اعجازوسیم باکھری:
پاکستان نے سری لنکا کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں شکست دیکر تین میچز کی سیریز میں ایک صفر سے برتری حاصل کرلی ہے۔دبئی سپورٹس سٹی سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں سعید اجمل نے پانچ وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو سری لنکا کیخلاف9وکٹوں سے آسان فتح دلائی، دبئی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی فیلڈنگ کا معیار کافی بہتر رہا اور ابتدائی کیچز پکڑنے کی وجہ سے پاکستان نے ٹیسٹ میچ اپنے نام کیا۔دوسرے ٹیسٹ میچ کیلئے قومی ٹیم میں فاسٹ باؤلر اعزاز چیمہ کی جگہ لیفٹ آرم سپنر عبدالرحمان کو موقع دیا گیا جنہوں نے متاثر کن کھیل پیش کیا۔میچ کے آغاز ہی سے سری لنکن ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی اور یہ دباؤ میچ کے آخر تک برقرا ررہا ۔ قومی ٹیم نے ابوظہبی ٹیسٹ میں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور کپتان مصباح الحق نے آؤٹ ہونے والے پہلے تینوں سری لنکن بلے بازوں کے کیچ تھامے اور یہی کیچز کامیابی کا سبب بنے ۔ عبدالرحمان کو کھلانے کے فیصلے پر کئی ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا تاہم لیفٹ آرم سپنر نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کرتے ہوئے میچ میں کئی اہم سری لنکن بلے بازوں کو آؤ ٹ کیا ۔ فاسٹ باؤلر عمر گل اور جنید خان نے بھی کافی عمدہ گیندیں کیں اوردبئی کی ایسی وکٹ جہاں فاسٹ باؤلرز کو نئی گیند سے صرف پہلے ایک گھنٹے میں مدد ملی حریف کھلاڑیوں کو کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیااورکئی اہم وکٹیں بھی حاصل کیں ،پچ رف ہونے کے باعث دونوں کھلاڑیوں نے ریورس سوئنگ کا بھر پور استعمال کیا او ر خاص طور پر جنید خان نے پرانی گیند کا بہترین استعمال کر تے ہوئے سری لنکا کے بلے بازوں کو بے حد پریشان کیا ۔قومی ٹیم کے بلے بازوں نے بھی کافی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا تاہم جس طرح انہوں نے اپنی اننگ کا عمدہ کرنے کے بعد وکٹ تھرو کی وہ کا فی تشویش کا باعث تھا ۔توفیق عمر ،محمد حفیظ ،مصباح الحق اور اسد شفیق نے اپنی اننگ کا عمدہ طریقے سے آغاز کیا تاہم اس وقت جب وہ کریز پر اچھی طرح سیٹ ہو چکے تھے چاروں بلے بازوں نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوائی ۔میچ کی ایک خاص بات اظہر علی کے کیریئر کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ نروس نائنٹیز کے اندر اظہر کافی دباؤ کا شکار نظر آئے اور کئی موقع پر ایسا لگا کہ شاید وہ اس بار بھی اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل نہ کر پائیں ۔تاہم دوسرے اینڈ پر موجودکپتان مصباح الحق نے بہترین طریقے سے ان کی راہنمائی کی او روہ سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ سعید اجمل نے بھی میچ میں اپنے تجربے کا بھرپو ر استعمال کیا اور دوسری اننگ میں 5جبکہ میچ میں 8کھلاڑیوں کو پوویلین کی راہ دکھائی ۔ تجربہ کار آف سپنر نے دوسری اننگ میں چوتھے دن کی پچ کا بھرپو ر استعمال کیا اورتھرنگا پراناویتانا اور مہیلاجے وردھنے کے وکٹیں بے حد اہم مواقع پر حاصل کیں ۔ سری لنکا کی طرف سے کمار سنگاکارا نے ایک بار پھر اپنی بہترین بلے بازی سے قومی باؤلرز کو بالکل بے بس کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہمار ے باؤلر سنگاکارا کو آؤٹ کرنے کی بجائے انہیں رنز کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔بقیہ میچز میں ہمارے باؤلرز کو سنگاکارا کو آؤ ٹ کرنے کے لئے کوئی بہتر حکمت عملی بنانی پڑے گی ورنہ انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بہترین کھلاڑ ی آپ کی غلطیوں کی بہت بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور سنگاکارا ابوظہبی ٹیسٹ میں شاندار ڈبل سنچری کے ذریعے یہ ثابت کر چکے ہیں ۔ قومی ٹیم نے اس میچ میں بھی کئی غلطیاں کیں جنہیں تیسرے ٹیسٹ میچ کے آغاز سے پہلے سدھارنا بے حد ضروری ہوگا ۔ سری لنکا کی پہلی اننگ میں حریف ٹیل اینڈر ولیگدیرا نے قومی باؤلرز کو بالکل بے بس کر دیا تھا اور ایک موقع پر ایسا لگ رہی تھا جیسے ہمارے باؤلرز کے پاس اسے آؤٹ کرنے کا کوئی طریقہ ہی موجود نہیں ہے ۔ پاکستان کو سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے اور یہ برتری برقرا ررکھنے کیلئے ٹیم کو ماضی کی طرح ریلکس ہونے کی بجائے محنت جاری رکھنا ہوگی۔ پاکستان اور سری لنکا کے مابین تیسرا ٹیسٹ میچ 3نومبر سے شارجہ میں شروع ہوگا۔