمد آصف کو ٹیم میں رکھنے کی سمجھ نہیں آئی اگر وہ ان فٹ ہے تو ٹیم میں اسے ساتھ رہنے سے ایک فٹ کھلاڑی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے بہتر ہوتا کہ کسی ایسے کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کیا جاتا جو کہ مکمل طور پر فٹ ہوتا اور ضرورت پڑنے پر ٹیم کی نمائندگی کرتا لیکن ہمارے ہاں چونکہ ہمیشہ جب بھی رسک لیا جاتا ہے منفی پہلوکی بنیاد پر لیا جاتا ہے جس میں اکثر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بغیر کسی وجہ کے ایک فٹ کھلاڑی کو ناجائز طور پر میچ فیس دلوائی جا رہی ہے اگر یہاں پر ارشاد ،خلیل یا نجف شاہ کو ٹیم میں رکھا جاتا تو ممکن ہے یہ کھلاڑی موقع کا بھر پور فائدہ اٹھاتے۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرا ون ڈے میچ فیصل آباد میں کھیلا جانا ہے جو کہ دونوں ٹیموں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔دوسری جانب کراچی میں بم دھماکوں کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان سیریز کا آخری ون ڈے لاہور منتقل کیے جانے کے صلاح و مشورے کیے جارہے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں کرکٹ بورڈاور حکومت سند ھ کو چاہیے کہ وہ سیکورٹی سخت ترین انتظاما ت کرکے کراچی میں ہر صورت و ن ڈے میچ کا انعقاد یقینی بنائے اگر خدانخواستہ کراچی سے میچ کو منتقل کردیا گیا تو ایک بار پھر دنیا بھر میں کراچی غیر محفوظ شہر سمجھا جانے لگے لگا ۔