اعجازوسیم باکھری:
پاکستان نے اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دیکر چار ٹیسٹ میچز کی سیریز میں پہلی کامیابی حاصل کرکے میزبان ٹیم کی برتری کم کرکے 2-1کردی ہے۔اوول کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز میزبان ٹیم نے پاکستان کوجیت کیلئے 148 رنز کا ہدف دیا جو پاکستان نے شدید اضطرابی صورتحال کے بعد حاصل کرکے انگلش سرزمین پر میزبان ٹیم کیخلاف نو سال بعد پہلی کامیابی سمیٹ لی۔محدود ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹسمین ایک بارپھر خوف کا شکار نظر آئے البتہ کپتان سلمان بٹ اور سینئر بیٹسمین محمدیوسف کی ذمہ دارانہ بیٹنگ سے پاکستان نے چار وکٹوں سے جیت اپنے نام کی۔سلمان بٹ نے 48 اور محمدیوسف نے 33رنز بنائے جوکہ ٹیم کی کامیابی کیلئے اہم ثابت ہوئے۔کامران اکمل اس بار بھی بیٹنگ میں متاثر کرنے میں ناکام رہے البتہ انہوں نے اوول ٹیسٹ میں وکٹوں کے پیچھے آٹھ شکار کرکے اپنی ناکامی کا کسی حد تک ازالہ کردیا لیکن بیٹنگ میں کامران اکمل کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ بطور بیٹسمین وکٹ کیپر ٹیم کا حصہ ہیں لہذا انہیں اپنی بیٹنگ تکنیکس پر توجہ دینی چاہئے اور مشکل وقت میں کامران اکمل کی عمدہ بیٹنگ کی ٹیم کو ضرورت تھی اور ہمیشہ کامران نے عمدہ پرفارم کیا ہے لیکن گزشتہ ایک سال سے وہ وکٹ کیپنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں بھی ٹیم کیلئے آسانی پیدا کرنے کی بجائے مشکلات پیدا کرتے چلے آرہے ہیں جس کی بنا پر انہیں دو بار سڈنی اور برمنگھم میں ٹیم سے ڈراپ بھی کرنا پڑا مگر اوول ٹیسٹ میں انہیں ایک بار پھر موقع فراہم کرکے کیرئیر کو نئی زندگی بخشی گئی جس کا کامران کو مکمل فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
اوول ٹیسٹ میں پاکستان کی کارکردگی اگر بغورجائزہ لیا جائے تو ٹیم نے اس معیار کی کرکٹ نہیں کھیلی جو آسٹریلیا کی خلاف نظرآئی تھی ۔لیکن تیسرے ٹیسٹ میں کامیابی سے یہ واضح نظرآیا کہ ٹیم جوکہ پہلے دوٹیسٹ میچز میں بالکل بکھری ہوئی نظرآرہی تھی یہاں متحد اور یکجا نظرآئی۔کھلاڑیوں میں اتحاد واضع نظرآیا اور ان کے رویے سے جھلک رہا تھا کہ وہ فتح کے بھوکے ہیں جوکہ انہوں نے محنت سے حاصل بھی کی۔ اوول ٹیسٹ میں اگر محمد عامر کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا لیکن ہمیں محمدیوسف کی کارکردگی کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔یوسف نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی ٹیم کی ضرورت کے مطابق ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور ابتدائی تین وکٹیں گرنے کے انہوں نے وکٹ پر قیام کرکے پاکستان کو ہدف تک آسان رسائی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔انگلینڈ کیخلاف پہلے دونوں ٹیسٹ میچز میں پاکستانی ٹیم چاروں اننگز میں تین سوکا مجموعہ عبورکرنے میں ناکام رہی تھی لیکن یوسف کی واپسی سے اوول ٹیسٹ میں پاکستان نے تین سوسے زائد رنز بناکر انگلینڈ پر75رنزکی برتری حاصل کی جوکہ کامیابی کیلئے سنگ میل ثابت ہوئی۔
اوول ٹیسٹ میں باؤلرز کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ پاکستان کو نو سال بعد انگلش سرزمین پر میزبان ٹیم کیخلاف ٹیسٹ میچ میں کامیابی نصیب ہوئی جس کا کریڈٹ باؤلرز کو جاتا ہے۔ پہلی اننگز میں ڈبیو کرنے والے وہاب ریاض کی پانچ اور محمدآصف کی تین وکٹیں جبکہ دوسری اننگز میں محمد عامر کی پانچ اور سعید اجمل کی چاروکٹوں کی بدولت پاکستان نے تاریخی کامیابی اپنے نام کی۔ محمد عامر نے اگر انگلش ٹاپ آرڈربلے بازوں کو صفایہ کیا تو سعید اجمل نے ٹیل اینڈرز کیلئے وکٹ پر ٹھہرنا دوبھر کردیا تھا۔گزشتہ ایک سال سے پاکستانی باؤلرز تسلسل کے ساتھ عمدہ پرفارم کرتے چلے آرہے ہیں اور جب بھی ٹیم مشکلات کا شکار ہوئی تو وہ بیٹنگ کی ناکامی کی بدولت ہوئی۔ البتہ اب محمدیوسف کی واپسی سے نہ صرف بیٹنگ مضبوط ہوگئی ہے بلکہ ٹیم میں ایک سینئر کھلاڑی کے ہونے سے جونیئر کی کارکردگی میں بھی نکھار آئے گا۔بدقسمتی سے پاکستانی ٹیم جیت کا تسلسل برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہے اور ایک بڑی کامیابی کے بعد ٹیم اگلے میچ میں ناقص کارکردگی کی تمام حدیں عبور کرجاتی ہے جس کی حالیہ مثال آسٹریلیا کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد ٹیم انگلینڈ کیخلاف ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچز میں بری طرح شکست کھا گئی ۔وقاریونس ماضی کے عظیم باؤلر رہے ہیں اور بطور چیف کوچ انہیں کھلاڑیوں میں سب سے پہلے اعتماد پیدا کرنے پرتوجہ دینا ہوگی کیونکہ وقاریونس جب ٹیم میں کھیلتے تھے تو تب پاکستانی ٹیم کو شکست دینا خاصا مشکل ہوا کرتا تھا لیکن اب ان کی کوچنگ میں ٹیم کیلئے جیتنا خاصا مشکل ہوگیا ہے لہذاب ٹیم نے اوول ٹیسٹ میں شکستوں کے سلسلے کو تو روک دیا ہے مگر جیت کا تسلسل برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے جس کیلئے وقاریونس کو ٹیم کی غلطیوں پر قابوپانا ہوگا۔