اعجاز وسیم باکھری۔
ٹونٹی 20کرکٹ ورلڈکپ اپنی تمام تر آب و تاب سے جاری و ساری ہے اورایونٹ کے دوسرے ہی روز زمبابوے نے عالمی چیمپئن آسٹریلیاکو پانچ وکٹوں سے اپ سیٹ شکست دے کر نہ صرف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اپ سیٹ کیا ہے بلکہ آسٹریلیا کو ایونٹ سے انخلاء کے دہانے پر بھی لا کھڑا کیا ہے۔دوسری جانب پاک شاہینوں نے ٹونٹی ورلڈکپ میں اپنی مہم جوئی کا آغا ز انتہائی پراعتماد طریقے سے کردیاہے لیکن قومی کھلاڑیوں سے جس طرح کی پرفارمنس کی توقع کی جارہی تھی ویسا کھیل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے سکاٹ لینڈ جیسی کمزور ٹیم کے خلاف 20اوورز میں 9وکٹوں کے نقصان پر 171رنز بنائے کوئی بھی پاکستانی بیٹسمین نصف سنچری اسکور کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا جواب میں سکاٹ لینڈ نے حدف کا تعاقب شروع کیا تو قومی بولرز نے نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کیا اور پوری سکاٹش ٹیم 120رنزپر ڈھیرہو گئی پاکستان کی جانب سے عمرگل اور شاہد آفریدی نے چار چار وکٹیں حاصل کیں شاہد آفریدی کو 7گیندوں پر 22رنزبنانے کے علاوہ چاروکٹیں حاصل کرنے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ میچ کے اختتام پر شاہد آفریدی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”جس بھی دن میرا بیٹ چل گیا وہ دن کرس گیل کی سنچری کے ریکارڈ کا آخری دن ہوگا“ اس کے علاوہ جارح مزاج بیٹسمین نے کہا کہ 14ستمبر کو بھارت کے خلاف میچ کیلئے مکمل پلاننگ کررکھی ہے اورفتح کیلئے پرعزم ہیں۔یہ بات سب نے محسوس کی ہے کہ سکاٹ لینڈ کے بولرز کے خلاف جس روانی سے پاکستانی بلے بازوں کو ماردھاڑ کرنی چاہیے تھی وہ ویسی نہ کرسکے اور تمام اننگز میں سوائے شاہد آفریدی اور یونس خان کے دیگر تمام بلے بازدباؤکا شکارنظر آئے۔اوپننگ کی جوڑی کے بارے میں جس طرح کے دعوے کیے جارہے تھے وہ بھی سب غلط ثابت ہوئے۔ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں ہمیشہ اس ٹیم کی کامیابی کے امکان بہت زیادہ ہوتے ہیں جسے بہترین اوپننگ سٹارٹ ملے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چار سال سے پاکستان کرکٹ ٹیم کو مستند اوپننگ جوڑی نہیں مل سکی۔نجانے کیوں پاکستانی اوپنرز کے وکٹ پر پہنچتے ہی ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور غیرضروری شارٹس کھیل کر بہت جلد وکٹ گنوا دیتے ہیں ۔ٹونٹی 20ورلڈ کپ میں اپنی مہم جوئی کے آغاز میں سکاٹ لینڈ کے خلاف بولنگ میں پاکستان کی کارکردگی کا معیار بلند تھا ،بالخصوص شاہد آفریدی اورعمرگل نے ٹارگٹ پر گیندیں کرائیں اور سکاٹ لینڈ کے بیٹسمینوں کو کھل کر کھیلنے نہ دیا۔پاکستان کی سکاٹ لینڈ کے خلاف کامیابی خوش آئندضرور ہے مگر قومی بیٹسمینوں نے ابھی تک شاندار اور پراعتماد کھیل پیش نہیں کیا ۔اب بھارت کے خلاف اہم ترین میچ ہے اس میں اوپنر ز سمیت تمام بلے بازوں کو ذمہ داری سے کھیلنا ہوگا ۔بولنگ کے شعبے میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے اور اگر مشاہد نظر وں سے دیکھا جائے تو بیٹنگ میں بھی قومی ٹیم کی پوزیشن بھارت کے مقابلے میں مضبوط ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کے تین چوٹی کے بیٹسمین سچن ٹنڈولکر ، سارو گنگولی اور راہول ڈریوڈ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کمزور ضرور ہوچکی ہے لیکن ٹوٹنی ٹونٹی کرکٹ میں آپ آخری نمبر وں پر کھیلنے والے بیٹسمینوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ زمبابوے نے آسٹریلیا جیسی سپر پاور ٹیم کو مات دیکر یہ ثابت کردیا ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں نہ تو بڑے نام کام آتے ہیں اور نہ ہی کسی چھوٹی ٹیم کو کمزور تصور کیا جاسکتا ہے۔ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں زمبابوے نے آسٹریلیا کو 5وکٹوں سے شکست دیکر ”ورلڈکپ ٹرافی ”کو چوراہے پر لا کر رکھ دیا جسے کوئی بھی اٹھا کر لے جاسکتا ہے۔تمام وقت زمبابوے نے مثبت کرکٹ کھیلی اور یہ ثابت کیا کہ ٹیم میں ہم آہنگی ہو تو ورلڈچیمپئن کو بھی زیر کیا سکتا ہے۔رکی پونٹنگ کو زمبابوے کے خلاف اس ذلت آمیزشکست پر اس بات کا ادراک ضرور ہواہوگا کہ آسٹریلوی ٹیم کی حکمرانی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں ۔بولنگ کے شعبے میں بھی ورلڈچیمپئن سائیڈ اپنا روایتی کھیل پیش نہ کرسکی اور بیٹنگ میں تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آسٹریلوی یونیفارم میں کسی کلب کی ٹیم کھیل رہی ہو۔زمبابوے ان دنوں کرکٹ کے شدید ترین بحران سے گزررہا ہے ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ چھینا جا چکاہے اور ٹیم کا شیرازہ بھی بکھر چکا ہے ،کوئی بھی ٹیم زمبابوے کا دورہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی حتیٰ کہ آسٹریلوی ٹیم بھی زمبابوے جانے سے گریزاں ہے لیکن ٹوٹنی ٹونٹی کپ میں آسٹریلیا کو شکست دیکر زمبابوین ٹیم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک بار پھر کھیل کی دنیا میں راج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور تمام کھلاڑی جیت کے جذبے سے سرشار ہیں۔زمبابوے کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد آسٹریلوی کیمپ میں اس وقت بے یقینی اورویرانی کی سی کیفیت چھائی ہوئی ہے اور اس بات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ آسٹریلیا دوسرے راؤنڈ تک نہ پہنچ سکے۔ اگر یہ خدشہ درست ثابت ہوا تو یہ اس بات کی جانب سے واضح اشارہ ہوگا کہ آسٹریلیا کی حکمرانی کا سورج غروب ہونے والا ہے اور ویسے بھی آسٹریلوی ٹیم میں کم عمر کھلاڑیوں کی تعداد انتہائی کم ہے تمام سینئر کھلاڑی کھیل کے حوالے سے اپنی عمر کے آخری حصوں کو چھورہے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ آسٹریلیا مزید کتنا عرصہ کرکٹ پر حکمرانی کرتا ہے۔