اعجاز وسیم باکھری:
وہ ایک عظیم بیٹسمین تھے انہوں نے کبھی مایوس نہیں کیا تھا۔وہ ہمیشہ ایسے مواقع پر تمام ذمہ داری اپنی کاندھوں پر ڈالتے تھے جب ٹیم کی کمر دیوار کے ساتھ لگ چکی ہوتی تھی۔انہوں نے ہمیشہ ٹیم کیلئے مقابلہ کیا۔وہ ایسے کرکٹر تھے جن پر ناز کرنا بھی پاکستانی قوم کیلئے ایک اعزاز ہے۔جی ہاں…وہ انضمام الحق ہی تھے جنہوں نے 15برس تک پاکستان کرکٹ کی خدمت کی اور ہمیشہ ٹیم کی کامیابی کیلئے انتھک محنت کی اور ناقابل فراموش کارنامے سرانجام دیے۔جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں اپنے کیرئیر کا اختتام کرنے والے دنیائے کرکٹ کے عظیم بلے باز انضمام الحق کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔گو کہ بطور کپتان انضمام الحق اپنے سے وابستہ توقعات یا ضرورت کے مطابق نتائج نہ دے سکے مگر بطور بیٹسمین ان کا کوئی وہ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔انضمام الحق کے پورے کیر ئیر میں وہ مسلسل قسمت کی ستم ظریفی کا شکارنظر آئے اور یہ سلسلہ ان کے کیرئیر کے آخری ٹیسٹ کی آخری بال تک بھی جاری رہا ، وہ آخری ٹیسٹ کی آخری بال پر ایک ایسی بال پر سٹمپ آؤٹ ہوئے جس کو کھیلنے کا وہ سب سے زیادہ تجربہ رکھتے تھے ۔انضمام الحق اپنے کیرئیر میں بہت کم مرتبہ سٹمپ آؤٹ ہوئے تاہم جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کیلئے انہیں محض تین رنز کی ضرورت تھی لیکن ایک بار پھر وہ قسمت کی ستم ظریفی کا شکار ہوگئے۔یہ بات ٹھیک ہے انضمام ایک تاریخ ساز بیٹسمین ہونے کے باوجود جنگجو کپتان ثابت نہ ہوسکے مگر یہ بھی ایک حقیقیت ہے کہ قیادت اگر جان جوکھوں کا کام نہیں تو اتنا آسان بھی نہیں کہ ہر کوئی اس کا امیدوار بناپھرتا رہے۔قیادت کرنا سب سے مشکل اس کھلاڑی کیلئے ہے جو اپنی ٹیم کا بیشتر بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری رکھتا ہو۔کیونکہ ایسے کھلاڑی کیلئے اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ عہدہ برآ ہونے کے سا تھ ہی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو برائے کار بھی لانا ہوتا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے”مرد بحران“ انضمام الحق انہی کپتانوں اور کھلاڑیوں میں سے ایک کردار تھے جو نہ صرف ہمہ وقت ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری نبھا رہے تھے بلکہ وہ اپنی ٹیم میں بطور بیٹسمین نہ صرف ایک میچ ونر کھلاڑی تھے بلکہ پاکستانی بیٹنگ کا تمام تر بوجھ بھی انہی کے کاندھوں پر رہتا تھا۔ذاتی ریکارڈز کے حوالے سے انضمام الحق پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور ریکارڈز ساز بیٹسمین تھے۔عموماً عالمی کرکٹ میں نامور کھلاڑی یہ بات کہتے ہیں کہ ُان کے سامنے اعداد شمار کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن یہ اٹل حقیقت ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کی صلاحیت ناپنے کا واحد پیمانہ اس کے کیرئیر فیگر ز ہی ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کے مقام کا صحیح طور پر تعین کیاجاسکتا ہے۔یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ عالمی کپ 2007کی بے فیض جنگ میں ناقص کارکردگی کے بعد انضمام الحق کا بین الاقومی کیرئیر کم وبیش ٹھکانے لگ چکا تھا اور یہ بات بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہی تھی کہ ”بگ مین“کی ٹیم میں واپسی ہوسکے گی۔پاکستانی سلیکٹرز اسے آرام دینا چاہتے تھے اور اس کے مخالفین کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح کرکٹ کی ہنگامی خیزی سے دور ہوجائیں لیکن سخت جدوجہد اور طویل انتظار کے بعد وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریزمیں لاہور ٹیسٹ کے دوران قومی ٹیم میں واپس آنے میں کامیاب ہوئے اور ایک باوقار طریقے سے کھیل سے رخصتی اختیار کی۔
کون جانتا تھا کہ 3 مارچ 1970کوء بزرگان دین کی دھرتی ”ملتان“میں جنم لینے والاگول مٹول سا بچہ آگے چل کر کٹ کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی کہلوائے گا۔انضمام الحق کا معنی ہے” ملا جلا“ یا” گھلا ملا“۔انضمام الحق کے آباؤ اجداد کا تعلق بھارت کے صوبے مشرقی پنجاب کے ضلح ہسارا کی تحصیل ہانسی سے ہے۔انضمام الحق پیر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے اوّ ل خلیفہ جمال الدین ہانسی کی اولاد سے ان کا تعلق ہے ۔انضما م الحق کے دادا کا نام پیر ضیاء الحق صاحب ہے ان کا مزار پاک پتن شریف میں ہے جہاں ان کا ہرسال عرس منایا جاتا ہے۔انضمام الحق کے والد صاحب کا نام پیر انتظام الحق ہے ۔تقسیم ہند کے وقت پاکستان ہجرت کے بعد انہوں نے اوکاڑہ میں رہائش اختیار کی۔یہاں پر ان کی ابھی تک زمینیں وغیرہ بھی ہیں۔لیکن یہاں تعلیم کا مناسب نظام نہ ہونے کے باعث ان کی فیملی ملتان شفٹ ہوگی۔عام بچوں کی طرح انضی کا بچپن بھی شرارتوں اور کھیل کود میں گزرا ۔انضمام الحق نے گورنمنٹ مسلم ہائی سکول ملتان سے میڑک کیا اور پھر مزیدتعلیم کے ارادے سے وہ لاہور شفٹ ہوگئے اور گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا اور پھر وہاں سے ہی ایف اے کیا۔
انضمام الحق کو بچپن سے ہی کرکٹ کے کھیل سے دلچسپی تھی اور ان کے چاروں بڑے بھائی بھی کرکٹ کھیلتے تھے بھائیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر انضی کے شوق کو مزید تقویت ملی۔انہوں نے اپنے سکول اور کالج کے زمانے میں خوب کرکٹ کھیلی اور کئی یاد گار اننگز کھیلیں ۔کرکٹ میں مصروفیات بڑھ جانے کے باعث وہ تعلیم سے دور ہوتے گئے اور نوبت ایف اے کے بعد تعلیم کو خیر باد کہنے تک جا پہنچی۔انضمام نے اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کیر ئیر کا آغاز ملتان ڈویژن کی ٹیم سے کراچی میں ہونے انڈر19کرکٹ ٹورنامنٹ سے یوتھ سینٹر کراچی میں کیا ۔انہوں نے اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس ڈبیو میچ میں سنچری داغی بعدازاں لاہور میں آکر انہوں نے مزید لگاتار تین سنچریاں اسکور کی اور ان کی جارحانہ بیٹنگ نے انہیں یوتھ ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے جانیوالی پاکستانی ٹیم میں لا کھڑا کیا اور وہ پاکستان کی جانب سے ٹاپ سکورر رہے۔یوتھ ورلڈ کپ میں متاثر کن کارکردگی کے بعد انہیں یوبی ایل کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا اور ان دنوں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی اور ملتان میں اگلے میچ کیلئے قومی ٹیم میچ کی تیاری کیلئے جلد ملتان پہنچی اور کھلاڑیوں کی پریکٹس کیلئے ملتان کے مقامی کرکٹرز کو پی سی بی نے خصوصی طور پر دعوت دی ان میں ایک انضمام الحق بھی تھے ۔نومبر کے موسم میں ایک چمکتی ہوئی دھوپ میں انضمام الحق نیٹ میں بیٹنگ کررہے تھے اور وہ جس روانی اور عمدگی سے شاٹس کھیل رہے تھے اس پر عمران خان توجہ کیے بغیر نہ رہ سکے۔پاکستان کے عظیم ترین کپتان کی مردم شناس آنکھوں نے انضمام الحق میں چھپے ٹیلنٹ کو پہلی ہی نظر میں جانچ لیا اور عمران خان نے سلیکشن میں ردوبدل کرکے انضمام الحق کو ان کے آبائی شہر ملتان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا یو ں 21سال کی عمر میں انضمام نے 22نومبر 1991ء کو اپنے انٹر نیشنل کیرئیر کا آغازکیا۔پہلے ہی انٹر نیشنل میچ میں اس نے اپنے قائد کی لاج رکھی اور بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے ورلڈ کپ 1992ء کے اسکواڈ میں جگہ پائی۔عالمی کپ 1992میں انضمام ایک ہیرو کے روپ میں ابھرے اور راؤنڈمیچز سے لیکر سیمی فائنل اور بعد ازاں فائنل معرکے میں چوکوں اور چھکوں کی بارش کرکے نہ صرف پاکستان کو فاتح عالم بنانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عمران خان کے اعتماد پر پورا اتر کر ان کا سربھی فخر بلند کردیا۔کیرئیر کے آغاز کے بعد 15سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود جب بھی پاکستانی ٹیم کسی مشکل کا شکار ہوتی، تو بحران سے نکالنے والے انضمام الحق ہی ہوتے۔2001میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرپل سنچری اسکور کرکے دوسرے پاکستانی کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا اس پہلے یہ کار نامہ حنیف محمد سرانجام دے چکے ہیں۔ انضمام الحق نے اپنے کیرئیر میں کئی نشیب و فراز دیکھے ۔ان پر میچ فکسنگ کا الزام لگایا گیا جس میں وہ مکمل طور پر بری ہوگئے ان پر ساتھی کھلاڑیوں سے لڑنے جھگڑنے کا الزام بھی عائد کیاجاتارہا اور ورلڈکپ 2007ء میں تو انضمام پر تنقید کی انتہا ہوگئی اور چاروں طرف وہ نفرت کے زیر عتاب آگئے لیکن اس بلند حوصلہ انسان نے ہر شحض کی باتیں برداشت کیں اور عزت سے ریٹائرمنٹ لینے کیلئے راہیں تلاش کرنا شروع کردیں جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ۔ لاہور ٹیسٹ میں جب وہ اپنی آخری باری کھیلنے کیلئے میدان میں داخل ہوئے تو سٹیڈیم میں موجود ہر شحض نے انضمام الحق کا کھڑے ہوکر استقبال کیا جنوبی افریقہ کے تمام کھلاڑیوں نے خصوصی طور پر انضمام الحق سے ہاتھ ملا کران کو خراج تحسین پیش کیا اور جس وقت وہ آؤٹ ہو کر واپس لوٹ رہے تھے تو نہ صرف انضمام الحق کی آنکھوں میں آنسو تھے بلکہ سٹیڈیم موجود تما م لوگوں سمیت ٹی وی پر دیکھنے والے کروڑوں لوگوں کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں کیونکہ ان کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا کھلاڑی الٹے قدموں پر چل رہا تھا جس نے ہمیشہ آگے کیلئے جستجو کی ۔انضمام الحق کے کارنامے اور اس کی شخصیت کو فراموش کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی جب بھی پاکستانی ٹیم مشکلا ت کا شکار ہوگی تو انضمام الحق کی مثالی دیں جائیں گی کیونکہ وہ تاریخ کے سب سے بڑے بلے باز تھے جس سے کوئی زی شعور انکار نہیں کرسکتا۔