UrduPoint Sports

كھیل >> نیا اضافہ

اعجاز وسیم باکھری:
کسی بھی مہذب معاشرے میں کھیلوں کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں سے نہ صرف نوجوان نسل جسمانی اور ذہنی طورپر مضبوط رہتی ہے بلکہ اس سے معاشرے میں امن اور دوستی کی فضابھی قائم رہتی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں یہ کھیل ہی ہوتے ہیں جو اپنے ملک کو عالمی سطح پر متعارف کرواکراسے ایک پہچان عطاکرتے ہیں اور کھیلوں کی وجہ سے دوسرے ممالک کی ثقافت،عوامی شعور اورملک کی ترقی کے تناسب کا باآسانی جائزہ لیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمیشہ کھیلوں میں عمدہ مقام حاصل کرنے والی ٹیموں کے ملک کی عوام خوشحالی کی زندگی بسر کررہی ہوتی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت ہمارا ملک پاکستان ہے جہاں گزشتہ 13سالوں سے پاکستان کسی بھی کھیل میں عالمی کپ جیتنے کا اعزاز حاصل نہیں کرسکاجس کی سب سے بڑی وجہ ملک کی معاشی طاقت میں کمی اور کمزور پالیسیاں تھیں جس سے پا کستان کھیلوں کی دنیا میں ایک ناکام ترین ملک بن کررہ گیا ہے اور اگر ہم اردگرد کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو جو ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ان کی کھیلوں کی ٹیمیں بھی اس وقت دنیا کی مضبوط ترین ٹیمیں ہیں اورجو ممالک اقتصادی طور پر کمزور ہیں ان کی کھیلوں کی ٹیمیں بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی پیش نہیں کرپائیں ان ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں جب بھی کوئی فوجی حکومت آتی ہے تو تمام شعبوں کی طرح پاکستان میں کھیلوں کا معیاربھی آمریت کی نذر ہوجاتا ہے جس کا واضع ثبوت 1999ء سے لیکر 2008ء تک آپ کے سامنے ہے جہاں پاکستان کی کوئی بھی ٹیم چاہے وہ فٹبال ہو،ہاکی ہو یا کرکٹ تمام ٹیمیں ورلڈکپ مقابلوں میں پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہوتی رہیں ۔مگر اب ماہرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ق کی الیکشن میں شکست کے بعد جو نئی حکومت بنے گی وہ کھیلوں پر بھی خصوصی توجہ دے گی جس کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ ،پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کے دفاتر میں ایک بے چینی سی پھیل گئی ہے کیونکہ توقع کی جارہی ہے کہ ان تینوں کھیلوں کے سربراہان کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا جائیگا کیونکہ تینوں کھیلوں کے سربراہ سابقہ حکومت کے قریبی لوگ ہیں جن میں ڈاکٹر نسیم اشرف جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں ان کا شمار صدر مشرف کے انتہائی قریبی دوستوں میں ہوتا ہے جبکہ ہاکی فیڈریشن کے سربراہ میر ظفراللہ جمالی جو کہ مسلم ق کے دور حکومت میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اورپی ایف ایف کے صدر مخدوم فیصل صالح حیات سابقہ حکومت میں وزیر داخلہ رہے اور ان کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے تھا مگروہ پی پی پی میں فارورڈ بلاک بنا کر مسلم لیگ قاف میں شامل ہوگئے تھے لہذا ان کی چھٹی بھی یقینی لگ رہی ہے ۔ان تینوں سربراہان کی چھٹی کی پہلی وجہ تو سابقہ حکومت میں شمولیت تو ہے ہی مگر انہیں فارغ کرتے وقت یہ موقف با آسانی اپنایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان نے ہاکی ،کرکٹ اور فٹبال میں کوئی بڑا معرکہ فتح نہیں کیا لہذا تمام بورڈز کے سربراہان کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے ۔ان تینوں کے دور اقتدار میں ایک تو ٹیمیں پورا سال پیٹتی رہتی تھی اور دوسرابورڈز کے اندر بڑے پیمانے بے قاعدگیوں بھی عروج پر رہیں۔تینوں اداروں میں انتہائی بے دردی سے قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا جاتا رہا اور اپنی من مانی کی تمام حدیں بھی عبور کی گئی ۔جہاں ایک شخص کو ملازمت پر رکھنا تھاوہاں اس شعبے میں تین اور شعبے بنا کربے مقصد بھاری تنخواہوں پر چار چارافرادکو رکھا گیا اور جن لوگوں کو ملازمتیں دی گئیں وہ نہ تو کھیل سے واقف تھے اور نہ ہی ان میں انتظامی امور چلانے کی اہلیت تھی یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 9سال سے پاکستان کی تمام ٹیمیں کوئی بڑی فتح حاصل نہیں کرسکی لہذا ان اداروں سے نااہل لوگوں کی چھٹی کراتے وقت نئی حکومت کے پاس ایک سے زائد جواز اور ثبوت موجود ہوں گے اور کھیل پر گہری نگاہ رکھنے والے پنڈت اس بات کی توقع کررہے ہیں کہ نئی حکومت وجود میں آتے ہی کھیلوں کی پستی کی جانب متوجہ ہوگی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کا محاسبہ کیا جائیگا۔میراہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے تو اس ٹیلنٹ کوبہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کمی ہے ۔یہی ہاکی کی ٹیم تھی جو ایک دور میں ناقابل شکست ٹیم تصور کی جاتی تھی مگر آج گزشتہ 14سالوں میں پاکستان نے کسی بھی ورلڈکپ کا کوارٹرفائنل نہیں کھیلا اور سکوائش پر اگر نظر ڈالیں تو آج دنیا کے ٹاپ 20کھلاڑیوں میں کہیں بھی پاکستانی کھلاڑی نظر نہیں آتا جبکہ ماضی میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شکست دینے کیلئے حریف کھلاڑی محض خواب ہی دیکھا کرتے تھے لیکن آج اسی سکوائش کے کھیل میں پاکستان سب سے کم درجہ کا ملک سمجھا جاتا ہے اس میں سب سے بڑا قصور انتظامی امور چلانے والے نااہل لوگوں کا ہے اور یہی حال کرکٹ کا ہے گزشتہ دو ورلڈکپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم پہلے ہی راؤنڈ سے فارغ ہوتی چلی آرہی ہے اور اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پر کرپٹ اور نااہل ترین لوگوں کا قبضہ ہے۔ نئی حکومت سے نہ صرف کھیلوں سے پیار کرنے والے شائقین کی بہت بڑی توقعات وابستہ ہیں بلکہ اب تو قومی کھلاڑی بھی اس فرسودہ نظام سے تنگ آچکے ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے ماہ و سال پاکستان کی تمام ٹیموں کیلئے فتح اور کامرانی کی نوید لیکر آئینگے۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.