اعجازوسیم باکھری:
دوسال قبل سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کی آمد کا سلسلہ ایسا ٹوٹا کہ اب جڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ملک میں پھیلی بدامنی نے کھیلوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا اور یہ نقصان کرکٹ ٹیم کا سب سے زیادہ ہوا ہے ۔ آئی سی سی نے اس نقصان کو پورا کرنے کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ کی مدد کرنے کافیصلہ کیا اور اس سلسلے میں آئی سی سی ٹاسک فورس برائے پاکستان جون 2009ء میں بنائی گئی جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں بین الاقومی ٹیموں کا واپس لانا تھا لیکن دوسال تک کام کرنے کے بعد ٹاسک فورس کی 38صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی جس میں 63سفارشات کی گئیں ہیں جوکہ اپنے اصل مقصد سے مکمل طور پر ہٹ کر تیار کی گئیں ہیں جس کا پاکستان نے شدید الفاظ میں برا منایا ہے۔
حیران کن طور پر پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رپورٹ میں پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کیلئے صرف 3سفارشات شامل کی گئیں جبکہ باقی 60مشورے اندرونی مداخلت پر مبنی ہیں جس سے پاکستان کیخلاف بڑی طاقتوں کی سازشوں کی بو آرہی ہے۔ ٹاسک فورس کی رپورٹ یا سفارشات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اندورانی معاملات کو اس حدتک چھیڑا گیا کہ جیسے پی سی بی اپنا کام کرنا بھول چکی ہے۔ ٹاسک فورس نے اپنی سفارشات میں زیادہ ایسی سفارشات پیش کی جوکہ تعصب پرستی ، ناقص معلومات اوربے مقصد ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ان دنوں غیر ملکی ٹیموں کے نہ آنے سے مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے اور آئی سی سی نے ورلڈکپ کی میزبانی چھیننے کے بعد پی سی بی کو اس بحران سے نکالنے کیلئے انگلش بورڈ کے سربراہ جائلز کلارک کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنائی جس کی ابتدائی رپورٹ سے ٹاسک فورس کی نااہلی کھل کر سامنے آگئی۔
دلچسپ امریہ ہے کہ ٹاسک فور س کے ممبران نے کبھی بھی پاکستان آنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور نہ ہی یہاں آکر ڈومیسٹک میچز میں سکیورٹی اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ اے سی رومز میں بیٹھ کر تیار کی گئی رپورٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو جو حکم نامے جاری کیے گئے وہ ٹاسک ٹیم کے اختیارات میں نہیں ہیں جبکہ یہ سراسر مقصد سے ہٹ کر محض خانہ پری کیلئے واویلا مچایا جارہا ہے کہ پی سی بی انتظامی طور پر کمزور ہے حالانکہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس حوصلے اور احسن طریقے سے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی کے دو کامیاب ایونٹس کرائے اس پر آئی سی سی کو پی سی بی کو داد دینی چاہئے کہ ایک ہفتہ سے زیادہ دن جاری رہنے والے ان ایونٹس میں ہرروز سٹیڈیمز شائقین سے کچھا کھچ بھرے رہتے تھے لیکن ٹاسک ٹیم پی سی بی کی اس کاوش کو یکسر نظرانداز کرکے سلیکٹرز ، ٹیم منیجر اور عہدیداروں کے تقرری ، ایمانداری اور اہلیت میں الجھی رہی جوکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ٹاسک فورس ٹیم کی نااہلی یا کم عقلی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ غیر ملکی ٹیمو ں کو پاکستان کے ساتھ نیوٹرل مقامات پر کھیلنا چاہئے ، حالانکہ ٹاسک فورس کا مقصد یہ تھا کہ وہ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان آنے کیلئے قائل کرے اور اگر ان کے کوئی تحفظات ہیں تو ٹاسک ٹیم پی سی بی کے ساتھ مل کر انہیں ختم کرے لیکن کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں نے بجائے پاکستان میں کرکٹ کو بحال کرنے کے الٹا غیر ملکی ٹیموں کارخ نیوٹرل مقامات کی طرف پھیر دیا۔ایک اور جگہ پر لکھا گیا کہ اگر مہمان ٹیمیں سکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہیں توانہیں خود پاکستان جاکر کھیلنا چاہئے ، اس بات یہ تاثر ملتا ہے کہ ٹاسک فورس میں وہ اہلیت نہیں ہے کہ غیر ملکی ٹیموں کو راضی کرے یا پی سی بی کی مدد کی جائے تاکہ پاکستان میں ٹیموں کی واپسی شروع ہو، اگر غیرملکی ٹیموں نے اپنی مرضی سے پاکستان آنا ہے تو ٹاسک ٹیم کے قیام کا مقصد کیا محض دکھاوا تھا ۔ٹاسک ٹیم کی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کیلئے دلچسپی کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس ملک میں وہ کرکٹ کو واپس لانا چاہتے ہیں اب تک ہونیوالی 8میٹنگ میں سے کوئی ایک بھی پاکستان میں نہیں کی گئی اور نہ ہی زمینی حقائق کا جائزہ لینے کیلئے ٹاسک ممبران نے پاکستان آنے کی زحمت گوارا کی۔پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے گزشتہ روز واضح طو رپر کہاکہ بہت سی ایسی سفارشات ہیں جن پر عمل کرنا کرکٹ بور ڈ کیلئے مشکل ہے ۔پی سی بی کو آئی سی سی کو اپنے جواب میں کھل کر تحفظات کا اظہار کرنا چاہئے اور اگر ٹاسک فورس اب تک اپنے قیام کے مقصد کو نہیں سمجھ پائی تو پی سی بی انہیں سمجھائے کہ یہاں کرکٹ کی واپسی کیلئے کیا مشکلات ہیں اور ٹاسک ٹیم اپنی عقل کہاں استعمال کرے۔ایک بات تو واضح ہے کہ آئی سی سی پر بھارتی بورڈ کا تسلط قائم ہے اور بھارت کبھی بھی کھلے دل سے پاکستان کے میدان آباد نہیں دیکھنا چاہتا تاہم پی سی بی کو اپنی آواز کو بلند کرنا چاہئے پاکستان کیخلاف کی جانیوالی ہرسازش کو ناکام بنایا جائے اس کیلئے پاکستان کے کرکٹ شائقین بھی بورڈ کے ساتھ ہیں کیونکہ کرکٹ پاکستانیوں کی خون میں شامل ہے اور اپنے میدان آباد کرنے کیلئے ہم سب ایک ہیں اور انشاء اللہ سازشیں عناصر کو ناکامی ہوگی اور ہمارے میدان ایک با ر پھر آباد ہونگے۔