UrduPoint Sports

كھیل >> انٹرویوز

گفتگو۔اعجازوسیم باکھری:
ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے لیکن حکومت کی عدم توجہ اور ہردور کی فیڈریشنز کی ذاتی پسند نا پسندکی پالیسی نے اس کھیل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے تاہم گزشتہ دوسالوں سے اس کی ترقی کیلئے ہنگامی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس وقت فیڈریشن سے جڑے ہرشخص کی ایک ہی کوشش ہے کہ پاکستان اولمپکس میں بہترکھیل پیش کرے۔دوسری جانب قومی ہاکی ٹیم بھی اولمپکس کیلئے بھرپور تیاریاں کررہی ہے،اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی فتح کا دارومدار ٹیم کی فارورڈ لائن اپ پر ہوگا جس میں شکیل عباسی ،ریحان بٹ ،اختر علی اور شفقت رسول جیسے نوجوان کھلاڑی شامل ہیں جبکہ کپتان دیشان اشرف ،محمد عمران اور سابق کپتان محمد ثقلین بھی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔شکیل عباسی کاشمار پاکستان ہاکی ٹیم کے انتہائی تجربہ کار اور جذبے سے سرشار کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنی ٹیم کی فتح کیلئے بھرپورکوشاں نظر آتے ہیں۔عباسی اپنی خوبصورت رننگ اور حریف کھلاڑیوں کو ڈاج دیکر دانستہ طور پر مخالف ڈی پر حملہ آور ہونے میں ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔شکیل عباسی پاکستان میں ہاکی کے کھیل کے زوال کے بارے میں کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ اگر حکومت قومی کھیل ہاکی کی سرپرستی نہیں کرسکتی تو اس پر پابندی عائد کرکے اسے ملک میں بھر میں بند کردینا چاہیے ،اگر حکومت ہاکی کے فروغ کیلئے سنجیدہ ہے تو پھر ایمانداری کے ساتھ فیڈریشن کو فنڈز مہیا کیے جائیں اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ورنہ سب سے بہترحل یہی ہے کہ اسے بند کردینا چاہیے۔’بیجنگ جانے سے قبل” اُردوپوائنٹ “کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے شکیل عباسی نے کہاکہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی اور ہاکی میں پاکستان نے تین ورلڈکپ بھی جیت رکھے ہیں لیکن ہرشخص نے کرکٹ کو سر پر اٹھایا ہوا ہے۔کرکٹ ٹیم اگر ہار کربھی آتی ہے توان کی بھر پورحوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اگر ہم جیت کر بھی لوٹیں تو کوئی شاباش دینے والا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ ہم بھی بھارت کو ہرا کرآئے تھے ہمیں صرف حوصلہ دیا گیا جبکہ کرکٹ ٹیم بھارت کو شکست دیکر آئی تو راولپنڈی میں تاریخ استقبال کیا گیا اور سارادن پی ٹی وی نے لائیوکوریج کی۔یہ تفریق اب بند ہونی چاہیے اور ہاکی کے ترقی کیلئے سنجیدگی اختیار کرنا چاہیے۔شکیل عباسی نے کہاکہ ہم اولمپکس گیمز کی تیاریوں میں مگن ہیں اورسابق اولمپئنز نے گھر بیٹھ کرٹیم کی کارکردگی کے بارے میں ”تُکے“لگانے شروع کردئیے ہیں کہ ٹیم اولمپکس میں چھٹی پوزیشن یا ساتویں پوزیشن حاصل کریگی، سینئر کھلاڑیوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اسی کھیل کے بارے میں تنقید کریں جس کی وجہ سے لوگ انہیں جانتے ہیں۔اگر ہماری کو ئی ہماری ہیلپ نہیں کرسکتا تو ہمارے حوصلے بھی کوئی نہ توڑے۔شکیل عباسی کا کہنا تھا کہ انہیں چھ سال کا عرصہ ہوگیا ہے ہاکی کھیلتے ہوئے اور اب تک وہ کتنے پیسے کما چکے ہیں یہ وہی جانتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ وہ اپنی حالت دیکھ کسی نوجوان کو یہ مشورہ نہیں دینگے کہ وہ ہاکی کھیلے،اور نہ ہی مجھے دیکھ کر کوئی ہاکی کھیلے گا،پاکستان میں ہاکی کے زوال کی سب سے بڑی وجہ کھلاڑیوں کی مالی حالت کمزور ہونا ہے۔شکیل عباسی نے بتایا کہ مدثر علی خان پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان تھے،اگر بروقت انہیں علاج کیلئے پیسے دئیے جاتے تو آج وہ ٹیم کا حصہ ہوتے ،ایسے حالات میں کیسے آپ ہاکی کی ترقی کی امید کرسکتے ہیں۔ اولمپکس گیمز کے بارے میں شکیل عباسی نے کہاکہ پاکستان کی فارورڈ لائن کافی مضبوط ہے جس سے وہ وکٹری سٹینڈ تک پہنچنے کیلئے پرامید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گول کیپنگ کی شعبہ تھوڑاکمزور ہے تاہم سلمان اکبر اور ناصر بھرپورپریکٹس کررہے ہیں۔شکیل عباسی نے بتایاکہ وہ پاکستان کی جانب سے 210میچز میں 65گول کرچکے ہیں تاہم وہ اپنی کارکردگی سے اس وقت مطمئن ہوتے جب میرے گولوں کی بدولت پاکستان کامیابی حاصل کرتا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس بیک اپ کی کمی ہے اگر ہمارے بینچ پلیئر اچھے ہوتے تو پاکستانی ٹیم اولمپکس کی فیورٹ ٹیموں میں شمار کی جاتی تاہم اس کے باوجود وہ اپنی ٹیم کیلئے فتح کیلئے پرامید ہیں۔
ہاکی سٹار شکیل عباسی نے کہاہے کہ انہیں قومی کرکٹ ٹیم کی ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی حاصل نہ کرنے پر دکھ ہواکیونکہ ٹیم کواپنے اہم فاسٹ باؤلر شعیب اختر اور محمد آصف کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔شکیل عباسی نے پی سی بی سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی ٹیم کے مفاد کی خاطر شعیب اختر اور محمد آصف کو معاف کردیں اور انہیں ٹیم میں واپس شامل کیا جائے کیونکہ وہ پاکستانی ٹیم کی فتح کی ضمانت ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ گو کہ دونوں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور ملک کی بدنامی کے باعث بنے ،تاہم جو ہونا تھا سو ہوگیا اب پاکستان کو ان کی ضرورت ہے اور انہیں واپس آنے کا موقع دیاجائے۔
شکیل عباسی قومی ٹیم کے ہمراہ بیجنگ اولمپکس میں شرکت کیلئے روانہ ہوچکے ہیں اور روانگی سے قبل ایک بار پھر شکیل عباسی نے امید ظاہرکی کہ پاکستان ایونٹ میں بہترین کھیل پیش کریگا۔اولمپکس گیمز میں پاکستان اپنا پہلا میچ 11اگست کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گا۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.