گفتگو۔اعجاز وسیم باکھری:
محمد حفیظ قومی کرکٹ ٹیم میں ایک طویل عرصہ اوپنر کی حیثیت سے کھیلتے رہے ہیں اورنئی بال کے ساتھ اٹیک کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور آف سپن گیند سے وہ اپنے کپتان کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے ہمہ وقت کوشا ں نظر آئے۔گزشتہ کئی ماہ سے وہ قومی ٹیم میں نظر نہیں آرہے ہیں تاہم آئی پی ایل میں جلوہ گر ہوکر حفیظ نے اپنی کرکٹ سے وابستگی کا احساس دلایا۔شاہ رخ خان نے ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز میں محمد حفیظ نے آٹھ میچز میں حصہ لیا اور انہیں کھیلنے کیلئے 83گیندمیں ملیں جہاں حفیظ نے 7چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے 64رنز بنائے ۔بولنگ میں محمد حفیظ نے 8میچز کی چار اننگز میں 10اووروں میں 68رنز کے عوض 2وکٹیں حاصل کیں اور ان کا اکانومی ریٹ 6.80رہا۔گزشتہ روز قذافی سٹیڈیم میں”اُردوپوائنٹ“ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے محمد حفیظ کے سامنے جب ان کی کارکردگی کا گراف رکھا گیا تو حفیظ کا کہنا تھا کہ انہیں دوسرے پاکستانی کھلاڑیوں کی طرح مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا کبھی اوپنر بھیجا گیا اور کبھی چھٹے نمبر پر ۔ جس سے ان کی کارکردگی زیادہ اچھی نہ رہی اور میں نے جو بھی کرنے کی کوشش کی اس میں کامیاب نہیں ہوسکامثال کے طور پر میں بیٹنگ میں جو کچھ سوچ کے جاتا تھا بدقسمتی سے وہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا بولنگ میں بھی میں اپنی کارکردگی سے خوش نہیں ہوں۔ تاہم اس کے باوجود محمد حفیظ کہتے ہیں کہ آئی پی ایل کھیلنے کا تجربہ شاندار رہا اور وہ آئی پی ایل سے کافی کچھ سیکھنے میں کامیاب رہے۔ایک سوال کے جواب میں محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلنے کے بعد کھلاڑیوں میں مزاج میں تبدیلی ضرور آئے گی کیونکہ ہمیشہ ٹیسٹ میچز کے بعد بلے باز کا مزاج تھوڑا بدلا ہوتا ہے اور ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی مار دھاڑ کے بعد یہ چیز ٹیسٹ کرکٹ میں بھی دیکھنے کو ملے گی تاہم بہت زیادہ تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔ ٹونٹی ٹونٹی بیٹسمینوں کا کھیل ہے یا باؤلرز کا کے سوال کے جواب میں محمد حفیظ کہتے ہیں کہ ٹونٹی کرکٹ میں بیٹسمینوں اور باؤلرزوں کی آپس میں ایک طرح کی جنگ ہوتی ہے اور کم گیندوں پر زیادہ سکور کرنے پڑتے ہیں لہذا بیٹسمینوں کو بھی ٹونٹی کرکٹ کی وجہ سے کم گیندوں پر زیادہ سکور حاصل کرنے کی عادت پڑے گی اور باؤلرز بھی چار اوورز میں نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کرکے کفایت شعاری میں مہارت حاصل کرینگے۔محمد حفیظ نے مزید بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ انہیں بنگلہ دیش اور زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں کیوں باہر رکھا گیا حالانکہ میں نے ڈومسیٹک کرکٹ میں بھی رنز کیے تاہم میں دوبارہ واپس آنے کیلئے پرعزم ہوں ۔حفیظ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا مقصد محض ٹیم میں واپسی کو بنا رکھا ہے جس کیلئے وہ بھرپور پریکٹس کررہے ہیں اور میرا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے اور میں کسی کی متبادل ہوں اور نہ ہی میرا کو متبادل ہے۔محمد حفیظ نے کہاکہ میرا فرض محض محنت کرنا ہے ٹیم میں واپس آنا اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔
17اکتوبر1980ء کو جنم لینے والے محمد حفیظ نے دائیں ہاتھ کے بیٹسمین اور آف بریک بالر کی حیثیت سے 1998ء کے اوائل میں سرگودھا کی جانب سے اپنے ڈومیسٹک کیریئر کا آغاز کیا۔ عالمی کپ 2003ء کے بعد قومی ٹیم سے کئی سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کر دیا گیا تو نئے آنے والوں کھلاڑیوں میں ایک نام محمد حفیظ بھی تھا جسے پاکستان کیلئے اتنی جلدی کھیلنے کی توقع ہر گز نہ تھی۔ اپنے کیریئر کے آغاز میں شارجہ کپ کے دوران 4 میچوں میں اس نے ایک نصف سنچری سمیت 100 رنز اسکور کئے اور پانچ وکٹ لے کر اپنے انتخاب کو کسی حد تک درست ثابت کیا۔تاہم حفیظ پر ہمیشہ یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ سست روی سے بیٹنگ کرنے والہ ایک ایسا اوپنر ہے جو اپنی ہی ٹیم کیلئے مشکلات پیدا کرتا ہے ،اس بارے میں محمد حفیظ کہتے ہیں کہ میں سست کھلاڑی نہیں ہوں بلکہ میں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تمام عرصہ بالروں پر حکمرانی کی ہے اور فاسٹ بالنگ پر آزادانہ سٹروک کھیلے ہیں۔ مگر جب میں قومی ٹیم میں گیا تو وہاں ضرورت یہ تھی کہ وکٹ پر قیام کرنا تھا جو کہ میں نے کیا۔ مجھے خاص ہدایت کی جاتی تھی کہ 15 اوورز حفیظ نے گزارنے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ٹیم کی حکمت عملی کے اعتبار سے آپ اپنی مرضی نہیں چلا سکتے۔ کپتان اور کوچ آپ کو منصوبہ بندی سے آگاہ کرتے ہیں اور آپ کو ان پر عمل کرنا ہوتا ہے اور اس کے علاوہ پاکستانی اوپننگ جوڑی طویل عرصے سے نکال چلی آرہی تھی لہذ ا میں ٹیم کے پلان کے مطابق ہی اسی انداز میں کھیلا اور مجھے خود بھی اس بات کا علم تھا کہ میں سست روی سے کھیل رہا ہوں لیکن چونکہ ٹیم کی ضرورت یہ تھی کہ وکٹیں بچائی جائیں۔اس وجہ سے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ میں سستی سے کھیلتا ہوں حالانکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں میرا اسٹرائیک ریٹ کافی بہتر ہے۔