اعجاز وسیم باکھری :
کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے یہ کھیل نہ صرف مردوں میں مقبول عام ہے بلکہ پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کرکٹ سے جنون کی حدتک لگاؤرکھتی ہے اور یہ شوق محض دیکھنے کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ لڑکیاں کرکٹ کھیلنے میں بھی کافی دلچسپی رکھتی ہیں اور اس وقت پاکستان کے تمام بڑے گرلز کالجز اور یونیورسٹیز کی اپنی اپنی کرکٹ ٹیمیں ہیں جو نیشنل چیمپئن شپ کے علاوہ انٹریونیورسٹی اور انٹرکالجیٹ چیمپئن شپ میں حصہ لیتی ہیں۔پاکستان میں انٹرنیشنل سطح وویمنز کرکٹ کا آغاز1990ء کے اوائل میں ہوااور آج پاکستانی ٹیم کی خواتین کرکٹ کے حوالے سے ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔گزشتہ کئی عرصے سے پاکستانی ٹیم کوئی خاطر خواہ کھیل پیش کرنے میں ناکام چلی آرہی ہے جس کے بہت سے عوامل ہیں۔کچھ عرصہ قبل قومی ٹیم کے کارکردگی میں پروفیشنل ازم دیکھنے کو ملا لیکن اسے برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے اور ایک بار پھر پاکستانی کی خواتین کرکٹ ٹیم شکستوں کی راہ پر چل پڑی ہے ۔گزشتہ ہفتے سری لنکا میں ہونیوالے خواتین ایشیا کپ میں قومی ٹیم نے ایونٹ میں کھیلے گئے چھ میچز میں پانچ میں شکست کا منہ دیکھا اور اولین فتح بنگلہ دیش کے خلاف نصیب ہوئی۔ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کوتمام شکستیں بھاری مارجن سے ملیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خواتین کرکٹ ٹیم کی ترقی کیلئے جو دعوے کیے جاتے ہیں وہ محض دعوی ہی ہیں اور ہمیشہ کسی بڑے ایونٹ میں یا اچھی ٹیم کے خلاف پاکستانی ٹیم پہلے بیٹنگ کرے تو 100رنز نہیں کرپاتی اور اگر ہدف کا تعاقب کرے تو زیادہ سے زیادہ70رنز بنا کر ڈھیر ہوجاتی ہے یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہے جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے خواتین ونگ کی سرپرستی سنبھالی۔ابتدا میں ہونیوالی شکستوں پر تبصرہ کرتے ہوئے خواتین ونگ کے عہدیداروں کا جواب ہوتا تھا کہ ابھی چند دن تو ہوئے ہیں آگے چل کر بہترین نتائج مرتب ہونگے لیکن اب تو چند سال گزرنے کے باوجودبھی پاکستان وویمنز کرکٹ ٹیم کوئی بڑا معرکہ فتح حاصل کرنا تو دور کی بات ہے کسی بڑی ٹیم کو ٹف ٹائم بھی نہیں دے سکی۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی لگاتار شکستوں کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ناقص سلیکشن ہے کیونکہ وویمنز ونگ نے ٹیم کی سلیکشن کو انتہائی محدود کھلاڑیوں پر روک رکھا ہے اور ہربار انہیں کھلاڑیوں کو بیرونی دوروں پر لیجایا جاتا ہے جس سے ٹیم کی کارکردگی کا گراف بلند ہونے کے پستی کی جانب محوسفر ہے۔اس وقت قومی ٹیم میں بہت سی کرکٹرز ایسی ہیں جو کہ نہ صرف فٹنس مسائل کا شکار ہیں بلکہ ان کی کارکردگی کا معیار بھی وہ نہیں رہا جس کو بنیاد بنا کر انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔حالانکہ پی سی بی کے سرپرستی سے قبل کرن خان اور شائزہ خان اپنی مددآپ کے تحت خواتین کرکٹ کا نظام چلا رہی تھیں تب نہ صرف پاکستانی ٹیم کے پاس ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ تھا بلکہ ٹیم کی کارکردگی معیار بھی بلند تھا مناسب سہولتیں نہ ملنے کے باوجود یہ لوگ انتہائی شاندار طریقے سے خواتین کرکٹ کا نظام چلا رہے تھے مگر جب سے خواتین کرکٹ کا کنٹرول پاکستان کرکٹ بورڈ کے سپردہوا تو نہ صرف ٹیلنٹ کا خون کیا گیا بلکہ بین الاقومی سطح پر ٹیم کی کارکردگی صفر سے بھی کمتر درجے پر چلی گئی ہے۔ پی سی بی کی خواتین ونگ کے رویعے کے باعث آج قومی ورلڈ کلاس بیٹسمین کرن بلوچ ریکارڈز ساز پرفارمنس دینے کے باوجود اندھرے کا شکار ہوچکی ہے۔ غلط پالیسیوں کے باعث ملک میں با صلاحیت خواتین کرکٹر کا نہ صرف مستقبل تباہ ہورہاہے بلکہ پی سی بی کی منتخب کردہ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس انتہائی تنزلی کا شکار ہے اور بجائے اس میں بہتری آنے کے کارکردگی کا لحاظ روز بروز واجبی سے بھی کمتر ہوتا جارہا ہے ۔دوسری جانب ٹیم کو چلانے والی انتظامیہ نے آج بھی میرٹ کی رٹ لگائی ہوئی ہے لیکن بھارت میں ہونیوالے پچھلے ایشیا کپ سے لیکر موجودہ ٹورنامنٹ کے اختتام تک ٹیم میں کوئی خاص بڑی تبدیلیاں نہیں کی گئی ہیں اور چھوٹے شہروں کی باصلاحیت لڑکیوں کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ بھی تواتر کے ساتھ جاری ہے۔خوش قسمتی سے قومی ٹیم اگلے برس آسٹریلیا میں ہونیوالے ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرچکی ہے جس کیلئے سلیکشن کے معیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیم میں موجود بہت سی کھلاڑیوں کی فارم اور فٹنس اس قابل نہیں ہے کہ وہ ایک سال بعد میگا ایونٹ میں کچھ کردکھائیں اس کیلئے ابھی سے پلاننگ کرکے پورے ملک میں اوپن ٹرائلز کیلئے باصلاحیت لڑکیوں کا انتخاب کرکے انہیں اکیڈمی میں ترتیب دی جانی چاہیے اگر سلیکشن کا معیار یوں ہی رہا تو ورلڈکپ میں بھی کارکردگی کا گراف جوں کا توں رہے گا۔