اعجاز وسیم باکھری:
شاید پاکستانی قوم کیلئے اس سے بڑی خوشی کی خبراور کوئی نہیں ہوسکتی کہ پاکستان نے کرکٹ کی دنیا پر گزشتہ کئی سالوں سے راج کرنے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو شکست دیکر ٹونٹی 20ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں جگہ حاصل کرلی ہے۔جنوبی افریقہ میں جاری محدود اوورز کے ایونٹ میں قومی کرکٹ ٹیم نے کھیل کے تمام شعبوں میں عالمی چیمپئن سائیڈ کو آؤٹ کلاس کرکے ناقدین اور ماہرین کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کردیا۔شعیب ملک اور مصباح الحق نے ڈٹ کربلے بازی کرکے ”ناقابل شکست “ٹیم کا بھر م توڑ دیا۔پاکستان کے ہاتھوں 6وکٹوں سے شکست کھانے کے بعد آسٹریلیا کو ایونٹ میں رہنے کیلئے سری لنکا کو لازمی شکست دینا ہوگی بصورت دیگر پونٹنگ الیون کو گھر کی راہ لینی پڑ ے گی۔جوہانسبرگ کرکٹ سٹیڈیم میں جہاں آج سے چار برس قبل آسٹریلیا نے بھارت کو مات دیکر ورلڈکپ جیتا تھاپاکستان کو جیت کیلئے محض 164رنز کا حدف دیا ۔پاکستان نے جب ٹارگٹ کو پورا کیا تو ابھی مزید پانچ گیندیں باقی تھیں۔پاکستان کی فتح حاصل کرتے ہی ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگ خوشی سے جھوم اٹھے پورے ملک میں لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور ایک دوسرے کو خصوصی مبارکباد دیتے رہے ۔صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے قومی ٹیم کے کپتان شعیب ملک کو فون کرکے خصوصی طور پر پوری قوم کی جانب سے مبارکباد پیش کی۔پاکستان کی یہ آسٹریلیا کے خلاف پونے تین سال میں پہلی کامیابی ہے ۔پاکستان کرکٹ جس طرح کے صدمات کا سامنا کرچکی ہے یا جس بحران سے گزر رہی تھی اس طرح کی ایک بڑی فتح کی اشد ضرورت تھی جو آسٹریلیا کے خلاف حاصل کرکے ایک بار پھر قومی ٹیم اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہے۔
پاکستان نے ٹونٹی 20 ورلڈکپ میں ورلڈ چیمیئن کی جانب سے دیے جانے والے مشکل حدف کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کرکٹ کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ قومی کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔آسٹریلیا کی جانب سے ہیڈن اور گلکرسٹ نے اننگز کا آغاز توقومی پیسر سہیل تنویر نے ابتدا میں ہیڈن کو واپسی کی راہ دکھا دی اس وقت یہ محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اب رنز بننے کی رفتار تھم جائے گی لیکن رکی پونٹنگ کی آمدکے ساتھ ہی گلکرسٹ نے اپنے بیٹ کا منہ کھول دیا لیکن ایک بارپھر سہیل تنویر نے گلکرسٹ کو 24رنز سے چلتا کرکے بریک تھرو دیا ۔اس کے بعد کچھ دیر کیلئے سائمنڈ اور ہسی نے آسٹریلوی ٹیم کی ساکھ بچانے کیلئے سر توڑ کوششیں کیں لیکن جذبہ سے سرشار پاکستانی بولر اس بار آسٹریلیا کو کوئی موقع دینے پر راضی نہیں تھے یوں آسٹریلوی ٹیم مقرر اوورز میں 164رنز بنا سکی ۔جواب میں پاکستان نے اپنی باری کا آغاز کیا تو سلمان بٹ کی جگہ عمران نذیر کے ہمر اہ محمد حفیظ کو اوپنر کے روپ میں دیکھا گیا لیکن حفیظ بھی امید وں پر پورا نہ اتر سکے۔ابتدائی اوورز میں چار وکٹ گرنے کے بعد قومی ٹیم شدید مشکلات کا شکار ہوگئی تاہم کپتان شعیب ملک اور مصباح الحق نے وکٹ پر آتے ہی آسٹریلوی بالروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور شعیب ملک نے مصباح الحق کے ساتھ مل کر عالمی چیمپئن کے وقار کو بالائے طاق رکھ کر کینگروزبولرز کو تلوار کی دھار پر رکھ لیا دونوں نے بلا حجت مخالف بالرز کی صرف پٹائی کی۔دونوں نے ماضی کی تمام آسٹریلوی تباہ کاریوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے گیند کو فیلڈروں کی دسترس سے دور رکھا۔شعیب ملک نے 36اور مصباح الحق نے 35بالوں پر نصف سنچری سکور کی ۔پونٹنگ نے دونوں کو راہ سے ہٹانے کیلئے کئی حربے استعمال کیے لیکن کوئی بھی آسٹریلوی بولرز مصباح اور ملک کو مار دھاڑکرنے سے روکنے میں سرخرو نہ ہوسکا۔ سٹیڈیم میں بیٹھے 20ہزار شائقین اور ٹی وی پر دنیا کے ہر کونے میں کروڑوں کی تعداد میں کرکٹ کے دیوانے آسڑیلوی بالنگ کا قتل عام براہ راست دیکھتے رہے۔ مصباح الحق نے نتھن بریکن کو ٹونٹی20 کرکٹ کی تاریخ کا طویل ترین چھکامار کرتمام براعظموں میں سنسنی پھیلا دی ۔پاکستان کو جیت کیلئے آخری اوورز میں دو رنز کی ضرورت تھی پہلی بال پر مصباح الحق نے شعیب ملک کو سنگل دیا تو دوسری بال سائمنڈ کے ہاتھوں وائیڈ ہوگئی یوں پانچ گیند یں قبل ہی پاکستان نے ہدف پوراکرکے کرکٹ دیکھنے والے ہر شخص کو انگشت بدنداں کر دیا۔پاکستان کی اس تاریخی فتح پرتمام کھلاڑی خوشی سے جھومنے لگے اور کپتان شعیب ملک کی آنکھیں خوشی سے بھیگی ہوئی تھیں۔
پاکستان نے آسٹریلیا کی جانب سے دیے جانیوالے ٹارگٹ کو خاطر میں نہ لا کر مثبت سوچ اپنائی اور تمام وقت سبھی کھلاڑیوں نے فتح ہی کواپنا مقصد بنائے رکھا۔شعیب ملک اور مصباح الحق کے عزم اور حوصلے کے سامنے 164رنز کا بڑا ٹارگٹ بھی سمٹ کر رہ گیا۔پاکستان کی تاریخ اور ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ کے اس غیر معمولی معرکے میں پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست سے دوچا ر کرکے نہ صرف کرکٹ میں کسی پیش گوئی کے حتمی نہ ہونے کا احساس جگا دیا بلکہ یہ ثابت کردیا کہ اگر اردے پختہ ہوں اور نظریں فتح پر مرکوزہوں تو کامیابی خود چل کر آجاتی ہے۔پاکستان کی جیت سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ قومی ٹیم ایک بار پھر 1992کی تاریخ دہرانے کا عزم رکھتی ہے۔92ء میں بھی رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں لوگوں نے قومی ٹیم کیلئے دعائیں کیں اور کھلاڑیوں نے سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا اور ٹیم عالمی چیمپئن کے روپ میں سامنے آئی ۔آسٹر یلیا کو شکست دیکر قومی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہے پاکستان نے سری لنکا اور آسٹریلیا کو چار وں شانے چت کرکے اپنے سامنے دیگر تمام ٹیموں کی حیثیت ”معمولی “کردی ہے۔اب یہ دعا ہے کہ قومی ٹیم جس طرح فتح کے ٹریک پر آچکی ہے یوں ہی فتوحات کا یہ سلسلہ ہمیشہ برقرار رہے۔آمین
اُردوپوائنٹ کی پوری ٹیم کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم اور پوری قوم کوتاریخی فتح مبارک ہو۔