UrduPoint Sports

كھیل >> کرکٹ >> مضامین >> ٹیل اینڈرز نے جیتی ہوئی بساط الٹا دی ،جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز بھی جیت گیا

اعجاز وسیم باکھری:
کیا ہر بار ہم یوں ہی جیتی ہوئی بازی ہارتے رہیں گے…؟یہ الفاظ قذافی سٹیڈیم کے میڈیا سنٹر میں موجودمیرے ایک دوست سپورٹس رپورٹر نے پاکستان کی شکست کے فوری بعد اداسی کے عالم میں ادا کیے تو میں نے آنکھیں چراتے ہوئے سٹیڈیم سے گھروں کو لوٹنے والے شائقین کی جانب دیکھا تو یوں محسوس ہوا کہ ہرشخص ایک ہی سوال دہرا رہا ہے کہ” آخرکب تک ہم یوں جیتی ہوئی بساط الٹاتے رہیں گے” تو میرے لیے اس بات کا جواب دینا ناممکن ہوگیا۔40ہزار شائقین کے چہروں پر چھائی اداسی سے یہ تاثر واضح طور پر مل رہا تھا کہ ہر بار اہم معرکہ میں شکست کھانے سے اب پاکستانی قوم بھی اکتا چکی ہے۔لوگوں کی اداسی بجا ہے کیونکہ فیصلہ کن ون ڈے میں جس طرح پاکستان کو غیر متوقع شکست ملی اس کی میں بھی توقع نہیں کررہا تھا کیونکہ پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے آخری 10اوورز میں محض 36رنز درکار تھے اور چھ وکٹیں باقی تھیں تو ہم جنوبی افریقہ کو پہلی بار ون ڈے سیریز میں شکست دیکر نئی تاریخ رقم کرنے کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے لیکن پاکستانی بلے بازوں نے ہماری اس خواہش اور توقع کی بھر پورانداز میں نفی کرتے ہوئے اپنی روایات کو برقرار رکھا۔ چلیں بھارت کے خلاف شکست کو تو مان لیتے ہیں کہ بڑا میچ تھا اور ٹیم اچھا بھی کھیلی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف اتنا اچھا کھیلنے کے بعدہار جانا یقینا پاکستانی شائقین کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے لیکن ہر بار اہم میچ میں شکست کھانا برادشت نہیں ہوتا ۔میں کیسے شعیب ملک کی اس بات سے اتفاق کرلوں کہ ”ہم ہارنے کے باوجود بھی اچھے کھیلے”ان سے اس بات کا جواب طلب کرنا چاہیے کہ ہم ہر بار اچھا تو کھیلتے ہیں لیکن جیت پھر بھی نہیں پاتے اس تو سو بہترہے کہ برا کھیل کر جیتا جائے ۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آخری 6بلے باز محض 20رنز کے عوض اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی یہ اب روایات بنتی جارہی ہے کہ ابتدا میں اچھا کھیلا جب فتح کے نزدیک آئے تو لڑکھڑا کر نیچے گر پڑے۔ بھارت کے خلاف ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا فائنل اور لاہور میں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے فائنل میں پاکستان کی شکست کا طریقہ وردات ایک ہی ہے۔دونوں بار میچ کو پہلے اپنے حق میں لایا گیا اور آخری میں شکست کو گلے سے لگایاگیا۔ اس سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ ٹیم میں کسی اچھے منصوبہ ساز شخص بہت بڑی کمی ہے جو اہم موقع پر چاہے کپتا ن کے روپ میں ہویا کوچ و منیجرکی شکل میں پاکستانی ٹیم کو ایک منصوبہ ساز شخص کی اشد ضرورت ہے جو مناسب وقت پر بروقت فیصلہ کرسکے ۔بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے پاکستان کرکٹ ٹیم پر انگریزی کوچ مسلط چلے آرہے ہیں جن سے ہمارے کھلاڑی فائدہ اٹھانے میں ناکام ہیں کیونکہ کپتان سمیت بیشتر کھلاڑی انگریزی زبان سے ناآشنا ہیں لہذا اسی لیے قومی ٹیم ہر بار کسی اہم اور بڑے میچ میں ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آخری لمحات میں مات کھاجاتی ہے جس سے پاکستانی شائقین مکمل طور پر مایوس ہوچکے ہیں۔کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جہاں آپ کو ہر بال کے بعد ایک نئی صورت حال کا سامنا کرناپڑتا ہے اور ہربدلتے لمحے کے ساتھ اپنی سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا کرنا ہوتی ہے گو کہ پاکستان اور بھارت نے ٹونٹی ٹوٹنی کرکٹ ورلڈکپ کا فائنل کھیلا لیکن اصل کرکٹ ٹیسٹ کرکٹ ہے اور حقیقی جنگ ون ڈے کرکٹ میں ہوتی جس میں بھارت آسٹریلیا اور پاکستان جنوبی افریقہ سے مات کھاگیا جس سے یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ اب بھی پاکستان اور بھارت آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔
لیکن بہرحال پاکستان کو ٹیسٹ اور ایک روزہ سیریز میں شکست ضرور ہوئی ہے لیکن ٹیم کو دورہ بھارت کے کیلئے نہ صرف بہترین تیاری ملی بلکہ اپنی غلطیاں ،خامیاں اور صلاحیت جانچنے کا بہترین موقع بھی ملا اس بات کی امید کی جاسکتی ہے قومی ٹیم دورہ بھارت میں جنوبی افریقہ کے خلاف دونوں سیریز میں ملنے والی شکست سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر میدان میں اترے گی اور یہاں کی گئی غلطیوں کو نہ دہرانے کی بجائے کرنے سے ہی اجتناب کیا جائیگا۔قومی ٹیم کیلئے یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ٹیم کے تینوں اہم کھلاڑی اس وقت بھر پور فارم میں ہیں محمد یوسف اور یونس خان نے ہوم سیریز میں کمال پرفارمنس دی اور شعیب اختر نے ایک ہی میچ کھیل کر تمام لوگوں کو اپنے بارے میں نہ صرف رائے بدلنے پر مجبور کردیا بلکہ اب تو ہر طرف سے شعیب کے بارے میں تعریفی کلمات سننے کومل رہے ہیں۔سپیڈسٹار نے 13ماہ کرکٹ سے دور رہنے کے بعد لاہور قذافی سٹیڈیم میں واپسی کی اور اپنی واپسی کو یادگار بنا دیا۔پہلے ہی اوور کی تیسری گیندپر حریف کپتان کو بولڈکرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور آگے چل کر چار وکٹیں حاصل کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ شعیب اختر آج بھی دنیا کا بہترین بولر ہے جواپنی ٹیم کیلئے مزید کئی برس کامیابیاں سمیٹنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے۔قومی ٹیم کا اگلا پڑاؤ روایتی حریف بھارت کے خلاف اس کے گھر میں ہے جس کیلئے پاکستانی دستہ اگلے دوروز میں بارڈر کراس کرجائیگا ۔میرے خیال میں شعیب ملک الیون کو ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ اور جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں جتنے بھی تلخ تجربات ہوئے ہیں اس کا دورہ بھارت میں بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے اور بھارتی سرزمین پر اپنی فتوحات کے سلسلے کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ناقابل ترید حقیقت ہے کہ پاکستانی شائقین قومی ٹیم کی ہربار اہم معرکے میں شکست سے بالکل اداس اور مایوس ہوچکے ہیں لہذا شعیب ملک الیون کیلئے اب یہ قرض ایک فرض بن چکا ہے کہ بھارت کو اس کی سرزمین پر ہرا کر اپنے تمام داغ دھوڈالنے چاہیں تاکہ پاکستانی شائقین کے چہروں پر رونق لوٹ سکے ۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.