اعجا ز وسیم باکھری:
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آخری ٹیسٹ میچ آج سے لاہور میں شروع ہورہا ہے۔مہمان ٹیم کو سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے تاہم لاہور ٹیسٹ میں ماہرین پاکستانی ٹیم کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں کیونکہ ٹیم میں سابق کپتان انضمام الحق اور محمد یوسف لوٹ آئے ہیں۔دوسری جانب خیال کیا جارہا ہے کہ لاہور ٹیسٹ کی وکٹ بیٹنگ اور بولنگ دونوں کیلئے سازگار ہے۔ لاہور ٹیسٹ کی سب سے خاص بات سابق کپتان انضمام الحق کی ٹیسٹ ٹیم میں ایک بار پھر واپسی ہے گوکہ انضما م الحق اپنے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ کھیل رہے ہیں تاہم توقع کی جارہی ہے کہ قومی ٹیم یوسف اور انضما م کی موجودگی میں لاہور ٹیسٹ فتح حاصل کرکے سیریز برابر کردے گی۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ چیئرمین ڈاکٹرنسیم اشرف کا کہنا ہے کہ انضمام الحق نے ازخود کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے کر ایک روایت قائم ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ کے ناروا سلوک اور سلیکٹرز کی بددیانتی کا شکار ہوکر کھیل سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ بورڈ انتظامیہ اور سلیکٹرز نے انضمام الحق کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا تاہم اس کے باوجود انضمام الحق نے لاہور ٹیسٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے فیصلے پر عمل پیرا ہونے کیلئے انضمام الحق نے بورڈ انتظامیہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا۔پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں بیٹنگ کے تمام بڑے ریکارڈز کے مالک انضمام الحق جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور میں پاکستان کی آخری بار نمائندگی کرینگے ان کے ہمراہ محمد یوسف بھی لاہور ٹیسٹ میں جلوہ گرہونگے ، ایک طویل عرصے کے بعد پاکستانی ٹیم ایک مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ میدان میں اترے گی تاہم یہ آخری موقع ہوگا کیونکہ اس کے بعد شاید ہم انضمام کو کبھی دوبارہ بیٹ تھامے گراؤنڈ میں نہ دیکھ سکیں لیکن یہ بات حتمی ہے انضمام الحق کی بیٹنگ صلاحیتوں کو بھلا دینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ انضی کا پورا کیرئیر اس بات کاشاہد ہے کہ اس نے ہمیشہ ایسے مواقع پر ٹیم کو استحکام بخشا جب شکست یقینی بن چکی ہوتی تھی تو وہ انضمام ہی ہوتا تھا جو آخری لمحوں تک مزاحمت کرتا ہوا نظر آتا تھا۔امید ہے کہ انضمام الحق لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیں گے ۔انضمام کو ٹیسٹ کرکٹ میں جاوید میانداد کو پیچھے چھوڑنے کیلئے 20رنز کی ضرورت ہے جو کہ توقع ہے لاہور ٹیسٹ میں وہ یہ اعزاز اپنے نام کرلیں گے۔
لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کو محض فتح کی ضرورت ہے اور تمام کھلاڑیوں کو ذمہ داری سے کھیل پیش کرنا ہوگا ۔کراچی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر اس بات کا مکمل یقین ہوچکا ہے کہ موجودہ قومی ٹیم میں سوائے چند کھلاڑیوں کے بقیہ تمام کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کے پریشر کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔آخری روزکپتان شعیب ملک نے میچ ڈرا کرنے کی بھر پور کوشش کی تاہم قومی کپتان میچ بچانے میں ناکام رہے ہیں۔پاکستان کو آخری روز میچ جیتنے کیلئے278رنز کی ضرورت تھی اور سات وکٹیں باقی تھیں ۔یونس خان نے شاندار سنچری اسکور کرکے اپنے ٹیسٹ پلیئر ہونے کا ثبوت پیش کیا بدقسمتی سے وہ بھی اپنی سنچری کو ڈبل سنچری میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے اور 126رنز بنانے کے بعد لوٹ گئے۔ٹونٹی 20ورلڈکپ میں شاندار کھیل پیش کرنے والے مصباح الحق کے بارے میں خیال کیا جارہاتھا کہ وہ ایک بار پھر اپنا روایتی کھیل پیش کرینگے لیکن کرکٹ بور ڈ کی جانب سے تیار کی گئی ڈیڈ وکٹوں پر وہ بھی ناکام رہے۔کامران اکمل اور محمد حفیظ نائب کپتان سلمان بٹ کے ہمراہ اپنے ناکامی کے سلسلے کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں جو کہ ٹیم کی شکست کی بنیادی وجہ ہے۔ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سلیکٹرز نے کراچی ٹیسٹ کیلئے جس ٹیم کا انتخاب کیا وہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی کامیاب ٹیم تھی اسے ٹیسٹ میچ میں اتارنے کا فیصلہ کرکے نہ صرف اس کا ”سیلہ “حاصل کرلیا گیا ہے بلکہ ٹیم کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کردیے گئے ہیں۔امید ہے لاہور ٹیسٹ میں محمد یوسف اور انضمام الحق حریف ٹیم کو اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے اور توقع ہے کہ پاکستان دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کردیگا ۔کراچی ٹیسٹ میں160رنز کی شکست قومی سلیکٹرز کیلئے ایک پیغام تھا کہ حالات اورمقابلے کو مدنظر رکھ کر ٹیم کا انتخاب کیا جائے تاکہ قومی ٹیم کی رسوائی نہ ہو۔یہ ضرور ی نہیں ہے کہ ٹیم کی اوپننگ محمد حفیظ اور سلمان بٹ سے کرائی جائے عمران فرحت اور عمران نذیر بھی پاکستان کرکٹ کا حصہ ہیں ۔ویسے تو قومی سلیکٹرز چھوٹی سی ناکامی پر کسی کھلاڑی کو سائیڈ پر بٹھا دیتے ہیں مگر سلمان بٹ اور کامران اکمل کو آرام دینے کی کیوں زہمت نہیں کی جارہی ؟۔یہ بات خوش آئند ہے کہ انضمام الحق اور محمد یوسف کو لاہور ٹیسٹ میں ایک ساتھ ایکشن میں دیکھنے کو موقع ملا گا تاہم سب کی ایک ہی کوشش ہونی چاہیے کہ بجائے انفرادی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھیں پاکستان کی فتح کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
مایہ ناز بلے باز اور سابق کپتان انضمام الحق جو آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے جارہے ہیں گزشتہ روز میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور میرے خیال میں ہر شخص کو اس کے لئے ذہنی طور پر تیا ہونا چاہیے ‘ کرکٹ بورڈ اگر تعاون کرے تو یہ فیصلہ لینے میں آسانی ہو جاتی ہے اور بورڈ کے حالیہ اقدامات سے کھلاڑی ریٹائرمنٹ لینے سے نہیں گھبرائیں گے اور اپنے کیرئیر کا اختتام اچھے طریقے سے کریں گے ۔ انضمام الحق نے کراچی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کے متعلق کہا کہ پاکستان کی ٹیم 7 ماہ بعد ٹیسٹ کھیلی تھی اور اتنے زیادہ وقفے سے بہت اثر پڑتا ہے ‘لیکن کھلاڑیوں نے ساؤتھ افریقہ ٹیم کو اچھی فائٹ دی اور امید ہے کہ پاکستانی ٹیم لاہور ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور ٹیسٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کا فیصلہ انکا ذاتی فیصلہ تھا اس کے لئے مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اگر لاہور ٹیسٹ میں وہ جاوید میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے تو کوئی بات نہیں کیونکہ جاوید میانداد ایک گریٹ کھلاڑی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ کے کرکٹر جیک کیلس نے کراچی ٹیسٹ میں اچھی بیٹنگ کی لیکن لاہور میں ہمارے باؤلر بہتر باؤلنگ کرینگے انہوں نے شعیب ملک کو نصیحت کرنے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شعیب ملک پازیٹو کرکٹ کھیلے تو بہت کامیاب رہیں گے اوروہ پازیٹو کرکٹ کھیل رہے ہیں۔انضمام الحق نے مزید کہا کہ 2007ء ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے سے آؤٹ ہونا اور باب وولمر کی موت میری زندگی کا سب سے بڑ اافسوسناک دن تھا ۔ 2007ء ورلڈ کپ ہارنے سے میرے ذہن کو بہت بڑا دھچکا لگا اور یہ لمحات میری زندگی کے مشکل ترین لمحات تھے ۔ لیکن نوجوان کھلاڑی جو پرفارمنس دے رہے ہیں مجھے امید ہے وہ 2007ء کے داغ کو 2011ء کے ورلڈ کپ میں دھو ڈالیں گے اور ورلڈ کپ جیتیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ ہوتے ہوئے میری دلی خواہش ہے کہ میری ٹیم جیتے اور میں اچھی پرفارمنس دوں میں ورلڈ کپ کے بعد آج جب پریکٹس کرنے جارہا تھا تو جذباتی ضرور تھا لیکن ہر کھلاڑی نے ریٹائر ہونا ہوتا ہے ‘ لاہور میں اپنے کیرئیر کا پہلا ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلا اور اب اختتام بھی اس گراوئنڈ سے کر رہا ہوں اس لئے میں چاہوں گا کہ میں ٹیم کو میچ جتواؤں۔انہوں نے کہا کہ ابو ظہبی اور ساؤتھ افریقہ میں کھلاڑیوں نے جس طرح محنت کی ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مستقبل میں ہماری ٹیم بہت اچھی ٹیم کے طور پر سامنے آئیگی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے قومی کھلاڑیوں کو با عزت طریقہ سے رخصت کرنے کا اقدام بہت اچھا ہے‘ اس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہو گی او رقومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والوں کو بھی اعتماد ملے گا ۔