UrduPoint Sports

كھیل >> ہاکی >> مضامین >> پی ایچ ایف کی انوکھی منطق: دہلی میں ہونیوالے کامن ویلتھ گیمز کا ہالینڈ میں ٹریننگ کیمپ

اعجازوسیم باکھری:
اپنے شاندار ماضی کی بدولت ہاکی کو پاکستان کے قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے لیکن چند برسوں میں ٹیم کی کارکردگی کا معیار اس حد تک نیچے چلا گیا ہے کہ ہاکی کو قومی کھیل کہنے سے قبل ایک بار سوچنا پڑتا ہے کہ یہ کہنا درست بھی ہوگا یا نہیں ۔ پاکستان نے آخری بار 1994ء میں عالمی کپ جیتا جبکہ ہاکی کے تباہی کا آغاز 1996ء کے اولمپکس گیمز سے ہوا اور آج تک ٹیم نہیں سنبھل سکی۔ مذکورہ اولمپکس گیمز میں شہباز سینئر سمیت طاہر زمان اور دیگر کھلاڑیوں اور فیڈریشن میں اختلافات پیدا ہوگئے اور نوبت احتجاج تک جاپہنچی لیکن فیڈریشن کے کرتا دھرتااپنی ضد پر قائم رہے اور ملکی مفاد کو اپنی ذاتی انا پر ترجیح دیکر تباہی کا ایساباب شروع کیا جو 14سال بعد بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ایک عشرے سے زائد مدت کے دوران بے شمار نئے چہرے میدان میں آئے ، ہرطرح کے لوگ انتظامی امور کو چلانے کی کوشش کرتے رہے لیکن کسی کو کامیابی نہیں ملی ۔قاسم ضیاء کی سربراہی میں جب موجودہ انتظامیہ نے چارج سنبھالا تو بلند و بانگ دعوے کیے گئے کہ ہاکی پر چھائی سیاہ رات کا اختتام ہونے والا ہے جلد قومی کھیل روشنیوں کے دور میں لوٹ جائیگا لیکن ڈھائی سال کا عرصہ بیت چکا ہے نہ تو روشنیوں کا دور نظرآیا اورنہ ہی سیاہ رات کا خاتمہ ہوا بلکہ وہ دن بدن مزید گہری ہوتی جارہی ہے ۔
پاکستان ہاکی ٹیم ان دنوں بھارت میں ہونیوالے کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ ہالینڈ میں لگایا گیا جہاں کھلاڑیوں نے دو ہفتے سے زائد عرصہ تک پریکٹس کی جبکہ اس دوران پاکستانی ٹیم نے ہالینڈ کے ساتھ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ایک نمائشی میچ بھی کھیلا جس میں 80ہزار یورو کی رقم جمع ہوئی جبکہ پاکستانی ٹیم کے دورہ ہالینڈ کے اخراجات 2لاکھ یورو سے زائد بنے۔پی ایچ ایف کی دہلی میں ہونیوالے گیمز کیلئے ایمسٹرڈیم میں کیمپ لگانے کی انوکھی منطق پر ہاکی کے لیجنڈز بھی حیران ہیں اور ماہرین کو بھی اس منطق کی سمجھ نہیں آئی ۔ اگر تو دورہ امدادی میچ کھیلنے کیلئے کیا گیا تو اُس میں 80ہزار یور و جمع ہوئے اور 2لاکھ یورو کا خرچ ہوا اور اگر کامن ویلتھ گیمز کی تیاری کیلئے ہالینڈ میں کیمپ لگانا ضرور ی تھا تو کھلاڑیوں کو اس کیمپ میں کچھ سیکھنا بھی چاہئے تھا مگر ٹیم تو امداد ی میچ میں 8-2سے بری طرح شکست کھا گئی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم کے دورہ ہالینڈ کا مقصد نہ تو امداد جمع کرنا تھا اور نہ ہی کامن ویلتھ گیمز کی تیاری ۔محض سیرسپاٹے کیلئے فیڈریشن نے اس انوکھی منطق پر عمل کیا جس میں نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتیں بھی قاسم ضیاء کو تسلسل کے ساتھ فنڈز مہیا کررہی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ فنڈز کا صحیح استعمال کرنے سے قاصر ہیں ۔ جس ٹیم پر ہالینڈ میں جاکر 2لاکھ یورو خرچ کیے گئے یہی ٹیم رواں سال کے آغاز میں ورلڈکپ میں 12ویں پوزیشن حاصل کرکے دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سبب بنی اور اب تو اذلان شاہ کپ کا فائنل کھیلنا بھی خواب سابن کررہ گیا ہے تو ایسے میں سینئر کھلاڑیوں پر رقم خرچ کرکے نہ صرف نئے ٹیلنٹ کو آگے آنے سے روکا جارہا ہے بلکہ جونیئر سطح پر جہاں ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں میں جذبہ بھی ہے مگر ان کے پاس سہولیات نہیں ہیں اور اُن پر توجہ کرنے کی کسی کو جرأت نہیں ہورہی۔
فیڈریشن کو گراس روٹ پر کام کرنا چاہئے تاکہ چند سال بعد پاکستان ایک مضبوط ٹیم کے ساتھ منظرعام پر آئے مگر موجودہ فیڈریشن جسے ورلڈکپ میں عبرتناک شکست کے باوجود اعتماد بخشا گیا جونیئر سطح پر توجہ دینے کی بجائے ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے سینئر پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کرنے میں مگن ہے ۔حالانکہ بیجنگ اولمپکس میں آٹھویں پوزیشن بھی اسی ٹیم نے حاصل کی تھی اور اُس وقت سے لیکر آج تک یہ ٹیم ہر بڑے ایونٹ میں بری طرح پٹتی چلی آرہی ہے تو ایسے میں کامن ویلتھ میں اس ٹیم سے کیا توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ دوسری جانب پی ایچ ایف کے صدر قاسم ضیاء نے کامن ویلتھ گیمز کے سرپرآتے ہی اپنا ٹارگٹ بدل کر ایشین گیمز کو رکھ دیا ہے اور یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے ۔جب بھی کوئی ایونٹ آنے لگتا تو اس کی تیاریوں کیلئے خوب اخراجات کیے جاتے ہیں لیکن جیسے ہی ایونٹ شروع ہونے لگتا ہے تو روایتی انداز میں اُسے سے اگلے ایونٹ کو اپنا ٹارگٹ قرار دیکر ناکامی کی ذمہ داری سے قبل از وقت بری الزمہ ہونا اب پی ایچ ایف کی روایت بن چکا ہے ۔بہرحال : اگلے ورلڈکپ میں چار اور اولمپکس میں دو سال کا عرصہ باقی ہے ، اگرفیڈریشن دو ر اندیشی سے کام لے اور جونیئر لیول پر توجہ دے تو پاکستان ان ایونٹس کے وکٹری سٹینڈتک رسائی حاصل کرسکتاہے ۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.