اعجازوسیم باکھری:
کرکٹ ورلڈ کپ 2011ء پوری آب و تاب سے جاری ہے۔ ایک طرف بڑی ٹیمیں اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کررہی ہیں تو دوسری جانب کمزور حریف بھی للکارنے سے باز نہیں آرہے اور ہرمیچ میں کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا ایسے زور لگاتے ہیں کو جیسا زندگی کا آخری میچ کھیل رہے ہوں۔ ان کمزور حریف سے مراد ہالینڈ یا کینیا نہیں بلکہ بنگلہ دیش اور آئرلینڈ ہیں۔ رواں ورلڈکپ کا مشترکہ میزبان بنگلہ دیش عالمی کپ میں کچھ بڑا کارنامہ دکھانے کا خواہشمند ہے۔ کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھیں تو لگتا ہے جیسے جنگ لڑرہے ہوں اور شائقین کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی ٹیم ماضی کی عالمی چیمپئن ہے اور ٹائٹل کے دفاع کیلئے یہ اپنی ٹیم کو سپورٹ کررہے ہیں۔ بنگلہ دیشی ٹیم کی یہ خوبی رہی ہے کہ وہ ہمیشہ بڑے ایونٹ میں بڑا کارنامہ انجام دیتی ہے ، اب یہ سلسلہ آئرلینڈ نے بھی شروع کردیا ہے لیکن بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا جذبہ اور جوش آئرش پلیئرز سے کہیں زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش کے سامنے حریف بھلے کوئی بھی ہو، ان کے سامنے ٹارگٹ 230کا ہو یا 330کا، اوپنرز وکٹ پر پہنچتے ہی حریف باؤلرز کو آڑے ہاتھوں لے لیتے ہیں اور اپنی پوری قوت حریف ٹیم پر اٹیک کرنے میں صرف کردیتے ہیں۔ کرکٹ کا ہر شائق بنگلہ دیشی اوپنرز کا آغاز دیکھنے کو متمنی ہوتا ہے کیونکہ ایک کمزور ٹیم کا جس تابڑتوڑ انداز میں آغاز ہوتا ہے ویسا آغاز بڑی ٹیمیں بھی سال میں ایک آدھ بار کرتی ہیں لیکن جنید صدیقی ہو یا تمیم اقبال یا پھر امرالقیس تمام کے تمام بنگالی اوپنرز ایک تو غضب کے سٹائلش ہیں اور اوپر سے دلیراتنے ہیں کہ بڑے بڑے باؤلرز بھی ان کا جنون دیکھ کر عزت بچانے کی کوشش میں کرتے ہیں۔
گزشتہ روز ایک اور اہم میچ کھیلا گیا جس میں ویسٹ انڈیز نے آئرلینڈ کو 44رنز سے شکست دیکر کوارٹرفائنل مرحلے کی راہ میں ایک اور رکاوٹ کو آسانی سے عبورکرلیا۔ اس میچ سے پہلے خیال کیا جارہا تھا کہ ویسٹ انڈیز کو آئرلینڈ کیخلاف مشکل پیش آسکتی ہے لیکن کالی آندھی نے اپنے روایتی انداز میں آئرلینڈ کو زیرکرکے اپنی برتری قائم کی۔ میچ کے آغازہی میں کیریبین اوپنرز سست پڑگئے اوریوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ 200رنز بھی بمشکل عبورسکیں لیکن آخری اوورز میں کیرلان پولارڈ جو عصرحاضر کا سرویون رچرڈز ہے نے آئرش ارمانوں کا بے دردی سے خون کردیا۔ پولارڈ نے 55گیندوں پر94رنز کی برق رفتار اننگ کھیلی اور ان کی یہی اننگ میچ کا واضح فرق ثابت ہوئی۔ آئرلینڈ کیخلاف کامیابی سے کالی آندھی کوارٹرفائنل مرحلے کے اور قریب ہوگئی ہے تاہم اسے بھارت اور انگلینڈ میں سے کسی ایک ٹیم کو لازمی ہرانا ہوگا ورنہ ماضی کی چیمپئن ٹیم گھرلوٹ جائے گی اور بنگلہ دیشی ٹائیگرز کوارٹرفائنل میں داخل ہوجائیں گے۔
گزشتہ روز ایک بار پھر بنگلہ دیشی ٹیم نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو اُن سے امید تو کیا جاتا ہے لیکن وہ بہت کم مرتبہ اس پر عمل پیرا ہوپاتے ہیں لیکن کل کا دن بنگلہ دیشیوں کا دن تھا۔ انہوں نے کرکٹ ایجاد کرنے والوں کو ایسا سبق سیکھایا کہ پوری انگلش ٹیم اپنے سروں سے ٹاپیاں اتار کر پویلین لوٹی۔ایشزکے چیمپئن چٹاگانگ میں ایسے پیٹے کہ دنیا حیران رہ گئی ۔ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے چہرے تب ہی چمک رہے تھے جب وہ گراؤنڈ میں داخل ہوئے اور حیران کن بات یہ ہے کہ شکیب الحسن نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ آغاز میں مبصرین نے شکیب کے اس فیصلے کو ایک جوا قرار دیا لیکن شکیب نے پورے میچ میں انگلینڈ کے اعصاب پر یوں سواری کی کہ جیسے میچ کا سارا سکرپٹ وہ پہلے سے لکھ چکا تھا اور گراؤنڈ میں صرف اس پر عمل کروا رہا تھا۔ شکیب کو یہ بھی معلوم تھا کہ اگر آج کا میچ وہ چٹاگانگ میں ہارگئے تو پھر ڈھاکہ شہرمیں داخل ہونا اس کیلئے مشکل ہوجائیگا کیونکہ ویسٹ انڈیز کیخلاف 58رنز پرآؤٹ ہونے کے بعد نہ صرف اس کے گھرپر پتھراؤہوا بلکہ میزبان ٹیم سمجھ کر ڈھاکہ کے شہریوں نے کالی آندھی پربھی پتھروں کی بارش کرڈالی۔ اگر پاکستان یا بھارت کی ٹیمیں بنگلہ دیش کی جگہ ہوتیں اور اس طرح پہلے میچ میں شکست کے بعد عوامی ردعمل بھی آچکا ہوتا اور اگلے میچ میں بھی خوف کی فضا بھی طاری ہوتی تو یہ ٹیمیں کبھی بھی اپنے سے مضبوط حریف کیخلاف کامیاب نہ ہوتیں لیکن بنگلہ دیش نے طویل جدوجہد اور ایک گھمسان کی لڑائی کے بعد یہ سب کچھ ممکن کردکھایا۔اینڈریوسٹراؤس سب کچھ بھول سکتا ہے لیکن وہ گزشتہ روز بنگلہ دیش کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کو نہیں بھلا سکتا۔ آئرلینڈ کیخلاف بھی انگلینڈ کو رسوا ہونا پڑا لیکن بنگالی ٹیم نے پہلے چیلنج کیا پھر چیلنج دیا اور آخرمیں چیلنج کی بازی میں انگلستان ٹیم کو سرجھکانے پر مجبور کردیا۔ بنگلہ دیش کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کے بعد انگلینڈ کی کوارٹرفائنل تک رسائی اور مشکل ہوگئی ہے اور جبکہ بنگلہ دیش نے گرتی ہوئی برطانوی دیواروں کو ایک دھکا اور دیکر خود کو کوارٹرفائنل کی ریس میں چار قدم پیچھے ہی سہی لیکن برقرارضرور رکھا ہے جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔