اعجاز وسیم باکھری:
جب نسیم اشرف شعیب اختر کے خلاف پانچ سال کی پابندی لگانے کیلئے پریس کانفرنس کی تیاری کیلئے ہوم ورک کرنے میں مصروف ہونگے تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ شعیب پر پابندی لگانے کے بعد وہ نہ صرف خود زیر عتاب آجائیں گے بلکہ ان کو لینے کی دینے بھی پڑسکتے ہیں ،اگر نسیم اشرف کو اس بات کا ذرا بھی ادراک ہوتا تو ممکن ہے کہ وہ یہ ”اوچھی حرکت“نہ کرتے کیونکہ شعیب اختر پر پابندی لگنے کے بعد جو عوامی و سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے اس سے یہ صاف جھلک رہا ہے کہ اس سردردی کو ختم کرنے کیلئے کسی بھی وقت نسیم اشرف صاحب کی چھٹی کے احکامات آسکتے ہیں لیکن فی الحال اس بات کا خدشہ ضرور ہے مگراب تک کوئی اشارہ نہیں ملا۔
یکم اپریل کو شعیب پر پانچ سال کی پابندی لگی…موجودہ صورت حال یہ ہے کہ شعیب اختر نے سزا کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ ہی میں اپیل دائرکردی ہے جس کی کارروائی کا آغازپیر کے روز سے ہوگا، پاکستان کے تمام بڑوں شہروں میں شعیب اختر کے حق اور نسیم اشرف کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔جہاں شعیب اختر کے حق میں مظاہرے طول پکڑرہے ہیں وہیں نسیم اشرف عوامی طور پر اپنی ساکھ کھورہے ہیں جس کا اندازہ ان نعروں سے لگایا جاسکتا ہے”نسیم اشرف مردہ باد“غدار ہے غدار ہے نسیم اشرف غدار ہے“شرم کرو حیاء کرو شعیب کو بحال کرو“ایسے نعرے آجکل ہراس جگہ پر سننے کو ملتے ہیں جہاں شعیب اختر جاتے ہیں یا نسیم اشرف صاحب کا گزر ہوتا ہے۔اس بات میں تو کوئی بعید نہیں کہ نسیم اشرف کے دور صدارت میں پاکستان کرکٹ کو جنتا نقصان ہوا شاید ہی ماضی میں ایسا ہوا ہو۔تجزیہ نگار اور کھیل پر گہری نگاہ رکھنے والے پنڈتوں کا خیال ہے کہ پاکستان کرکٹ کیلئے نسیم اشرف کینسر کا درجہ رکھتے ہیں حالانکہ موصوف یہ الزام شعیب اختر پر عائد کرتے ہیں۔نسیم اشرف اور شعیب اختر کے درمیان چلنے والا تنازع اس قدر طول پکڑگیا ہے کہ شعیب اختر نے ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ ”نسیم اشرف مجھ سے آئی پی ایل میں کھیلنے کا حصہ مانگتا تھا جس سے میں نے انکار کیا تو مجھ پر پابندی لگادی“ یہ کہانی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور صدرمشرف کی کہانی کی نقل لگتی ہے۔مشرف صاحب نے بھی چیف جسٹس کو اپنے حق میں فیصلے کرنے پر مجبورکرنے کی کوشش کی تھی جس پر چیف جسٹس نے انکار کیا تو صدر مشرف نے ان کو کام سے روک کر ریفرنس دائرکردیا جس کو فل کورٹ نے معطل کرکے چیف جسٹس کو بحال کردیا ، مگر مشرف صاحب نے آخری مکا رسید کرتے ہوئے 3نومبر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے ایک بار پھر چیف جسٹس کو راستے سے ہٹا دیا اور اب حالات ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے کیلئے تیارہیں جہاں نئی حکومت نے چیف جسٹس کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں مشرف صاحب کے گرد گھیرا تنگ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے ،یہی چیزیں شعیب اختر اور نسیم اشرف کے معاملے میں بھی نظر آرہی ہیں مگر اس کا انجام کیا ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ شعیب اختر کی سزا ختم ہویا نہ ہو مگر نسیم اشرف صاحب کی چھٹی یقینی لگ رہی ہے کیونکہ وہ مشرف صاحب کے خاص دوستوں میں شمار ہوتے ہیں اور مسلم لیگ نواز انہیں برطرف کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے جس کاثبوت انہوں نے شعیب اختر پر عائد پابندی کے خلاف قومی اسمبلی می تحریک التواء پیش کرکے دیا ، دوسری جانب ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی شعیب اختر پر عائد پابندی ہٹانے کی مطالبہ کیا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتانوں عمران خان اور جاوید میانداد نے نسیم اشرف سمیت کرکٹ بورڈ کے تمام سسٹم کو تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔
ایک طرف شعیب اختر نے اپنی پابندی کے خلاف اپیل دائرکردی ہے اودوسری جانب نسیم اشرف صاحب نے خود پر رشوت کا الزام لگانے پر شعیب اختر کو 20کروڑ روپے کا لیگل نوٹس بھی بھیج دیا ہے۔اس تمام صورت حال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے وہ تو اگلے چندروز میں فیصلہ ہوجائیگا مگر اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس طرح شعیب اختر پر پابندی لگا کر ملک و قوم کا نام بدنام کیا ہے وہ ایک ناقابل تلافی اقدام ہے۔عمران خان کہتے ہیں کہ نسیم اشرف کی اتنا کوالیفیکشن ہی نہیں کہ وہ کسی کھلاڑی پر پابندی لگاسکیں۔یہ بھی سچ ہے کہ نسیم اشرف صدرمشرف کے دوست ہیں اور وہ اسی بات کا فائدہ اٹھاکر کھلاڑیوں کو ڈرادھمکاکر اپنا غلام بنا کررکھنا چاہتے ہیں جسے شاید شعیب اختر نے قبول نہیں کیا جس پر وہ سزا کے حقدار ٹھہرے ہیں۔گوکہ یونس خان اور شاہد آفریدی سنٹرل کنٹریکٹ میں ہونے کے باوجود بورڈ کے فیصلے کے بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں مگر یہ سچ ہے کہ ماضی میں نسیم اشرف ان دونوں کو کھلاڑیوں کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کرچکے ہیں جہاں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا،یونس خان نے دبے لفظوں میں کہا کہ ان کی ہمدردیاں شعیب اختر کے ساتھ ہیں۔تمام پاکستانی شعیب اختر پر پابندی ختم کرکے اس دوبارہ ٹیم میں دیکھنے کی متمنی ہیں مگر کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کی ہٹ دھرمی شعیب اختر کے آڑے رہی ہے جسے ختم کرنا نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ پی سی بی کے افسران کی فوج ظفرموج نہ صرف ملکی خرانے لوٹ رہی ہے بلکہ اب وہ قومی سٹارز کو بھی ذلیل و خوار کرنے کی مہم شروع کرچکے ہیں جو کہ نہ صرف پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو درست ہوگا کہ یہ ایک پاکستان کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر لیجانے کی سازش ہے جسے ہر حال میں ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔