اعجاز وسیم باکھری:
کیا یہ کہنا درست ہے کہ سچن ٹنڈولکر جتنا بڑا بلے باز ہے اس سے کہیں زیادہ بزدل کرکٹر ہے۔؟۔شاید بہت سے لوگ اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ماسٹر بلاسٹر 90رنز کے ہندسے کو عبور کرنے کے بعد انتہائی گھبراہٹ کا شکارہو جاتے ہیں اور اس قدر ڈر جاتے ہیں کہ ان کیلئے ایک ایک رنز کا حصول مشکل ہوجاتاہے جس کا عملی مظاہرہ گزشتہ پانچ ماہ سے کرکٹ شائقین دیکھ رہے ہیں کہ لٹل ماسٹر90رنز کے بعد تھر تھر کانپنے لگتے ہیں اور لاکھ کوششوں کے باوجود بھی وہ تہرے ہندسے کو نہیں چھوپارہے ۔حالانکہ ون ڈے کرکٹ میں سچن کو سب سے زیادہ 41سنچریاں بنانے کے اعزاز حاصل ہے جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی وہ 37سنچریوں کے مالک ہیں لیکن اس سب کارناموں کے باوجود موجودہ دور ملاسٹر بلاسٹر میں سنچری سکور کرنے کو ترس گئے ہیں ۔رواں سال یعنی 2007میں سچن نے چھٹی بار 90رنز کے ہندسے کو عبور کیا اورلیکن بدقسمتی ا ور بزدلی کی وجہ سے وہ سنچری مکمل نہ کر سکے جبکہ تین بار وہ 99رنز بنانے کے بعد اس قدر گھبراہٹ کا شکار ہوگئے کہ حریف بولرز نے ان کیلئے ایک رنز کا حصول بھی مشکل بنا دیا اور وہ تین بار99رنز پر آؤٹ ہوگئے۔اگر اس حوالے سے سچن کے پورے کیرئیر پر نظر ڈالی جائے تو16مرتبہ سنچری کے نزدیک تر پہنچ کر ان کی ہمت جواب دے گئی جوکہ کرکٹ کی دنیا کا ایک انوکھا ترین عالمی ریکارڈ ہے۔سچن اپنے کیرئیر میں سب سے زیادہ 6مرتبہ پاکستان کے خلاف سنچر ی کے نزدیک پہنچ کر نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ۔لٹل ماسٹر کے کیرئیر کے اختتام کے جوں جوں دن قریب آرہے ہیں ان کی بیٹنگ پرفارمنس میں حیران کن بہتری پیدا ہوتی جارہی ہے وہ حریف بولرز کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔حالانکہ گزشتہ سال وہ چندماہ انجری کا شکار رہے تو سابق کرکٹرز نے انہیں ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیا تھا لیکن سچن نے کسی کی بات پر کان نہیں دہرے اور اپنی واپسی کیلئے جدوجہد کرتے رہے اور جب وہ دوبارہ میدان میں لوٹ آئے توان کی بیٹنگ میں وہ بات نہیں تھی جو ان کی وجہ پہچان تھی اور سچن بہت معمولی سکور پر آؤٹ ہونا شروع ہوگئے جس سے ایک بار پھر وہ ناقدین کی تنقید کی زد میں آگئے اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ بھارتی سلیکٹرزکو بھی سچن کے کیرئیر کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کیلئے سوچ بچار کرنا پڑی لیکن ایک دم سے حالات نے پلٹا کھایا اور سچن دوبارہ نمایاں کھیل پیش کرکے بھارتی ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنا شروع ہوگئے ۔بطور اوپنر کھیلتے ہوئے وہ اپنی ٹیم کو ایک قابل ستائش آغاز فراہم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے لیکن جب ان کی انفرادی اننگز90رنز کے ہندسے کو عبور کرتی ہے تو سچن کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اوروہ نروس نائنٹیز کے آسیب سے دامن نہیں چھڑاپاتے جس سے نہ صرف سچن کے پرستاروں کو ہر بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو وہ انتہائی اہم موڑ پر اپنی ٹیم کو بیچ منجدھار چھوڑ دیتے ہیں جس سے ٹیم ایک جیتی ہوئی بازی ہار بیٹھتی ہے جس کا تمام تر ذمہ ٹنڈولکراور اس کی بزدلی ہوتی ہے۔
گزشتہ 27میچز ایسے گزرے ہیں جہاں سچن ٹنڈولکر کوئی ایک بھی سنچری سکور نہ کر پائے جبکہ ان 27میچز میں سات مرتبہ ایسا موقع بھی آیا کہ وہ 90رنز عبور کرنے کے بعد بھی 42ویں سنچری سکور کرنے میں ناکام رہے ۔پاکستانی ٹیم ان دنوں بھارت کے دورہ پر ہے اور قومی ٹیم کو پانچ میچز کی سیریز میں شکست کھا چکی ہے چندی گڑھ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں ٹنڈولکر کو عمرگل نے اس وقت وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرادیا جب وہ سنچری سے محض ایک رنز کی دوری پر تھے ۔آؤٹ ہونے سے قبل سچن کی گھبراہٹ کے اثار نمایاں تھے بھارتی شائقین لٹل ماسٹر کا حوصلہ بڑھانے کیلئے بھرپور شور کررہے تھے اور ٹیم انڈیا کے کھلاڑی اپنے سنیئر بیٹسمین کو سنچری کاخراج تحسین پیش کرنے کیلئے اپنی اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے لیکن عمرگل کی آف سٹمپ پر پھینکی گئی گیندکو وہ تھرڈ مین پر سنگل لینے کیلئے کھیلنے کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے۔کامران اکمل نے انتہائی خوبصورت انداز میں کیچ لیا ۔سچن کے آؤٹ ہوتے ہیں سٹیڈیم میں ایک سناٹا سا چھا گیا۔رواں سیریز میں ایک بار پھر گوالیار کرکٹ گراؤنڈ پر بھارتی ٹیم پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے 255رنز کے ہدف کا تعاقب کررہی تھی جہاں سچن نے انتہائی ذمہ دارنہ بیٹنگ کی ۔ایک بار پھر جب وہ 90رنز پر پہنچے شائقین کے دل کی دھڑکنیں رک گئیں اور خود سچن بھی نروس ہوگئے ۔لیکن 93رنز کے مجموعی سکور پرٹنڈولکر نے چوکا لگایا تاہم اس کے باوجود بھی وہ اپنے اوپر طاری گھبراہٹ کا خاتمہ نہ کرسکے اور عمرگل ہی کی گیند پر بولڈہوکر ایک بار قسمت کی ستم ظریفی کا شکار ہوگئے ۔ماہرین کا خیال ہے کہ سچن ٹنڈولکر دراصل اندر سے ایک بزدل انسان ہیں جو خطرات میں کھیلنے کی اہلیت نہیں رکھتے حالانکہ وہ ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں ملا کر78سنچریاں سکور کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ناقدین اسے دور حاضر کابڑا بلے باز ہونے کے ساتھ ساتھ ”بزدل“کھلاڑی بھی قرار دیتے ہیں جوکہ سچن کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔اگر سچن کے ہمعصر بلے بازوں برائن لارا اور انضمام الحق یا پھر رکی پونٹنگ کا جائزہ لیا جائے تو یہ تینوں اپنے کیرئیر میں بہت کم نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ہیں جبکہ سچن ٹنڈولکر نروس نائنٹیز کے آسیب سے اپنا دامن چھڑانے میں آج تک ناکام چلے آرہے ہیں اور نجانے یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔