UrduPoint Sports

كھیل >> کرکٹ >> میچ رپورٹس >> ویسٹ انڈیز کی انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامیابی

اعجازوسیم باکھری:
.......
کرس گیل کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈز پر تین ایک روزہ میچز کی سیزیز میں شکست دیکر نہ صرف ایک طویل عرصے بعد کوئی بڑی کامیابی حاصل کی بلکہ ناقدین کو ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے خیالات بھی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔برائن لارا کی ریٹائرمنٹ اور ہوم گراؤنڈز پر عالمی کپ میں ناقص کارکردگی کے بعد ماہرین کا خیال تھا کہ ویسٹ انڈیز ٹیم شاید ہی ٹریک پر آسکے لیکن کرس گیل کی قیادت میں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل سائیڈ نے میزبان انگلینڈ کو اس کے ہوم گراؤنڈز پر بے بس کرکے اپنے روشن مستقبل کی نشاندہی کردی ۔ویسٹ انڈیز ایک ایسی ٹیم ہے جو جب اچھا کھیل پیش کرتی ہے تو آسٹریلیا جیسی سپرپاور ٹیم کو بھی ”وختہ“ڈال دیتی ہے اور جب اس ٹیم کے برے دن ہوتے ہیں تو بنگلہ د یش جیسی تیسرے درجے کی ٹیم کے سامنے بھی کیربیئن سٹار بھیگی بلی بنے نظر آتے ہیں۔
ایک بات واضح ہے کہ انگلینڈ کی سرزمین ویسٹ انڈیز کیلئے انتہائی خوشی قسمت سرزمین کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے قبل ماضی میں بھی کیربیئن سائیڈ نے انگلینڈ میں بڑی کامیابی حاصل کیں ان میں نمایاں 1975ء اور 1979ء کے ورلڈکپ سمیت 2004ء میں آئی سی سی چیمپئنزٹرافی میں بھی تاریخی فتح انگلینڈ کی سرزمین پر حاصل کررکھی ہے۔
انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان جب تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ ویسٹ انڈیز کی شکست پر ختم ہوا تھا تو اس وقت عام تاثر یہی تھا کہ ٹیسٹ سیریز کی طرح دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے سیریز بھی یکطرفہ مقابلہ ثابت ہو گی اور میزبان ٹیم مہمان ویسٹ انڈیز کو یہاں بھی تین صفر سے شکست دیکر ان کے زخموں پر مزید نمک پاشی کرے گی مگر دوسرے ہی ون ڈے میچ میں ویسٹ انڈیز کے سینئر و تجربہ کار بلے باز سابق کپتان شیونارائن چندرپال نے ان تمام اندازوں کو اپنی شاندار سنچری سے غلط ثابت کردیا، انہی کی سنچری کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو دوسرے ون ڈے میچ میں شکست دیکر سیریز ایک ایک سے برابر کردی اور اس کے بعد اپنے بارے میں کرکٹ کے مبصرین کو اپنی رائے بدلنے پر بھی مجبور کردیا، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان ہفتے کے روز کھیلے جانے والے تیسرے اور فیصلہ کن میچ سے قبل مبصرین کی رائے تقسیم شدہ تھی ایک طبقے کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم با آسانی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو شکست دیکر سیریز جیت جائے گی ان مبصرین کا کہنا تھا کہ کیونکہ ابھی تک ہم نے یہی دیکھا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی اچھی کارکردگی میں تسلسل نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ ٹیم ایک میچ بہت اچھے انداز سے جیت کر بھی اس سے اگلے میچ میں بہت بری طرح ہارنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہے، جبکہ دوسرے طبقہ کا کہنا تھاکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے پہلا ون ڈے میچ ہارنے کے بعد دوسرے ون ڈے میچ میں جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے اس سے اس کے عزائم سامنے آگئے ہیں اور اب یہ ٹیم تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں بھی میزبان انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دیکر سیریز جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی، ان مبصرین کا کہنا تھا کہ کیونکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے سینئر و تجربہ کار بلے باز شیونارائن چندرپال اس وقت بھرپور فارم میں ہیں اور ان کی ہی کارکردگی کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے دوسرا ون ڈے میچ جیتا ہے لہٰذا تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں بھی شیونارائن چندرپال بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
انہی توقعات اور خدشات کے ساتھ ہفتے روز تیسرا اور فیصلہ کن ون ڈے میچ شروع ہوا اور ٹاس کا پہلا مرحلہ ویسٹ انڈیز کے کپتان کرس گیل جیتنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد انہوں نے پہلے بیٹنگ کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیااس میں کوئی شک نہیں کہ آغاز میں ہی ویسٹ انڈیز کو جلد ہی ایک نقصان اٹھانا پڑا مگر اس کے باوجود ویسٹ انڈیز کے کپتان کرس گیل نے ہمت نہیں ہاری اور ان کی نظریں جیت پر ہی مرکوز رہیں انہوں نے بطور کپتان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے احتیاط کے ساتھ سکور کو آگے کی جانب بڑھانا شروع کیا اور ان کی جانب سے کئے جانے والے 82سکور نے بھی ٹیم کو ایک اچھا ہدف دینے میں کردار ادا کیا، ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کی امیدوں کا محور شیونارائن چندر پال جس نے دوسرے ون ڈے میچ میں سنچری سکور کی تھی مکمل فٹ نہ ہونے کے باوجود ٹیم میں شامل ہوئے اور اپنا کردار ادا کرنے میں بھی کامیاب رہے گو کہ ان کی جانب سے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں صرف 33سکور کئے جاسکے مگر ان کا ٹیم میں ہونا اور پھر بیٹنگ کیلئے وکٹ پر آنا ویسٹ انڈیز کے حوصلے کو بڑھتا رہا اور انگلینڈ کیلئے پریشان کن رہا ویسٹ انڈیز کی تیسرے ون ڈے میچ میں جیت کسی ایک کھلاڑی کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک ٹیم ورک تھا جس نے ویسٹ انڈیز کو ون ڈے سیریز میں فاتح کے طور پر سامنے لایا ہے، کرس گیل کے 82کے بعد رونوکو مورٹن نے بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 82رنز کی اہم اننگز کھیلی جبکہ ڈاؤن براؤو کی جانب سے میچ کے آخری اوورز میں چوبیس گیندوں پر 42سکور بنانا ٹیم کیلئے بہت زیادہ مفید ثابت ہوا، ویسٹ انڈیز کی جیت میں جہاں ان کی بیٹنگ لائن نے اچھا سکور کرنے کے بعد جیت میں اپنا کردار ادا کیا وہاں ویسٹ انڈیز کے باؤلرز نے بھی اپنی بیٹنگ لائن کی محنت کا احساس کرتے ہوئے بہترین انداز سے باؤلنگ کرائی اور آغاز میں ہی کم سکور پر انگلینڈ کے تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر جیت کی بنیاد رکھ ڈالی، ویسٹ انڈیز کی جانب سے ڈیرن پاؤل اور فیڈل ایڈورڈز نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب چار اور تین وکٹیں حاصل کرکے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ کر رکھ دی،ان دونوں کا ساتھ بھرپور انداز سے روی رام پال، سمتھ اور براؤو نے دیتے ہوئے ایک ایک وکٹ حاصل کرکے انگلینڈ کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا، انگلینڈ کی جانب سے اوپنر ایلسٹر کک اٹھارہ، میٹ پرور ایک، آئن بیل ستائیس، کیون پیٹرسن صفر، ڈومنی پانچ، پلنکٹ دو، کرس براڈ پانچ، مونٹی پنسار تیرہ، جیمز اینڈرسن گیارہ رنز کا حصہ ڈال سکے تاہم انگلینڈ کی جانب سے کپتان پال کالنگ ووڈ 44اور اویس شاہ 51رنز بنا کر ٹیم کی جیت کیلئے کوشاں رہے مگر ان دونوں کی جانب سے یہ سکور جیت کیلئے ناکافی ثابت ہوا، تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں یہ بات واضح طور پر دیکھنے میں آئی کہ میچ کے آغاز سے لیکر اختتام تک انگلینڈ کسی بھی لمحے میچ جیتنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیا جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پوری طرح میچ پر حاوی نظر آئی اگر یہ کہا جائے کہ اس میچ اور سیریز کی جیت سے ویسٹ انڈیز کرکٹ کے روشن مستقبل کا سفر شروع ہو چکا ہے تو غلط نہ ہوگا ویسٹ انڈیز کے تمام کھلاڑیوں کی جانب سے جس سنجیدگی کے ساتھ فیصلہ کن میچ میں جیت کیلئے کوشش دیکھنے میں آئی اس نے ان کے بہتر مستقبل کی جانب اشارہ دیا ہے۔ون ڈے سیریز کے آغاز سے قبل ٹیم کے قائم مقام کپتان کرس گیل اور بورڈ کے درمیان اختلافات کی جو شدت دیکھنے میں آئی تھی اس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ پہلے سے دباؤ کا شکار ویسٹ انڈیز کی ٹیم اب ون ڈے سیریز میں بھی حوصلے ہار جائے گی مگر کرس گیل کی قیادت میں متحد ہو کر ٹیم نے ثابت کردیا ہے کہ وہ صرف اور صرف جیت کیلئے کھیلنا چاہتی ہے جو ان کی کرکٹ کی جانب ایک مثبت اشارہ کہا جاسکتا ہے۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.