اعجاز وسیم باکھری:
کوئی کھلاڑی چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو،ا سے ایک نہ ایک دن کھیل سے رخصت ہونا ہی پڑتا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ ہردور میں ایسے کھلاڑی بھی آئے جن کی رخصتی سے شائقین کے چہروں پر اداسی چھا جاتی ہے کیونکہ وہ اپنے چاہنے والوں کو اس قدر اپنے کھیل سے محظوظ کرچکے ہوتے ہیں کہ شائقین انہیں ہر قیمت پراپنی آنکھوں کے سامنے ایکشن میں دیکھنے کی تمنا رکھتے ہیں اور ایسے عظیم کھلاڑی جب اپنا کیرئیر مکمل کرکے واپس لوٹ رہے ہوتے ہیں تو اُن کو الٹے قدموں پر چلتا دیکھ کر بہت سی آنکھ بھیگ جاتی ہیں۔ یہی سارا منظر ہمیں گزشتہ دنوں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان ہونیوالی ٹیسٹ سیریز کے آخری معرکے میں ایڈیلیڈ کے مقام پر دیکھنے کوملا جب ایک عشرے سے بھی زائد مدت تک شائقین کے دلوں پر راج کرنے والے آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹسمین ایڈم گلکرسٹ آخری بار سفید یونیفارم میں بیٹنگ کرنے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے توایڈیلیڈ کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں ہر شخص کھڑے ہوکر انہیں شایان شان طریقے سے رخصت کرتا ہوا نظر آیا۔جبکہ اس سے دو روز قبل گلکرسٹ نے جنوبی افریقی وکٹ کیپر مارک باؤچر کا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ شکار کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا اور محض 24گھنٹے بعد ون ڈے کرکٹ کے خطرناک ترین اوپنر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کرکے اپنے چاہنے والوں کو رنجیدہ کردیا۔گلکرسٹ ٹیسٹ کرکٹ سے تو اب باقاعدہ ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں تاہم اتوار سے شروع ہونے والی تین ملکی سی بی سیریز کے بعد وہ ون ڈے کرکٹ سے بھی مکمل طور پر رخصت ہوجائیں گے۔
لیفٹ ہینڈ سے برق رفتاربیٹنگ کرنے والے ایڈم گلکرسٹ کا تعلق کھلاڑیوں کے ایک ایسے قبیلے سے جو اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہی حریف ٹیموں کیلئے وبال جان بن گئے۔ عالمی سطح پر ایک مستند اوپنراور ریکارڈ ساز وکٹ کیپر کی حیثیت سے پہچانے جانے والے گلکرسٹ نے کھیل میں سوائے باؤلنگ کے باقی تمام شعبوں میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔ بطور وکٹ کیپر اور اوپنر بیٹسمین کی حیثیت سے ایڈم گلکرسٹ کو ہمیشہ اپنے تمام ہمعصروں پر برتری حاصل رہی ہے ۔گلکرسٹ جہاں ون ڈے کرکٹ کے خطرناک ترین اوپنر قرار دیے جاتے ہیں وہیں انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں ساتویں پوزیشن پر کھیلتے ہوئے 17 سنچریاں داغی جو کہ نہ صرف اپنی طرز کا ایک عالمی ریکارڈ ہے بلکہ گلکرسٹ کے ایک مکمل اور مستند بیٹسمین ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہے۔رکی پونٹنگ کے نائب کے طو رپر پانچ سال تک خدمات سرانجام دینے والے گلکرسٹ نے ہمیشہ اپنی ٹیم کو ون ڈے کرکٹ میں آغاز ہی سے فلائنگ سٹار فراہم کیا، اپنے پورے کیرئیرمیں وہ اپنی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ وکٹوں کے عقب میں تھکا دینے والی ذمہ داری کوبھی احسن طریقے میں نبھاتے رہے ،جس سے انہیں دور حاضر کا ایک ممتاز کرکٹرمانا جاتا ہے کیونکہ ہمیشہ ان کی پرفارمنس کا معیار دوسروں سے بہتر رہا ہے۔
14 نومبر 1971ء کو نیو ساؤتھ ویلز آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے ایڈم گلکرسٹ پہلی پوزیشن پر کھیل رہے ہوتے تھے یا ساتویں پر مخالف ٹیمیں ہمیشہ دباؤ میں نظر آئیں۔ بطور وکٹ کیپرکی ان کی کارکردگی ہمیشہ اپنے عروج پررہی۔ شین وارن کی جادوگر لیگ سپن گیندیں تھیں یاپھر بریٹ لی کی برق رفتار بالیں، گلکرسٹ نے ہمیشہ وکٹوں کے عقب اپنا کردار بخوبی انداز میں نبھایا۔ وکٹ کیپنگ کے شعبے میں گلکرسٹ ان گنت ریکارڈزکے مالک ہیں ان کی ریکارڈ لسٹ میں21ویں ٹیسٹ میں 100 شکار مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ون ڈے کرکٹ میں ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ شکار کرنے کا دوبار عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں اس کے علاوہ وہ ایک ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ 10 کھلاڑیوں کو کیچ اور سٹمپ کے ذریعے پویلین کی راہ دکھانے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ یہ تمام ریکارڈز اُس عالمی ریکارڈ کے سامنے بہت چھوٹے محسوس ہوتے ہیں جو انہوں نے بھارت کے خلاف اپنے کیرئیر کے آخری ٹیسٹ میں قائم کیا ۔وہ ریکارڈ ہے ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹ کے پیچھے سب سے زیادہ شکار۔گلکرسٹ نے بھارت کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 416شکار کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیاگلکرسٹ نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کے 96ٹیسٹ میچز میں وکٹوں کے پیچھے 379کیچ پکڑنے کے ساتھ ساتھ 37 کھلاڑیوں کو سٹمپ آوٴٹ کیا۔وہ جتنا وکٹ کیپنگ کے شعبے میں کارکردگی مہارت،ریکارڈز کا مالک ہیں اتنا ہی وہ بلے بازی میں بھی مستند ہیں۔ گلکرسٹ ہمیشہ گیند کو بڑی قوت سے ہٹ کرتے ہیں اوروہ مضبوط ڈرائیو کے ساتھ گیند کو فیلڈ میں موجود خلا ء میں دکھیلنے کے فن میں بھی ماسٹر تصور کیے جاتے ہیں یہی وہ چند اہم پہلو ہیں جس نے انہیں ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ کا ایک کارآمدکھلاڑی بنا دیا ۔ 36 سالہ ایڈم گلکرسٹ نے 1999ء میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا اور انہوں نے 96 ٹیسٹ میچوں میں 5556 رنز بنائے جن میں ساتویں نمبر کھیلتے ہوئے 17سنچریاں اور 26نصف سنچریاں شامل ہیں ،جبکہ وہ اب تک 277 ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں 15 سنچریوں اور 53 نصف سنچریوں کی مدد سے 9297 رنز بھی بنا چکے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سب زیادہ 100چھکے لگانے کا عالمی ریکارڈ بھی گلکرسٹ کے پاس ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ سے رخصتی کے وقت ایڈم گلکرسٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے بہت سوچ وبچار کے بعد اپنے قریبی دوستوں اور عزیزوں سے مشورے کرکے یہ مشکل فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا آسٹریلیا کی طرف سے کرکٹ کھیل کر انہوں نے بہت انجوائے کیا ،اور ٹیم کے ساتھ گزارے ہوئے حسین لمحات کی یادیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی۔
کیرئیر کے اختتام کے قریب پہنچ کر اور ڈھلتی عمر بھی گلکرسٹ کی کارکردگی پر اثر انداز نہ ہوسکی بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ان کا جذبہ مزید جوان ہو رہا ہے مگر سٹیووا کے جانشین اور میک گراتھ اور شین وارن کا ساتھی ہونے کی وجہ سے وہ کیسے اپنی کارکردگی کے برے دنوں میں ریٹائرمنٹ لیتے؟۔انہوں نے بھی اپنے ساتھیوں کی طرح اور آسٹریلوی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے عروج کے دور میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لیکر نوجوان کھلاڑیوں کیلئے جگہ خالی کردی جو کہ اس کے عظیم کھلاڑی ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔گلکرسٹ کی ریٹائرمنٹ سے کرکٹ کی دنیا کا ایک اور حسین ستارہ اجھل ہوگیا ہے وہ یقیناً ہمیشہ اپنے مداحوں کے دل میں رہیں گے۔