اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ کے حوالے سے ایک خوش نصیب ملک ہے جسے ہمہ وقت دنیائے کرکٹ کے بہترین فاسٹ بولرز کا ساتھ میسر رہاہے۔فضل محمود سے لیکر عمرگل تک پاکستان کے پاس کئی ورلڈکلاس فاسٹ بولر آئے جنہوں نے دنیا بھر کے نامور بلے بازوں کے اعصاب پر حکمرانی کی یہی وجہ ہے کہ پاکستان کوفاسٹ بولرز کی سرزمین کہا جاتا ہے جہاں ہمیشہ موقع کے منتظر فاسٹ بولرز کی ایک لمبی لائن لگی رہتی ہے لیکن گرین کیپ پہننے کا موقع اسے ملتا ہے جس کی قسمت اچھی ہو۔کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ 20ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ میں ایک ایسا واقعہ پیش آئیگا جو کہ شعیب اختر کو ٹورنامنٹ سے باہر کردیگا اور اس کے متبادل کے طورپر جس بولرکو بھیجاجائیگا وہ انٹرنیشنل سطح پر کھیلنے کا قطعی تجربہ نہیں رکھتاہوگا اورجس طرز کے ٹورنامنٹ یعنی ٹونٹی ٹونٹی میچز کیلئے اسے بھیجا جارہاتھا ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ 10میچز کھیل کر ایک بھی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا مگر اس کی خوش قسمتی کہ اس کے انوکھے بولنگ ایکشن کی وجہ سے سلیکٹرزنے اسے ”نئی دریافت“کے طور پر جنوبی افریقہ روانہ کردیا۔22سالہ نوجوان ”کھبے“بولرز نے سلیکٹرز کے فیصلے کی لاج رکھی اور ٹورنامنٹ کے اختتام پر اگرچہ وہ کسی ہیرو کے روپ میں تو واپس نہیں آیا مگر اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے بل پر اس نے ہر ایک کو اپنے بارے میں تعریف کرنے پر مجبورضرور کردیا…جی ہاں…وہ سہیل تنویر ہی ہے جس نے بہت کم عرصے میں محض اپنے انوکھے بولنگ ایکشن کی وجہ سے دنیا کے نامور بیٹسمینوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
12مئی 1984ء کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والے سہیل تنویر نے 16سال کی عمر میں پہلی بار انڈر 19کرکٹ میں حصہ لیا جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں 2002ء کے اوائل میں وہ اٹک ریفائنری کی جانب سے کاردار ٹرافی میں پی ٹی وی کے خلاف وارد ہوئے جہاں ایونٹ میں سہیل تنویر نے 20وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 84رنز سکورکرکے اپنے تابناک مستقبل کی نشاندہی کردی ۔سہیل تنویر نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور سلیکٹرز اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔قائداعظم ٹرافی ہو یا انڈر 19کرکٹ کے مقابلے سہیل تنویر نے اپنے منفرد بولنگ ایکشن کی وجہ سے بلے بازوں بالخصوص بائیں ہاتھ کے بیٹسمینوں کو باہر نکلتی ہوئی گیندوں سے پریشان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
کہنے والے بجاکہتے ہیں کہ اگر ارادے پختہ ہوں اور نظر خدا پر ہواور انسان مسلسل محنت جاری رکھے تو منزل خود چل کر پاس آجاتی ہے۔یہی سب کچھ سہیل تنویر کی کہانی ہے جو آیا اور چھا گیا کے مصداق آج پاکستانی ٹیم کی ضرورت بنتا جارہا ہے ۔سہیل تنویر کو جب سلیکٹرز نے شعیب اختر کے متبادل کے طور پر ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کیلئے بھیجنے کافیصلہ کیا تو سابق کرکٹرز اور ناقدین نے سلیکشن کمیٹی پر زبردست تنقید کی اور سب کا ایک ہی موقف تھا ایک ورلڈکلاس کھلاڑی کے متبادل کے طور پر ایک گمنام سے پلیئرکو بھیجا جارہا ہے لیکن سہیل تنویر نے عمدہ کارکردگی سے نہ صرف اپنے روشن مستقبل کی نوید سنادی بلکہ سلیکٹرز کو اپنے فیصلے پر فخرکرنے کا موقع بھی مہیا کیا۔ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ ،جنوبی افریقہ کے ہوم سیریز اور بھارت کے خلاف کے خلاف سیریز میں سہیل تنویر نے نہ صرف بولنگ بلکہ بیٹنگ کارکردگی کا بھی شاندار مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ دوہری صلاحیتوں کا مالک کھلاڑی ہے جو اپنی ٹیم کو ایک طویل عرصے تک فتوحات سے ہمکنار کرا سکتا ہے۔
سہیل تنویر کے کامیاب بولر ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کا بولنگ ایکشن ہے وسیم اکرم کے برابررن اپ سے بھاگتے ہوئے جب وہ امپائرکو کراس کرتا ہے تو بغیر کوئی جمپ لگائے یکایک اپنا بایاں ہاتھ کچھ ایسے انداز میں گھماتا ہے کہ بیٹسمین کو آخری لمحات میں یہ علم ہوتا ہے کہ گیند اس کی جانب آرہی ہے کیونکہ گیند کراتے وقت سہیل کا چہرہ بالکل تھرڈ امپائر کی جانب ہوتا ہے یہی وہ گومگو کی کیفیت ہے جس کی وجہ سے بڑے سے بڑے بیٹسمین بھی بچگانہ طریقے سے بولڈ ہوجاتے ہیں۔سہیل تنویر نے جس طرح کم عرصے میں عالمی کرکٹ میں خودکو منوایا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی عارنہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ وسیم اکرم تو نہیں بن سکتا لیکن وسیم اکرم کی کمی پوری کرسکتا ہے۔ قومی ٹیم کو ایک ایسے ہی آل راؤنڈر کی ضرروت ہے جوعمدہ بولنگ کے ساتھ ساتھ مؤثر بیٹسمین بھی ہو جومشکل وقت میں اپنے ٹیم کے کام آسکے، سہیل تنویر ایک نچرل ٹیلنٹیڈ کھلاڑی ہے اور شائقین نے ہمیشہ سہیل سے بڑی توقعات وابستہ کیں ہیں اور سہیل ہمیشہ اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار نبھانے کیلئے ایکٹو نظرآتے ہیں ،امید ہے کہ وہ اپنی اس عمدہ کارکردگی کے سلسلے طویل عرصے تک جاری رکھیں گے.