اعجاز وسیم باکھری:
دہلی میں جاری پاکستان اور بھارت کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم اس وقت مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہے تیسرے روز کھیل ختم ہونے پر پاکستا ن نے 167رنز کی لیڈ حاصل کرلی تھی اور اس کی پانچ وکٹیں باقی تھیں۔وکٹ پر اس وقت مصباح الحق اور کامران اکمل موجود ہیں اور دونوں کے درمیان 50رنز سے زائد سکور کی پارٹنرشپ قائم ہوچکی ہے اور یہی وہ دونوں بیٹسمین ہیں جو پاکستان کو مشکلات سے نکال کر بہترین پوزیشن میں لے جاسکتے ہیں ۔کامران اکمل ایک طویل عرصے سے آؤٹ آف فارم چلے آرہے ہیں تاہم مصباح الحق نے پہلی اننگز میں بھی شاندار بیٹنگ کی تھی اور ایک مرتبہ پھر وہ امیدوں کے محور بن چکے ہیں۔کل صبح بھارت نے 228رنز 6کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے پر اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو بہت جلدپاکستانی بولرز نے ٹیل اینڈرز کے صفایا کردیا بھارت نے اپنی پہلی اننگز میں پاکستان کے خلاف 45رنز کی برتری حاصل کی ۔جواب میں پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز انتہائی محتاط انداز میں کیا ۔سلمان بٹ اور یاسر حمید کے درمیان پہلی وکٹ کی شراکت میں 71رنز بنے یاسر حمید نے 36رنز بنائے اور سلمان بٹ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 67رنز کی قابل تعریف اننگز کھیلی۔اوپنر ز کی جانب سے بہترین آغاز فراہم کرنے کے باوجود پاکستانی مڈل آرڈر بیٹسمین بری طرح ناکام ہوئے یونس خان نے 23محمد یوسف نے 18اور کپتان شعیب ملک 11رنز پر واپس لوٹ گئے جس میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔پاکستان کے آؤٹ ہونے والے پانچوں بلے باز سپنر زکی گیند وں پر آؤٹ ہوئے۔پاکستان کی دوسری اننگز میں تین وکٹیں انیل کمبلے اوردو ہربھجن سنگھ کے حصے میں آئیں۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کرکٹ ایک غیر یقینی کا کھیل ہے کسی بھی وقت کسی ٹیم کی پوزیشن بہترہونے میں دیر نہیں لگتی اور چند ہی لمحوں میں کوئی ٹیم بیک فٹ پر جاسکتی ہے۔پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے بہت بڑے حریف ہیں اور دونوں ممالک کی عوام کرکٹ کی دلدادہ ہے۔ پاکستانی ٹیم ان دنوں بھارت کے دورے پر ہے ون ڈے سیریز میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ دہلی کے فیروزشاہ کوٹلہ کرکٹ سٹیڈیم میں جاری ہے۔دہلی ٹیسٹ میچ کے پہلے روز پاکستانی بلے بازوں نے ناقص کھیل پیش کرکے اپنی ٹیم کیلئے مشکلات کھڑی کرلی تھیں جبکہ دوسرے روز شعیب اختر اور سہیل تنویر نے ٹاپ بھارتی بیٹسمینوں کو ٹھکانے لگا کر پاکستان کو میچ میں واپس لے آئے اور کل تیسرے روز بھی شائقین کو کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھنے کوملا۔پاکستانی اوپنرز نے بہترین کھیل پیش کرکے اپنی پوزیشن مضبوط کرلی تھی تاہم اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر بلے باز اپنے سے وابستہ توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور ایک بار پھر پاکستانی ٹیم مشکلات میں پھنس گئی لیکن شام کے آخری سیشن میں مصباح الحق اور کامران اکمل نے بھارتی سپنر ز کا ڈٹ کرمقابلہ کیا اور 50رنز سے زائد سکور کی پارٹنرشپ قائم کر کے ایک بار پھر پاکستانی امیدوں جگا دیا یہی صورت حال،غیر یقینی سی کیفیت اور اتار چڑھاؤ ٹیسٹ کرکٹ کا اصل حسن ہیں جس نے آج کل کے جدید دور میں جہاں ون ڈے کے بعد ٹونٹی ٹوٹنی کرکٹ بھی شائقین کو اپنے سحر میں مبتلا کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ اپنی اصل شکل کے ساتھ موجود ہے ۔اور یہی کرکٹ کی اصل روح اور ہر لمحے بدلتی صورتحال ٹیسٹ کرکٹ کی اصل پہچان ہے۔یہاں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہلی ٹیس ٹ میں پاکستان اور بھارت نے ایک ایک اننگز کھیل لی ہے دوسری اننگز میں پاکستان کے پانچ اہم بیٹسمین بھی پویلین لوٹ چکے ہیں لیکن میچ کی واضح صورتحال ابھی تک سامنے نہیں آسکی کہ کونسی ٹیم اس میں فتح حاصل کرے گی۔
دہلی ٹیسٹ کے تیسرے روز کے آخری سیشن میں ایک چیز جس نے تمام لوگوں کو اپنے جانب متوجہ کیا ہے وہ سپنرز کو ملتی ہوئی سپورٹ ہے کمبلے اور ہربجھن نے ملکر پانچ پاکستانی بلے بازوں کو واپسی کی راہ دکھائی جیسے جیسے وکٹ سپن ہوتی جارہی ہے اسی طرح بیٹنگ بھی آسان ہوتی جارہی ہے آج چوتھا دن دونوں ٹیموں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔پاکستانی ٹیم اس وقت کچھ مشکلات میں ہے کیونکہ 167رنز کی برتری موجودہ صورتحال میں معمولی سی برتری ہے تاہم مصباح الحق اور کامران اکمل وکٹ پر موجود ہیں اورآ نے والے بیٹسمینوں میں محمدسمیع اور سہیل تنویر بھی سکور کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔میرے خیال میں پاکستان نے اگر بھارت کو تین سو رنز کے قریب ٹارگٹ دیدیاتو میچ جیتا جاسکتا ہے تاہم یہ اس وقت ممکن ہے جب بقیہ پانچ بیٹسمین ذمہ داری سے کھیلیں گے ۔جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے پاکستانی بولرز شعیب اختر اور دانش کنیریا کی ذمہ داری بڑھتی جارہی ہے کیونکہ وکٹ کی موجودہ کنڈیشن بیٹسمینوں کیلئے سازگار محسوس ہورہی ہے اور چوتھی اننگز میں بیٹنگ اور آسان ہوجائے گی تاہم پرانی بال کے ساتھ سپنر ز اور نئی بال کے ساتھ شعیب اختر وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں فتح یاب کراسکتے ہیں۔