اعجاز وسیم باکھری :
کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے یہ کھیل نہ صرف مردوں میں عام ہے بلکہ پاکستانی خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد کرکٹ سے جنون کی حدتک لگاؤرکھتی ہے اور یہ شوق محض دیکھنے کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ لڑکیاں کرکٹ کھیلنے میں بھی کافی دلچسپی رکھتی ہیں۔جس کا ثبوت بین الاقومی سطح پر پاکستان کی خواتین ٹیم کا کھیلنا اور کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان بنانا ہے۔ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم کا گولڈ میڈل جیتنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں خواتین کرکٹ تیزی سے فروغ پارہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ٹیم مزید مضبوط ہوکر بڑے ٹائٹل جیتے گی۔
جہاں قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے بین الاقوسطح پر کھیل کر اور ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر اپنی پہچان بنائی وہیں اس سے ملک میں خواتین میں کرکٹ کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور میڈیا کی بھر پور کوریج سے بھی نہ صرف خواتین کرکٹر ز کے حوصلے بلند ہوئے بلکہ دوسرے کھیلوں سے وابستہ دیگر خواتین کوبھی ایک طرح حوصلہ اور سہارا ملا ہے کہ وہ بھی بین الاقومی سطح پرپاکستان کا نام روشن کرسکتی ہیں اور انہیں بھی وہیں پروٹوکول مل سکتا ہے جو اس وقت خواتین کرکٹرز کو دیا جارہا ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام بڑے گرلز کالجز اور یونیورسٹیز کی اپنی اپنی کرکٹ ٹیمیں ہیں جو نیشنل چیمپئن شپ کے علاوہ انٹریونیورسٹی اور انٹرکالجیٹ چیمپئن شپ میں حصہ لیتی ہیں جبکہ زرعی ترقیاتی بنک نے نئی روایت قائم کرتے ہوئے کرکٹ کے میدان میں پہلی خواتین ٹیم بھی تیار کرلی ہے ، زیڈ ٹی بی ایل پاکستان کا پہلا ڈیپارٹمنٹ ہے جس کے بینر تلے مرد اور خواتین کرکٹ ٹیمیں تشکیل پاچکی ہیں۔قومی ٹیم کی حالیہ کامیابی نے سب کچھ تبدیل کردیا ہے ، کل تک خواتین کرکٹ کو میڈیا میں بھی محدود کوریج حاصل تھی اور کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی زیادہ توجہ بھی حاصل نہیں تھی لیکن اس بار خواتین کرکٹ ٹیم نے اپنی پرفارمنس کے زور پر اپنے حقوق حاصل کرلیے ہیں جو شاید انہیں پہلے حاصل نہیں تھے۔یہ بات درست ہے کہ انٹرنیشنل سطح پر پاکستانی ٹیم کے کریڈٹ پر وہ فتوحات نہیں ہیں جو ہونی چاہیے تھیں کیونکہ گزشتہ پانچ سال سے ٹیم کو وہ تمام سہولیات میسر ہیں جو کہ کسی انٹرنیشنل ٹیم کو حاصل ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود خواتین وویمن ونگ کی پسند نا پسند اور ریجن کی سیاست نے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہونے دئیے مگر اب صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور جہاں کامیابی کی خوشیاں منائی جارہی ہیں وہیں اب ٹیم پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ پریشر بھی آن پڑا ہے کیونکہ ایک بار کامیابی حاصل کرنے والی ٹیموں سے ہمارے ہاں اگلی بار بھی جیت کی امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں لہذا ٹیم پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوگئی ہے کہ وہ جیت کی تسلسل کسی بھی حالت میں قائم رکھے۔
قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشین گیمز کے وویمنز کرکٹ فائنل معرکے میں بنگلہ دیش کو10وکٹوں کے وسیع مارجن سے شکست دی ۔پاکستانی ٹیم کی جیت آل راؤنڈر نداڈار کی شاندار پرفارمنس کے بدولت ممکن ہوئی ، ندا نے پہلے بولنگ میں تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ بیٹنگ میں ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 51رنز کی دلکش اننگز کھیلی۔ بنگلہ دیش نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 92رنز بنائے جواب میں پاکستان نے نداڈ ار کے 51اور جویریہ خان کے 39رنز کی بدولت باآسانی کامیابی حاصل کرکے سب کو حیران کردیا ۔قومی خواتین ٹیم نے گوکہ ایک طویل عرصہ بعد کوئی بڑا ٹائٹل جیتا لیکن اس تاریخی کامیابی سے ثابت ہوگیا کہ خواتین کرکٹ میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ، نہ صرف خواتین کرکٹرز میں بھی بلکہ یہ کامیابی ایک طرح سے پاکستانی خواتین کی کامیابی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو وہ مقام حاصل نہیں جو بنیادی طور پر حاصل ہونا چاہئے لیکن اس سب کے باوجود مردوں کے معاشرے میں خواتین ٹیم کا گولڈ میڈل جیتا کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں ۔انتظامیہ اگر خواتین کرکٹ پر توجہ دے اور حقدار کھلاڑیوں کو ان کا حق دیا جائے تو پاکستانی ٹیم مزید مضبوط ہوسکتی ہے اور فتوحات کی کمی بھی پوری ہوسکتی ہے مگر یہ سب کچھ آسانی سے ہونے والا نہیں کیونکہ ٹیم کی سلیکشن پر آج بھی اعتراضات موجود ہیں ، اگر پی سی بی وویمن ونگ کی نئی چیرپرسن بشریٰ اعتراز ماضی کی انتظامیہ کی طرح باصلاحیت لڑکیوں کو موقع دینے سے گریز کرتی رہیں اور من پسند لڑکیوں کو موقع ملتا رہا تو یہ ٹیم بھی بکھر جائے گی اور کارکردگی کی گراف بھی نیچے گر جائیگا ۔ اب انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ اس کامیابی سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں اور مستقبل کیلئے کیا حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے کیونکہ ٹیم نے گولڈ میڈل جیت کر ثابت کردیا ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں ۔