اعجاز وسیم باکھری::
کیا شائقین کرکٹ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاک بھارت ٹیموں کے درمیان ہونیوالا تاریخ ساز معرکہ بھلا پائیں گے؟دوسر ے لوگوں کے بارے میں تو حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی لیکن میرے لیے یہ میچ ہمیشہ ناقابل فراموش رہے گا۔گو کہ اس میچ میں پاکستان نے بے شمار غلطیاں کیں اور کئی غلطیاں بار بار دہرائیں لیکن میچ کی دلچسپی اور اتار چڑھاؤ نے پاکستان کی شکست کے دکھ اور صدمے کی کیفیت کو بہت حد تک کم کردیا ۔شاید اس سے بڑا سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلہ دوبارہ کبھی دیکھنے کو نہ ملے اور اس بڑا اعصاب شکن مقابلہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ میچ کی آخری بال کے پھینکے جانے کے بعد بھی یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ اس میچ کا فاتح کون ہے؟۔گوکہ بھارتی ٹیم نے بال آؤٹ مرحلے میں 3-0سے کامیابی حاصل کی لیکن دونوں حریف ٹیموں نے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے انعقاد کے مقصد کو پورا کردیا۔کہنے والے درست کہتے ہیں کہ پاک بھارت کرکٹ مقابلے جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور گزشتہ روز ہونیوالا ٹونٹی ٹونٹی مقابلہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت بھی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاک بھارت مقابلے شائقین کیلئے انتہائی دلچسپی کا سماں پیدا کرتے ہیں اور پوری دنیا کی نظریں محض پاک بھارت میچ پرمرکوز ہوتی ہیں جہاں ہرطرف سے ”ہم جیتیں گے“کی صدائیں بلند ہورہی ہوتی ہیں تو وہیں کھلاڑیوں پر بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور دونوں اطراف سے کھلاڑی بے تحاشہ پریشر کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونیوالا ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ مقابلہ کئی لحاظ سے یادگار رہے گا دونوں ٹیمیں دو سال کے وقفے کے بعد سامنے آئیں اور دونوں ٹیموں نے یکساں کھیل پیش کیا۔پاکستان نے اس میچ میں کئی غلطیاں کیں مثلاً سلمان بٹ کو شامل کرنے کا فیصلہ درست ثابت نہ ہوا یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سلمان بٹ جیت کیلئے نہیں محض ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کیلئے کھیلتا ہے ۔بدقسمتی سے شاہد آفریدی یونس خان اور عمران نذیر خاطر خواہ کھیل پیش کرنے میں ناکام رہے لیکن دوسری جانب بولنگ کے شعبے میں محمد آصف نے شاندار کھیل پیش کرکے بھارتی بیٹسمینوں کا وکٹ پر ٹھہرنا دو بھر کردیا ۔141رنز کاحدف کوئی بڑا ٹارگٹ نہیں ہے لیکن پاکستانی بلے بازوں نے خواہ مخواہ اپنے اوپر پریشر کا بوجھ ڈال کر وکٹ گنوائے اور میچ کو مشکل بنا دیا۔شاہد آفریدی کے آؤٹ ہونے کے بعد میچ کا جواختتا م ہواا س طرح کی توقع بہت کم لوگ کررہے تھے لیکن نوجوان آل راؤنڈر یاسر عرفات نے بھارتی ٹیم کا با آسانی فتح حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔آخری اوور میں پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے 12رنز درکار تھے مصباح الحق نے دو ڈبل اور دو چوکے لگا کر میچ پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا لیکن بدقسمتی سے وہ آخری دوبالوں پر ایک رنز بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور یوں یہ میچ ٹائی پر اختتام پذیر ہوا۔ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کے قانون کے مطابق ٹائی ہونے والے میچ کافیصلہ ”بال آؤٹ “پر کیا جاتا ہے اور یہی نظارہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سنسنی خیز اور سسپنس سے بھرے میچ میں دیکھنے کو ملا۔ کرکٹ کی تاریخ میں تیسری اور انٹرنیشنل سطح پر دوسری بار بال آؤٹ کا قانون استعمال کیا گیا ۔سب سے پہلے کاؤنٹی کرکٹ کے ایک میچ میں بال آؤٹ کا استعمال ہوا بعدازاں نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین ٹونٹی میچ ٹائی ہونے کے بعد بال آؤٹ کے ذریعے میچ کا فیصلہ کیا گیا جس کا نتیجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے کے والے بال آؤٹ مقابلے سے مشترک تھا۔نیوزی لینڈ کے بولرز نے پانچ پنالٹی بالوں میں سے پہلی تینوں پر وکٹ کو ہٹ کیا جبکہ ویسٹ انڈیز کے بولر ایک بار بھی وکٹ کا درست نشانہ لگانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور اس بار پاکستان اور بھارت کے مابین بال آؤٹ مرحلے میں قومی کپتان نے جیسے سلمان بٹ کو ٹیم میں شامل کرکے غلطی کی ویسی ہی غلطی بال آؤٹ کیلئے زیادہ فاسٹ بولرز کو منتخب کر کے ایک اور احمقانہ فیصلہ کیاگیا۔شعیب ملک نے آصف ، عمر گل ، یاسر عرفات ، شاہد آفریدی اور سہیل تنویر کو بال آؤٹ کیلئے چنا جبکہ بھارتی کپتان دھونی نے سمجھ داری کا مظا ہر ہ کرتے ہو اپنے سپنر زسے بال آؤٹ کی گیندیں کرائیں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے جبکہ پاکستان کی جانب سے عمرگل ، یاسر عرفات اور شاہد آفریدی نے بال کرائی لیکن کوئی بھی درست نشانہ لگانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔یوں پاکستانی ٹیم شروع سے لیکر آخرتک غلط فیصلوں کا ارتکاب کرتی رہی اور نقصان اٹھاتی رہی۔بال آؤٹ مرحلے میں ناقص بالیں پھینک کرپاکستانی بولرز نے قوم کو ایک اور صدمہ پہنچایا ۔گوکہ پاکستان کے کھاتے میں اعداد شمار کے لحاظ یہ میچ شکست کے خانے ڈال دیا گیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس میچ میں نہ کسی کو شکست ملی ہے اورنہ ہی کسی کی جیت ہوئی ہے ۔شائقین کرکٹ کو ایک طویل عرصے بعد سنسنی خیز اور سسپنس سے بھر پور میچ دیکھنے کو ملا۔
ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں جس بے یقینی کیفیت میں پاکستان اور بھارت کا میچ کھیلا گیا اس سے ایک بار پھر یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ کرکٹ کا کھیل واقعی ”بائی چانس “ہے پاک بھارت میچ سے اس بات کی بھی تصدیق ہوگئی ہے کہ ایک بال پر ایک رنز کی ضرورت کے وقت بھی کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی اور کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہے۔کرکٹ کے کھیل میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال ہی اس کھیل کا اصل حسن ہے ۔