گفتگو :اعجا ز وسیم باکھری:
قومی ہاکی ٹیم کے نو منتخب نائب کپتان محمد عمران کا کہنا ہے کہ وہ دن اب دور نہیں جب پاکستان ہاکی ٹیم ایک بار پھر فتح کے ٹریک پر آجائے گی”اُردوپوائنٹ“کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد عمران نے کہاکہ ماضی میں نہ صرف کھلاڑیوں سے بہت غلطیاں سرزد ہوئیں بلکہ بعض مواقعوں پر فیڈریشن نے بھی حالات کے مطابق فیصلے نہیں کیے جس سے قومی ٹیم کی شکستوں سے سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا مگر اب نہ صرف فیڈریشن میں بیٹھے لوگ ہاکی کی ترقی کیلئے فکر مند ہیں بلکہ کھلاڑیوں میں بھی ایک جذبہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔دورہ چین کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے محمد عمران کا کہنا تھا کہ چین کے خلاف متعدد فیصلے پاکستان کے خلاف چلے گئے جس سے قومی ٹیم کوشکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم انہوں نے اس بات پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین کے خلاف سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں کے درمیان زبردست انڈرسٹیڈنگ رہی جو اذلان شاہ کپ اور دورہ یورپ میں مفید ثابت ہوگی تاہم انہوں نے کہاکہ ہمارا اصل ٹارگٹ اولمپکس ہے جس کیلئے بھر پور تیاری کی جارہی ہے اور انہوں نے کہا کہ میں دلی خواہش ہے کہ پاکستان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کر ے ۔ ذیشان اشرف کے نائب منتخب ہونے والے فل بیک محمد عمران نے کہا کہ محمد ثقلین اور ریحان بٹ کی واپسی سے پاکستانی ٹیم مضبوط ہوگئی ہے اور ہمارا کوچز کا پینل زبردست لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے کھلاڑیوں کو ذہنی طو رپر مضبوط کرنے کیلئے انتھک محنت کی ہے۔محمد عمران نے مزید بتایا کہ ان کا اصل ٹارگٹ پاکستان کو اولمپکس میں سرخروکرانا ہے اولمپکس سے قبل دورہ یورپ کے ساتھ ساتھ اذلان شاہ کپ میں حصہ لینے سے قومی ٹیم کو اولمپکس سے پہلے اپنی غلطیوں کو پرکھنے کا موقع ملے گا۔نئے کپتان ذیشان اشرف کے بارے میں محمد عمران نے کہا کہ وہ انتہائی تجربہ کار اور سینئر کھلاڑی ہیں چین کے خلاف ہونے والے پانچ ٹیسٹ میچز میں انہوں نے ٹیم کو عمدہ طریقے سے لیڈ کیا جس سے ان کی، انہوں نے کہاکہ قومی ٹیم میں اس وقت کوئی گروپ بندی نہیں ہے تمام کھلاڑیوں کی ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی انڈرسٹیڈنگ ہے اور سبھی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔چیمپئنزٹرافی میں پاکستان کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد عمران کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بڑی ٹیموں کے خلاف عمدہ کھیل پیش کیا مگر آسان ٹیموں کے خلاف ہمارا گیم پلان کافی کمزور تھا جس کی وجہ سے پاکستان ملائیشیا کے خلاف شکست ہوئی۔
ایک سوال کے جواب میں محمد عمران نے کہاکہ اگر ملکی کوچ کوالیفائیڈ ہے تو وہ غیر ملکی کوچ کے مقابلے میں زیادہ مفید ہوتا ہے کیونکہ ہاکی اب بہت جدید ہوچکی ہے اوریہ اسپیشلسٹ اور کوالیفائیڈ کوچز کا دور ہے ہمیں پرانے سسٹم کو چھوڑ کر اپنی ہر چیز کو انٹر نیشنل معیار کے مطابق بنانا ہوگا، اب وقت آچکا ہے کہ ہمیں تمام سسٹم کو تبدیل کرکے نئے سرے سے ترتیب دینی چاہیے جن میں سکول کالج یونیورسٹی اور کلب ہاکی سے لیکر گراؤنڈز کی دوبارہ تیاری اور کھلاڑیوں کو مالی سہولتوں سمیت میڈیا میں ہاکی کی کوریج کو بڑھانے تک انقلابی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے جب ہم سسٹم میں تبدیلی لے آئیں گے اس وقت خود بخود پاکستان ہاکی بہتری کی شاہراہ پر چل پڑے گی۔ ہاکی کی گرتی ہوئی مقبولیت کے بارے میں محمد عمران کا کہنا تھاکہ ٹیم جب تک فتح حاصل نہیں کریگی لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کی جاسکتی ۔انہوں نے کرکٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپ کرکٹ ہی کو دیکھ لیں ٹیم جیت رہی ہے سبھی کرکٹ کے پیچھے پڑے ہیں جب ہاکی ٹیم جیتی تھی تب لوگ ہاکی کھیلتے تھے ۔ہاکی کی عوامی سطح پر عدم مقبولیت کے یہی اہم وجوہات ہے اگر میڈیا ہاکی سے سوتیلی ماں والا سلوک چھوڑ دیے تو ممکن ہے ہاکی بھی کرکٹ کی طرح مقبولیت حاصل کرسکتی ہے۔اپنی پرفارمنس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محمد عمران کا کہنا تھا کہ کیمپ میں میں نے بھرپور تیاری کی ہے اور میری پوری کوشش ہوگی کہ میں اپنے ٹیم کو زیادہ سے زیادہ کامیابیاں دلاؤں ۔نائب کپتانی کے بارے میں ”مانی “کا کہنا تھا کہ نائب کپتانی ملنے پر خوشی ہوئی ہے اور میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے ۔انہوں گراؤنڈز کی خستہ حالت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فیڈریشن کا قصور بھی نہیں ہے ۔جب ٹیم فتح کی راہ پرچل پڑے گی تو تمام چیزیں ازخود ٹھیک ہوجائیں گی۔ مگر اس وقت سب سے اہم چیز ٹیم کو کامیابیوں کی ضرورت ہے ۔کھلاڑیوں کی مالی حالت پر گفتگو کرتے ہوئے محمد عمران کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کی معاشی حالت کو بہترکرنے کیلئے اقدامات کرے اور اگر کوئی کھلاڑی فارغ اوقات میں لیگ ہاکی کھیلنے کیلئے جاتا ہے تو اسے بخوشی اجازت دے دینی چاہیے۔