اعجازوسیم باکھری:
یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک بارپھر گروپ بندی کے جال میں بری طرح الجھ چکی ہے جس کا بنیادی وجہ ورلڈکپ کیلئے کپتان کا انتخاب ہے۔ نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ون ڈے میچ میں قومی ٹیم میں پھیلی بے چینی واضح نظرآئی ، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پاکستان اورنیوزی لینڈ کے مابین نہیں شاہد آفریدی اورمصباح الحق کے مابین مقابلہ ہورہا تھا جس میں آفریدی برطرح مات کھاگئے جبکہ مصباح الحق کی کامیابیاں کا تسلسل جاری رہا۔نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے 124رنز پر آؤٹ ہوگئی جبکہ قومی ٹیم کے تمام بیٹسمینوں نے صرف 37اوورزکھیل سکی جبکہ نیوزی لینڈ نے مطلوبہ ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر 17ویں اوور میں پورا کرلیا۔پاکستان کی جانب سے مصباح الحق نے سب سے زیادہ 50رنز بنائے جبکہ یونس دوسرے ٹاپ سکورررہے ،وہ 24رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے ۔شاہد آفریدی اپنی ناقص فارم کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں نظر آئے اور انہوں نے طویل عرصہ بعد کوئی ایسی اننگ کھیلی جس میں رنز کم اور گیندیں دوگنی تھی۔آفریدی نے 29گیندوں 15رنز بنائے اور انہوں نے رنز بنانے کی انتھک کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور کیپرکو کیچ دے بیٹھے۔آفریدی کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ٹیم کو جتوانے کی بجائے اپنی کپتانی کو بچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ، گزشتہ سال آسٹریلیا میں نونٹی میچ کے دوران بھی وہ اس قدر حد سے بڑھ گئے تھے کہ گیند تک کو چبا ڈالا کیونکہ اس میچ میں یوسف کو اچانک کپتانی سے ہٹا کر آفریدی کو قیادت سونپی گئی اور موصوف کی خواہش تھی کہ وہ آسٹریلیا کو شکست دیکر قیادت کی کرسی پرقابض ہوں پھر قسمت نے انہیں یہ شرف بھی بخشا لیکن وہ بطور کپتان بری طرح ناکام ہوئے اور نہ صرف قیادت کی ذمہ داریاں نہ پوری کرسکے بلکہ بطور آل راؤنڈر بھی ان کی کارکردگی صفرسے بھی کم تردرجے پر چلی گئی ہے ۔بولنگ اور بیٹنگ میں بھی آفریدی گزشتہ کئی میچوں میں اپنے جوہر دکھانے میں ناکام رہے ، اگروہ قیادت چھوڑ دیتے ہیں تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ قیادت کے بوجھ سے آزاد ہوکر عمدہ کھیل پیش کرینگے جس طرح انہوں نے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2007ء اور2009ء میں پرفارم کیا۔ آفریدی ایک ایسا کھلاڑی ہے جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے اور عالمی کرکٹ میں ایسے بہت کم کھلاڑی ہیں جوبیٹنگ ، بولنگ اور فیلڈنگ میں مہارت رکھتے ہوں ، شاہد آفریدی کے پاس یہ تینوں خوبیاں موجود ہیں لیکن جب سے وہ کپتان بنے ہیں ان کی ذاتی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کپتان رہنے پر بضد ہیں حالانکہ وہ یہ جانتے بھی ہیں کہ کرکٹ بورڈ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور اگر انہیں برطرف کردیا گیا توان کیلئے یہ چیز اچھی نہیں ہوگئی اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں ٹیم سے ڈراپ کردیا جائے کیونکہ ان کی زد کی وجہ سے ٹیم دو حصوں میں بٹ گئی ہے اور آفریدی کو ٹیم کے مفاد میں خود فیصلہ کرنا چاہئے ۔ ہمارے کھلاڑیوں کی یہ بہت بری عادت ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھنے کے باوجودبھی ٹیم کے مفاد میں فیصلہ کرنے سے کتراتے ہیں حالانکہ سابق سری لنکن کپتان جے وردنے نے کپتانی خود چھوڑ دی تھی حالانکہ وہ ورلڈکپ2007ء کے فائنل تک اپنی ٹیم کو لے گئے تھے ابھی چندروز پہلے کی بات مائیکل کلارک نے آسٹریلوی ٹونٹی ٹیم کی کپتانی چھوڑ دی لیکن ہمارے کھلاڑی خود کو توپ خان سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ بعد خود بھی ذلیل ہوتے ہیں اور ٹیم کو بھی دیوارکیساتھ لگا جاتے ہیں۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ورلڈکپ سے قبل عرصہ قبل کپتان کی تبدیلی ٹیم کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔ یہ بات تب درست تھی جب موجودہ کپتان ٹیم کو ایک کامیاب یونٹ میں تبدیل کرچکا ہوتا یا ٹیم مسلسل جیت رہی ہوتی یا پھر کھلاڑی اس کپتان کے زیرسایہ کھیلنے پر راضی ہوتے تو تب یہ جواز دینے کا جواز بنتا تھا لیکن موجودہ صورتحال میں کپتان کی تبدیلی ہی پاکستانی ٹیم کے مفاد میں ہے اور امید ہے کہ آفریدی بطورکھلاڑی ورلڈکپ میں سب سے بہترپرفارم کرینگے جبکہ مصباح الحق کی قیادت میں ٹیم سے بھی عمدہ کارکردگی کی توقع ہے لیکن فی الحال نیوزی لینڈ کیخلاف پانچ ون ڈے میچز باقی ہیں اور پاکستان کو کیویز کیخلاف ڈٹ کرمقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ یہی کیویز ٹیم آج پاکستان کیخلاف ون ڈے میچ میں کامیابی سے پہلے مسلسل 11میچوں میں بری طرح شکست کھا چکی تھی لیکن پاکستان کیخلاف وہ جیت گئے ۔ٹیم مینجمنٹ اورکرکٹ بورڈ کو ٹیم کے اس قدر بدترین شکست کا نوٹس لینا چاہئے اور ان غلط فیصلوں کو ٹھیک کرنا چاہئے جس کی وجہ سے ٹیم میں اتحاد کی دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔