اعجازوسیم باکھری:
نیوزی لینڈنے پاکستان کودوسرے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں39رنزسے شکست دیکر تین میچز کی سیریز میں 2-0سے کامیابی حاصل کرکے ٹرافی اپنے نام کرلی۔رواں سال قومی ٹیم کی ٹونٹی ٹونٹی سیریز میں یہ لگاتار دوسری ناکامی ہے ، اس سے پہلے جنوبی افریقہ کیخلاف یواے ای میں پاکستان کو 2-0کی خفت سے دوچار ہونا پڑا ۔نیوزی لینڈ کیخلاف ہمیلٹن میں کھیلے گئے دوسرے میچ میں 186رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم مقررہ اوورزمیں9وکٹوں پر 146رنز بناسکی۔پہلے ٹوٹنی ٹونٹی میچ میں پاکستان کو بلے بازوں کی غیرذمہ دارانہ بیٹنگ کی وجہ سے شکست ہوئی جبکہ دوسرے معرکے میں باؤلرز کی ناقص باؤلنگ کی بدولت قومی ٹیم کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ دوسرے ٹونٹی ٹونٹی معرکے میں اگر قومی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو شاہد آفریدی الیون کھیل کے تینوں شعبوں میں بری طرح ناکام رہی ۔ بیٹنگ کا شعبہ تو پہلے ہی سے کمزور تھا شائقین کو توقع تھی کہ باؤلرز کی بدولت پاکستان دوسرے میچ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کریگا مگر ایسا نہ ہوسکا اور باؤلرز ہی نے ایسی فراغ دلی سے بولنگ کی اپنی ٹیم کو ملنے والے ہدف تک بلے باز پہنچ ہی نہ سکے۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ ”چادردیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیں“پاکستانی باؤلرز کو اس بات کا ادراک بھی ہے کہ ُان کے بیٹسمین انتہائی غیرذمہ دارہیں اور جیت کیلئے سب کچھ انہیں خود کرنا پڑتا ہے مگر اس کے باوجود وہ کیویز کے ہاتھوں پٹتے رہے اور 186رنز کا ہدف پاکستانی بیٹسمینوں کیلئے آسان نہ تھا ،بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ،پاکستانی بلے باز آڑے ترچھے انداز میں شارٹس کھیلتے اور آؤٹ ہوتے رہے۔ جن سے سب سے زیادہ توقعات تھیں وہ تھے کپتان شاہد آفریدی ، موصوف ایک بارپھر اوپنرکی حیثیت سے میدان میں اترے تو کیویز کے چہرے اترگئے لیکن جب وہ ایک فل ٹاس گیند پر بولڈ ہوکر واپس جارہے تھے تو اُن کا اپنا چہرہ اترا ہوا تھا۔ بطور کپتان شاہد آفریدی کو شاید یہ اندازہ نہیں ہے کہ انہیں سب سے زیادہ محنت کرنا ہوگی کیونکہ ٹیمیں جب شکست کھاتی ہیں تو سارا ملبہ کپتان پرگرتا ہے ،رکی پونٹنگ کی مثال آفریدی کے سامنے ہے کہ ایشز سیریزمیں ناکامی کیا ہوئی اُس بچارے کے برے دن شروع ہوگئے ۔ہمارے کپتان سے بھی ناقص حکمت عملی اور خراب بیٹنگ پرفارمنس کیو جہ چھٹکارہ حاصل کرنے کی باتیں گردش کرنا شروع ہوگئی ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ جب سے آفریدی نے پاکستانی ٹیم کی ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی ٹیموں کی قیادت سنبھالی ہے ٹیم کی کارکردگی کا معیار بہت حد تک نیچے چلا گیا ہے اور اگر یوں غیرذمہ دارانہ طرز عمل برقرار رہا ورلڈکپ بھی قوم کو شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔
تین ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز میں ابھی ایک میچ باقی ہے مگر پاکستان سیریز ہار چکا ہے ، اب آخری میچ میں ٹیم کو کامیابی حاصل کرکے اپنے اعتماد کو واپس لانا چاہئے کیونکہ ٹونٹی ٹونٹی سیریز کے بعد دو ٹیسٹ میچز کھیلے جانے ہیں ، پاکستان نے طویل عرصے سے کوئی ٹیسٹ سیریز بھی نہیں جیتی تاہم جنوبی افریقہ کیخلاف دو ٹیسٹ میچز میں عمدہ کارکردگی پیش کرکے ٹیم نے خود کو دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ کے قابل بنا دیا ہے۔مگر ٹونٹی ٹونٹی فارمیٹ میں جہاں پاکستان سب سے زیادہ فیورٹ ٹیم سمجھی جاتی ہے میں ناقص حکمت عملی کی بدولت ٹیم فتح سے کوسوں دورچلی گئی ہے۔دوسری جانب ٹیسٹ سیریز میں حصہ لینے کیلئے کپتان مصباح الحق سمیت سہیل تنویر، اظہرعلی، توفیق عمراور خرم منظورنیوزی لینڈ پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان اورکیویز کے مابین آخری ٹونٹی ٹونٹی میچ جمعرات کو کرائسٹ چرچ میں کھیلا جائیگا جبکہ پہلا ٹیسٹ میچ سات جنوری سے ہملٹن میں شروع ہوگا۔
ٹونٹی ٹونٹی سیریز کے ابتدائی دو میچز میں ٹیم میں محمد آصف اور محمد عامر کی کمی محسوس ہوئی جبکہ کامران اکمل اور شعیب ملک بھی ٹیم کا حصہ ہونا چاہئے۔ عامر اورآصف تو آئی سی سی کی جانب سے معطل ہیں مگر پی سی بی کو شعیب ملک اور کامران اکمل کو واپسی کا موقع دینا چاہئے کیونکہ دونوں کی ٹیم کو ضرورت ہے۔ کرکٹ بورڈ کو ٹیم کی لگاتار ناکامیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور معلوم کرنا ہوگا کہ ٹیم مینجمنٹ نااہل ہے یا کھلاڑیوں میں دم خم نہیں رہا؟۔ جیت کی راہ میں حائل جوبھی رکاوٹیں ہیں انہیں فوراً دور کرنا چاہئے کیونکہ ورلڈکپ میں اب مہینے نہیں صرف چند ہفتے رہ گئے ہیں۔