عجازوسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر شارجہ کے اجڑے میدان کو آباد کردیا، سری لنکا کیخلاف چوتھے ون ڈے میں جس انداز میں پاکستان نے کامیابی سمیٹی اس کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ سری لنکن ٹیم جب ہدف کا تعاقب کرنے کیلئے میدان میں داخل ہوئی تو پریشر سے بالکل آزاد نظرآئی ، پاکستانی ٹیم پر شدید پریشر تھا کیونکہ ایک عام رائے یہ تھی کہ آج سری لنکا جیتے گا اور دونوں ٹیمیں پانچواں میچ فائنل کی حیثیت سے کھیلیں گی لیکن قومی ٹیم نے تمام منفی رائے کامنہ توڑ جواب دیا اور نہ صرف سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ کے بعد ایک روزہ سیریز بھی جیت لی جبکہ شارجہ میں ایک روزہ کرکٹ کی دوبارہ واپسی کو بھی یادگار بنادیا۔ شاہد آفریدی پورے میچ میں چھائے رہے اور انہوں نے تن تنہا پاکستان کو کامیابی دلائی اور آفریدی کی یہ میچ وننگ کارکردگی شائقین کو کئی برس یاد رہے گی، آفریدی نے شارجہ میں اپنے بڑے کھلاڑی ہونے کا ثبوت پیش کیا اور کرکٹ سے ترسے عوام کو زبردست تفریح کے ساتھ ساتھ خوشی بھی فراہم کی۔ آفریدی کے علاوہ دیگر بلے باز کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے ۔ باؤلنگ میں پاکستانی باؤلرز نے لنکن بلے بازوں کو خوب تنگ کیا ، سعید اجمل اور شاہد آفریدی کی نہ سمجھ آنیوالی گیندوں پر لنکن بلے باز خوب پریشان نظر آئے تاہم وہ فائٹ کرتے رہے لیکن کیونکہ کل کا دن شاہد آفریدی کا دن تھا اس لیے کوئی بھی لنکن ٹائیگر پاکستانی شیر سے مقابلہ نہ کرسکا ۔
شارجہ میں 9سال بعد کھیلے گئے ون ڈے میچ کو دیکھنے کیلئے شائقین کی بڑی تعداد نے سٹیڈیم کا رخ کیا اور سینئر تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ ماضی کی یادتازہ ہوگئی ہے۔ میرے لیے چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ میں شارجہ کے تاریخی سٹیڈیم میں کوریج کی غرض سے آیا اور میرے سمیت جتنے بھی نوجوان صحافی وہاں موجود تھے سبھی خوش تھے ایک ایسے سٹیڈیم میں کرکٹ میچ کی کوریج کا موقع ملا جہاں 2سو ون ڈے میچز کھیلے جاچکے ہیں اور شارجہ کا یہ ریکارڈ کینزبک آف ریکارڈز میں بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ اتوار کے روز یواے ای میں چھٹی نہیں ہوتی اور پاکستانی شائقین عموماً ورکنگ ڈیز میں میچ دیکھنے کو زیادہ ترجیح نہیں دیتے لیکن شارجہ میں چونکہ 9سال بعدایک روزہ کرکٹ واپس لوٹ رہی تھی تو شائقین نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایک ایسا ماحول بنا ہوا تھا کہ جیسے ہم لاہور میں یہ میچ دیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی جہاں بھی ہوں اپنی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ ضرور کرتے ہیں اور پوری قوت اور جوش کے ساتھ شرکت کرتے ہیں ، حالانکہ پاکستانی ٹیم پر میچ فکسنگ کے الزامات بھی لگے لیکن اس کے باوجود شائقین نے کرکٹ سے اپنی وابستگی ختم نہیں کی۔پاکستان کی پہلے بیٹنگ تھی اور ٹیم زیادہ سکور نہ کرسکی اس کے باوجود شائقین کی تعداد بڑھتی رہی اور جب میچ دلچسپ صورتحال میں داخل ہوا شارجہ سٹیڈیم مکمل پیک ہوچکا تھا اور آفریدی کی وکٹوں اور سعید اجمل کی عمدہ باؤلنگ پر شائقین نے زبردست داد دی جس سے پاکستانی ٹیم کا حوصلہ بڑھا اور مصباح الیون سیریز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
شاہد آفریدی کل کے شارجہ ون ڈے کے سب سے بڑے ہیرو تھے بلکہ فتح سہراہا بھی ان کے سر سجتا ہے ۔آفریدی نے بیٹنگ میں جو تحمل دکھایا اس سے بالکل نہیں لگا کہ یہ پرانا شاہد آفریدی ہے ۔ آفریدی کی اننگ نے پاکستان کو مکمل تباہی سے بچایاحالانکہ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پاکستانی ٹیم ڈیڑھ سو سکوربھی نہیں کریگی تاہم آفریدی نے ایسا ممکن کردکھایا، پھر جب باؤلنگ کی باری آئی آفریدی پاؤں میں موچ آنے کی وجہ سے پویلین جا بیٹھے تھے لیکن وہ لنگڑاتے قدموں کے ساتھ باؤلنگ کرانے کیلئے واپس پہنچے اور سری لنکن بلے بازوں کیلئے وکٹ پر ٹھہرنا دو بھر کردیا۔ پاکستان اچانک ، سنسنی خیز اورحیران کن کامیابی پر جشن کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہوگیا اور یہاں موجود شائقین کے چہروں سے لگ رہا تھا کہ انہیں پاکستان کی کامیابی پر فخر ہے اور ایسی فتوحات پر فخربھی کرناچاہئے کیونکہ ورلڈکپ کی رنراپ ٹیم کیخلاف ٹیسٹ اور اب ون ڈے سیریز جیتنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے ۔