اعجاز وسیم باکھری :
اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستانی معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے جہاں ایک عورت کیلئے کسی بھی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا جوئے شیرلانے کے مترادف ہے لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کی جھلک نظر آنا شروع ہوچکی ہے جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے جس کا عکس سپورٹس اور میڈیا کے شعبوں میں نظر آتا ہے جہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد ان شعبوں سے وابستگی کے بعد خود کو منوانے میں کامیاب ہوچکی ہے ۔پاکستان میں خواتین سپورٹس کی بات کی جائے توسب سے کامیاب ترین نام بلاشبہ کرن خان کاہے۔جنہوں نے انتہائی مہنگے کھیل میں سخت جدوجہد کے بعد وہ مقام حاصل کیا جس کی محض خواہش کی جا سکتی ہے۔اور یہ بھی ایک سچ ہے کہ کرن خان کے منظرعام پر آنے کے بعد نہ صرف خواتین کی ایک بڑی تعداد سپورٹس سے منسلک ہوئی بلکہ عوامی اور حکومتی سطح پر بھی کرن خان نے خواتین میں موجود ٹیلنٹ کا احساس دلایا یہی وجہ ہے کہ آج بے شمار مسائل اور مشکلات کے باوجود کھیلوں کی دنیا میں پاکستانی خواتین ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہیں۔
کرن کا تعلق ایک ایسے خطے سے ہے جہاں اکثر لڑکیاں بے پناہ ٹیلنٹ کے باوجود سہولیات کے فقدان اور”اجازت “نہ ملنے کے سبب کبھی کسی بھی شعبہ میں قابل فخر مقام تک نہ پہنچ سکیں ۔مگر کرن خان ان سب سے زیادہ خوش قسمت ہے جو نہ صرف عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک خاص مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں اور اب وہ ایک بار پھر اولمپکس گیمز کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔کرن خان نے اولمپکس تک رسائی حاصل کرکے یہ ثابت کردیا کہ اگر لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے تو وہ کسی بھی ٹارگٹ کو اپنی دسترس میں لانے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں جو کہ کرن خان نے عملی طور پر کربھی دکھایا ہے۔کرن کے علاوہ ان کے دوبھائی سکندر خان اور شہباز خان سمیت چھوٹی بہن بسمہ خان بھی سوئمنگ کے کھیل وابستہ ہیں ۔کرن خان کے والد خالدزمان اپنے بچوں کے خود ہی کوچ ہیں اور انہیں ہرطرح کی سپورٹ اور ان کی کھیل سے متعلق تمام ضروریات پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔کھیلوں کی دنیا میں گالف کے بعدسب سے مہنگے کھیل سے وابستہ اس فیملی نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا بالخصوص کرن خان نے کمسن ایج میں پاکستان اورپاکستان سے باہر بے پناہ شہرت حاصل کی۔کرن خان اب تک پاکستان کے کیلئے 5گولڈ میڈل جیت چکی ہیں اور وہ ایشین گولڈمیڈل جیتنے والی اولین پاکستانی خاتون کھلاڑی ہیں۔ کرن خان 2001سے لیکر اب تک لگاتار8برسوں سے قومی چیمپئن ہیں انہوں نے نیشنل سطح پر 200سے زائد گولڈ میڈل جیت رکھے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔کرن خان رواں سیزن میں بھی عمدہ کھیل پیش کرکے 14گولڈمیڈل جیت کر بدستور قومی چیمپئن ہیں اور اسی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔کرن خان کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کیلئے اولمپکس گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کریں جس کیلئے اس نے بھرپورتیاری بھی کررکھی ہے ۔گوکہ پاکستان میں اولمپکس مقابلوں کی تیاری کیلئے بین الاقومی معیار کی سہولیات نہ ہونے کے برابرہیں لیکن اس کے باوجودکرن کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ایشین گولڈ میڈل کے بعد پاکستان کیلئے اولمپکس میڈل جیتنے والی اولین تیرا ک بننا چاہتی ہیں۔سوئمنگ کے کھیل کے بارے میں کرن خان بتاتی ہیں کہ سب سے پہلے تو یہ کھیل بہت مہنگا ہے اور تیراکی میں نام پیدا کرنے کیلئے کھلاڑی کا فیملی بیک گراؤنڈ مضبوط ہوناچاہیے اس کے بعد محنت اور لگن کرنی چاہیے تب جاکر آپ اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں،کرن کہتی ہیں کہ ہر کھلاڑی اپنی قسمت کا خود مالک ہوتا ہے اورجب تک خود محنت نہیں کی جائے گی تب تک کچھ حاصل نہیں ہوپاتا۔کرن خان ایک خداداد صلاحیتوں کی مالک تیراک ہے جو اپنی حریف کو اتنا موقع ہی فراہم نہیں کرتیں کہ وہ اسے ٹف ٹائم دے سکیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ آٹھ سالوں میں کوئی دوسری کرن خان سامنے نہیں آسکی۔انہوں نے کہاکہ وہ خود کو پاکستان کی خوش نصیب لڑکی سمجھتی ہیں جو کم عمری میں ہی عالمی سکرین تک پہنچ گئی تاہم کرن نے واضح الفاظ میں کہاکہ پاکستان کھلاڑیوں کی قدر نہیں کی جاتی اور چھوٹی سے ناکامی پر تنقید کے پہاڑ توڑ دئیے جاتے ہیں جس کا اسے افسوس ہوتا ہے ۔ کرن نے کہاکہ کہا کہ اگر لڑکیوں میں ٹیلنٹ ہے اور وہ شوق سے کھیلوں کی جانب آنا چاہتی ہیں تو والدین کو چاہیے کہ انہیں روکنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ لڑکیوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا موقع مل سکے۔