اعجازوسیم باکھری:
پاکستان اورنیوزی لینڈ کے مابین جاری ولنگٹن ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستانی بلے بازوں نے میزبان ٹیم کو بھرپورجواب دیتے ہوئے اپنی ٹیم کی پوزیشن دوبارہ مستحکم کردی۔نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز356رنز کے جواب میں پاکستان نے دووکٹیں کھوکر134رنز بنالیے ہیں ۔نیوزی لینڈ کی جانب سے کپتان ڈینیل ویٹوری نے ٹیل اینڈرز پوزیشن پر کھیلتے ہوئے 110رنز کی خوبصورت اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو نہ صرف سہارا فراہم کیا بلکہ ایک بہترپوزیشن میں بھی لاکھڑا کیا۔ ویٹوری اورریس ینگ نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 138رنز جوڑکر اپنی ٹیم کو تباہی سے بچایا اور ان دونوں کی مزاحمت کی بدولت کیویز ٹیم پہلی اننگز میں356رنز کا مجموعہ تشکیل دینے میں کامیاب رہی۔
پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں توفیق عمرنے 70رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ون ڈاؤن پوزیشن پرکھیلتے ہوئے اظہرعلی 62رنز کے ساتھ کریز پرموجود ہیں جبکہ محمد حفیظ ایک رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے ۔ بدقسمتی سے توفیق عمردوسرے روز کھیل ختم ہونے سے چند لمحے پہلے ویٹوری کا شکار بن گئے تاہم انہوں نے اپنی ٹیم کو بہترین آغاز فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ توفیق عمرجب سے چارسالہ عدم موجودگی کو ختم کرکے ٹیم میں واپس آئے ہیں وہ بھرپورفارم کا مظاہرہ کررہے ہیں جبکہ اظہرعلی نے گزشتہ سال دورہ انگلینڈ کے موقع پر آسٹریلیا کیخلاف نیوٹرل ٹیسٹ سیریز میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور وہ بھی ایک مستند بیٹسمین کے طور پر ٹیم کی ضرورت بن گئے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ چار سال سے کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی اور اس بار کیویز کیخلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں قومی ٹیم کو ایک صفرکی برتری حاصل ہے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی ٹیم بہترپوزیشن میں آگئی ہے اور اگر دیگر بیٹسمین بھی اظہراورتوفیق کی طرح اپنی اننگز تعمیر کرنے میں کامیاب رہے تو کیویز ٹیم کیلئے میچ میں واپس آنا مشکل ہوجائیگا۔ طویل عرصہ بعد پاکستانی ٹیم بیٹنگ اوربولنگ کے شعبوں میں یکساں کارکردگی پیش کرتی ہوئی نظرآئی کیونکہ ماضی میں بیٹسمین اچھے کھیلتے توباؤلرز نے ساتھ نہیں دیا اور اگر باؤلرز نے عمدہ کارکردگی پیش کی تو بیٹسمینوں نے مایوس کیا لیکن اس بار دورہ نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نظرآیا اور اگر یہ تسلسل نیوزی لینڈ کیخلاف ہونیوالے چھ ون ڈے میچز میں بھی نظرآیا تو19فروری سے شروع ہونیوالے ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم ایک مضبوط حریف کے طورپرمیدان میں اترے گی۔ ورلڈکپ سے پہلے نیوزی لینڈ کیخلاف چھ ون ڈے میچز ٹیم کیلئے اپنی خامیوں اور خوبیوں کو پرکھنے کیلئے کافی ہیں ، یہاں پر فیصلہ ہوجائیگا کہ یہ ٹیم ورلڈکپ میں کہاں تک جاسکتی ہے جبکہ کپتان شاہد آفریدی کا بھی ٹیسٹ ہوگا کہ وہ گزشتہ سال کی غلطیوں کودہراتے ہیں یا ایک کپتان کی جو ذمہ داریاں ہیں ان پر پورا اترتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈکپ کیلئے 30ممکنہ کھلاڑیوں کا اعلان کررکھا ہے تاہم کپتان کافیصلہ نہیں ہوا اور ملک میں اس وقت کپتان کے انتخاب پر بحث عروج پر ہے۔ شاہد آفریدی کی کپتانی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور کرکٹ بورڈ نے عندیہ دے رکھا ہے کہ میگاایونٹ میں شاید مصباح کو کپتان بنایا جائے تاہم آفریدی کو جانچنے کیلئے نیوزی لینڈ کیخلاف چھ ون ڈے میچوں میں دوبارہ آفریدی کو قیادت سونپ دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی غلطیوں پر قابوپاسکیں جبکہ کرکٹ بورڈ یہ بھی چاہتا ہے کہ آفریدی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ اپنے روابط بہترکرنے کے ساتھ ساتھ ان کا اعتماد بھی حاصل کریں اور بطور کپتان اپنی کارکردگی کو بہتربنائیں۔ دوسری جانب آفریدی کو کپتان برقرار رکھنے کیلئے بھی چندسابق کرکٹرز سے بیان بازی کرائی جارہی ہے جو اپنے خیالات میں آفریدی کو عمران خان ثانی تک کہہ جاتے ہیں لیکن یہ فیصلہ تو وقت ہی کریگا کہ موصوف ورلڈکپ میں ٹیم کیلئے رحمت بنتے ہیں یا زحمت۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے کامران اکمل کو دوبارہ قومی ٹیم کا حصہ بنالیا ہے اور انہیں نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے قومی سکواڈ میں شامل کرلیا ہے اور کامران پیر کے روز نیوزی لینڈ روانہ ہورہے ہیں۔ کامران اکمل پر الزام تھا کہ انہوں نے ناجائز دولت اکٹھی ہے تاہم اُس نے کرکٹ بورڈ کو اپنی تمام آمدنی اوربینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرکے خود کو معصوم ثابت کیا جس کے بعد ان پر لگا ممنوعہ کا ٹیگ ہٹا دیا گیا۔دوسری طرف کامران اکمل کے چھوٹے بھائی عدنان اکمل نے بھائی کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اپنی وکٹ کیپنگ سے سب کو متاثر کیا۔ عدنان نے نیوزی لینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں وکٹوں کے پیچھے چھ کیچز لیکر اپنے باصلاحیت کیپر ہونے کا ثبوت دیا تاہم دیکھنا ہوگا کہ وہ کامران اکمل کی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھٹی کراتے ہیں یا خود بڑے بھائی کی واپسی کے بعد اندھیروں میں غائب ہوتے ہیں ۔