اعجاز وسیم باکھری:
ہاکی کی تاریخ میں سلطان اذلان شاہ ٹورنامنٹ ایک منفرد مقام رکھتا ہے ،اذلان شاہ کپ کو ورلڈکپ،اولمپکس اورچیمپئنزٹرافی کے بعد سب سے اہم ترین ایونٹ سمجھا جاتا ہے گوکہ ایشیا کپ اور یوروکپ بھی اپنی جگہ بہترین ایونٹ ہیں مگر اذلان شاہ کپ میں شریک ٹیمیں دنیا کی بہترین ٹیمیں ہوتی ہیں اورہاکی شائقین کو دلچسپ اور سنسنی خیرمقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔17ویں اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کا ملائیشیا کے شہرایپومیں آغاز ہوچکا ہے اور پاکستانی ٹیم نے ایونٹ میں اپنے ابتدائی دونوں میچز جیت کراپنی مہم جوئی کا فاتحانہ آغاز کردیا ہے۔پاکستان نے پہلے میچ میں میزبان ملائیشیا کو 2-3اور دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ کو 6-3سے شکست دی ہے۔قومی ٹیم اذلان شاہ کپ میں بھرپورتیاری کے ساتھ شرکت کررہی ہے اور اس ایونٹ کے اختتام پر قومی ٹیم یورپ کے طویل ٹور پر روانہ ہوگی جہاں پاکستان بیلجیم ،فرانس اور جرمنی کے خلاف سیریز کھیلنے کے بعد ائرلینڈ میں ہونیوالے چار ملکی ایونٹ میں شرکت کریگا۔پاکستانی ٹیم کا یہ مصروف شیڈول اولمپکس گیمز سے قبل ایک تیاری کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی ٹیم کوئی بڑا ایونٹ نہیں جیت سکی جس کی وجہ سے قوم بھی اب ہاکی ٹیم سے مایوس ہوچکی ہے لیکن گزشتہ ایک سال سے ہاکی کی بہتری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلدپاکستانی ٹیم ہاکی کی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گی۔
قارئین کی دلچسپی کیلئے دنیائے ہاکی کے معتبر ٹورنامنٹ سلطان اذلان شاہ کپ کی تاریخ پیش خدمت ہے۔
اب تک آسٹریلوی ٹیم نے سب سے زیادہ 5بار اذلان شاہ کپ جیتا جبکہ پاکستانی ٹیم تین بار فاتح رہی اور سب سے زیادہ پانچ مرتبہ رنر اپ رہی ہے۔اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کا سب سے پہلا ایونٹ 1983ء میں کھیلا گیا جہاں آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کے خلاف فائنل جیت کر سب سے پہلا اذلان شاہ ٹورنامنٹ جیتے کااعزاز حاصل کیا پاکستانی ٹیم کے حصے میں دوسری اور بھارت نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔دوسال ہونیوالے دوسرے ایونٹ میں بھارت نے میزبان ملائیشیا کو شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ پاکستانی ٹیم تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔1987ء میں کھیلے گئے تیسرے اذلان شاہ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم نے عمدہ پرفارمنس دی تاہم ایک بار پھر پاکستانی ٹیم فاتح بننے میں ناکام رہی اور جرمنی کے خلاف فائنل میں شکست کھاگئی اس بار تیسری پوزیشن برطانیہ نے حاصل کی۔چار سال بعد کھیلے گئے چوتھے ٹائٹل میں بھی پاکستانی ٹیم رنر اپ رہی اس بار بھارت نے ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کی اورتین سال بعد ہونیوالے پانچویں اذلان شاہ کپ میں پاکستانی ٹیم مسلسل تیسری بار فائنل میں پہنچ کر ہمت ہار گئی اور پانچواں اذلان شاہ کپ انگلینڈ نے جیتا اور تیسری پوزیشن آسٹریلیا کے حصے میں آئی۔1995ء میں کھیلا گیا چھٹے اذلان شاہ کپ میں بھارت نے جرمنی کو شکست دیکر ٹائٹل جیتاجبکہ1996میں جنوبی کوریا نے آسٹریلیا کو تاریخی شکست دیکر فتح حاصل کی۔1998ء کے آٹھویں اذلان شاہ کپ میں شائقین کو شاندار مقابلے دیکھنے کو ملے فائنل میں آسٹریلیا نے جرمنی کو شکست دیکر ٹرافی پر قبضہ جمایا ، اس کامیاب ایونٹ کے بعد منتظمین نے ہرسال اذلان شاہ کپ منعقدکرانے کافیصلہ کیا اور اگلے برس 1999ء میں کھیلے گئے نویں سلطان اذلان شاہ کپ میں پاکستان نے جنوبی کوریا کو شکست دیکر فائنل میں کامیابی حاصل کی اور اس سے اگلے برس ایک بار پھر پاکستان نے کوریا کو ہراکر لگاتار دوسرا اذلان شاہ کپ جیتا۔11ویں اذلان شاہ کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ،جرمنی نے ٹورنامنٹ میں فتح حاصل،مسلسل تیسری بار کوریا رنر اپ رہا اور پاکستانی ٹیم کے حصے میں چوتھی پوزیشن آئی ،تاہم 12ویں اذلان شاہ کپ میں ایک بار پھر پاکستانی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا اور دفاعی چیمپئن جرمنی کو شکست دیکر مجموعی طور پر تیسرا اذلان شاہ کپ جیتا مگر 2004ء میں کھیلے گئے 13ویں اذلان شاہ کپ میں دفاعی چیمپئن پاکستان آسٹریلیا سے ٹائٹل ہار گیا۔
2005میں کھیلے گئے 14ویں ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا نے جنوبی کوریا کے خلاف اپنے اعزاز کا میاب دفاع کیا اور پاکستانی ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ آخری ٹورنامنٹ تھا جہاں پاکستانی ٹیم نے پہلی چار ٹیموں میں جگہ حاصل کی ،اس کے بعد اب تک کھیلے گئے دونوں ایونٹس میں فائنل جیتناتو درکنار قومی ٹیم چوتھی پوزیشن تک رسائی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔15ویں اذلان شاہ کپ میں ہالینڈ نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دی اور گزشتہ سال کھیلے گئے 16ویں اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا نے میزبان ملائیشیا کو شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ پاکستانی ٹیم پانچویں پوزیشن کے میچ بھی ارجنٹائن کے خلاف4-2سے شکست کھا گئی۔اس بار کھیلے گئے جانیوالے ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کوفیورٹ قرار دیا جارہا ہے جس کا ثبوت قومی ٹیم اپنے ابتدائی میچز جیت کر دید یا ہے تاہم ابھی مزید اچھا کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے۔