اعجازوسیم باکھری:
پاکستان نے انگلینڈ کو چوتھے ون ڈے میچ میں 38رنز سے شکست دیکر نہ صرف پانچ میچز کی سیریز برابرکردی ہے بلکہ تنقید کرنے اور الزامات لگانے والوں کے منہ بھی بند کردئیے ہیں۔لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی ٹیم نے متحد ہوکر انگلش ٹیم کا مقابلہ کیا اور کھلاڑیوں کی باڈی لینگوئج سے واضح جھلک رہا تھا کہ وہ کامیابی کے متمنی ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں انگلینڈ کو شکست دینا چاہتے ہیں جس میں وہ کامیاب بھی رہے۔پاکستان نے انگلینڈ کو جیت کیلئے 266رنز کا ہدف دیا جس میں محمد حفیظ کے 64، کپتان شاہد آفریدی کے 37اور عبدالرزاق کے برق رفتار44رنز شامل تھے۔ محمد حفیظ اور شاہد آفریدی کی اننگز تحمل مزاجی پر مشتمل تھیں البتہ عبدالرزاق نے انگلش باؤلرزکو دن میں تارے دکھادئیے۔ رزاق نے صرف 14گیندوں کی سامنا کیا جن میں آٹھ چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 44رنز سکور کیے جس کی بدولت پاکستان نے نہ صرف ایک بڑا مجموعہ تشکیل دیا بلکہ رزاق ہی کی اننگ کی بدولت پاکستان کو میچ میں کامیابی بھی ملی۔ رزاق نے پاکستانی اننگز کے آخری دواوورز میں 42رنز سمیٹے اور ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم مرتبہ ایسا ہوا کہ آخری دواوورز میں 40سے زائد رنز بنے ہوں۔ رزاق جب وکٹ پر آئے تو انہوں نے پہلی دس گیندوں پر صرف چار رنز بنائے اور بقیہ دس گیندوں پر 40رنز جڑے جس سے میچ کا نقشہ ہی بدل گیا کیونکہ اس سے پہلے پاکستان کی پوزیشن کمزور تھی لیکن رزاق کی اننگ کی بدولت نہ صرف پوری ٹیم کا مورال بلند ہوگیا بلکہ انگلش ٹیم بھی پریشر میں چلی گئی جس کا پاکستانی ٹیم کو فائدہ پہنچا اور وہ سیریز برابر کرنے میں سرخرو ہوگئی اور اب بدھ کو سیریز کا فائنل میچ کھیلا جائیگا جس میں شائقین کو دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔
پاکستان کی جیت میں جہاں رزاق نے کلیدی کردار ادا کیا وہیں شعیب اختر اورعمرگل کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طویل عرصے کے بعد شعیب اختر خطرناک روپ میں نظر آئے اور اپنی تیزگیندوں سے نہ صرف انگلش بیٹسمینوں کو پریشان کیے رکھا بلکہ تین اہم بیٹسمینوں کو آؤٹ کرکے پاکستان کو آسان جیت بھی دلادی جبکہ عمرگل نے اپنی شاندار بولنگ کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ روز کے میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں ،عمرگل نے اپنی ریورس سوئنگ بولنگ کی بدولت انگلش بلے بازوں کو سخت امتحان میں ڈالے رکھا جس میں انہیں ناکامی اور عمر کو کامیابی حاصل ہوئی۔
لارڈز میں کھیلے گئے چوتھے میچ میں پاکستانی ٹیم میں اتحاد نظر آیا اور کھلاڑیوں کا جذبہ اور اعتماد بھی آسمان کو چھو رہا تھا۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ٹیم ورک کے تحت ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے اور جب ٹیم یکجا ہوکر کھیلے اور ہرکھلاڑی اپنا اپنا فرض احسن طریقے سے نبھائے تو کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔ پاکستانی ٹیم میں لاکھ برائیاں صحیح ، لیکن جب بھی یہ ٹیم متحد ہوکر کھیلی اور اندورنی سیاست کو پس پشت ڈال کر میدان میں اتری ،تو اس نے مضبوط سے مضبوط ٹیم کو بے بس کردیا اور جب کھلاڑی متحد ہوکر کھیل رہے ہوتے ہیں تو واضح نظر آتا ہے کہ پوری ٹیم یکجا ہے ۔یہ ضروری نہیں ہے کہ جن میچز میں ٹیم کامیاب ہوتی ہے اُن میچز میں ہی ٹیم متحد ہوتی ہے ، ایسے بیشمار میچز ہیں جن میں پوری ٹیم نے جیت کیلئے کوشش کی لیکن حریف ٹیم اپنے اچھے کھیل کی وجہ سے جیت گئی ،تو یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تجزیہ نگار صرف جیت پر ٹیم کو متحد قرار دے دیتے ہیں ، ایسا ہرگزنہیں ہے۔ جب ٹیم متحد ہوتی ہے تب بھی واضح نظر آجاتا ہے اور جب کھلاڑی ٹیم کی بجائے صرف اپنے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں تو تب بھی نظر آجاتا ہے کہ ٹیم میں اتحاداور ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ کرکٹ کے کھیل میں کامیابی پر کپتان کو لازمی کریڈٹ دیا جاتا ہے کیونکہ کپتان کی حکمت عملی کے بغیر میچز نہیں جیتے جاسکتے۔ حالیہ ون ڈے سیریز کے ابتدائی دو میچز میں پاکستانی ٹیم الزامات کی وجہ سے شدید پریشر میں تھی اور کپتان شاہد آفریدی کیلئے اس صورتحال میں کھلاڑیوں سے کام لینا اور متحد ہوکر کھلانا خاصہ مشکل تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو ابتدائی میچز میں شکست ہوئی لیکن جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے آفریدی کی کپتانی میں بھی نکھار آتا جارہا ہے اور وہ ٹیم میں اتحاد پیدا کرنے کی کوششوں میں بھی کامیاب ہورہا ہے۔ گوکہ اب بھی آفریدی بعض مواقع پردرست فیصلہ کرنے میں دیر کردیتا ہے لیکن اُسے اس بات کا کریڈٹ دینا ہوگا کہ اُس نے انتہائی مخدوش حالات میں انگلینڈ کو دو ون ڈے میچز میں شکست دیکر نہ صرف اپنی ٹیم کے وقار کو بحال کرنے کی کامیاب کوشش کی بلکہ بکھری ہوئی ٹیم کوبھی یکجا کرلیا۔
بہرحال:پاکستان کی چوتھے ون ڈے میچ میں کامیابی سے شائقین کو اطمینان حاصل ہوا اور لوگوں کی ناراضگی اور غصہ اور مایوسی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔قومی ٹیم نے جن حالات میں دو میچز جیت کر سیریز برابرکردی ہے ممکن ہے کوئی دوسری ٹیم ہوتی تو شاید ایسا نہ کرسکتی لیکن پاکستانی ٹیم ہمیشہ مسائل سے لڑکرآگے کا راستہ اختیار کرتی ہے اور اس بار بھی ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ اتنی بری ٹیم جتنی سمجھی جاتی ہے۔22ستمبر بدھ کو ہونیوالا پانچواں ون ڈے میچ اب فائنل کی شکل اختیار کرگیا ہے جس میں دونوں ٹیمیں کامیابی کیلئے سرتوڑ کوششیں کرینگی اور یقیناً فائنل معرکہ ایک یادگار ون ڈے میچ ثابت ہوگا۔