شندور کے پولو مقابلوں میں دنیا بھر کے کھلاڑی سیاح شرکت کرتے ہیں
پاکستان میں پولو صرف امیروں اور طاقتور لوگوں کا کھیل ہے۔ یہاں بڑے بڑے جاگیردار اس کھیل کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں اس مقصد کے لئے خاص قسم کے مہنگے گھوڑے حاصل کئے جاتے ہیں۔ ان گھوڑوں کے لئے تر بیت یافتہ لوگوں پر مشتمل ٹیم ملازم رکھی جاتی ہے۔ پاکستان میں پولو فوج کا بھی پسندیدہ کھیل ہے، فوجی افسران اور ان کے بچے دنیا کے اس مہنگے ترین کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ادریس کا سارا خاندان گھوڑوں کا شو قین رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سب سے بہترین پولو کے کھلاڑی یا تو فوج سے ہوتے ہیں یا پھر ان کا تعلق فوجی گھرانوں سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات پولو کے ذریعے انسان کی قسمت کا ستارہ چمک جاتا ہے۔ تاریخ میں ہمیشہ پولو کو ایک عام کھیل سے زیادہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ پولو لفظ کی ابتدا ء تبت سے ہوئی جہاں پر یہ لفظ بانس کے درخت کی جڑ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ ابھی بھی بعض مقابلوں میں گیند بنانے میں بانس کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔ سینکڑوں برس قبل ایرانی بادشاہوں نے اس کھیل کو اپنی فوجوں کی ورزش اور صحت بر قرار رکھنے کے لئے استعمال کیا۔ اس کے ذریعے کئی قبائل اپنی لڑائی جھگڑوں کا فیصلہ کرتے تھے ورنہ دوسری صورت میں اس کا نتیجہ خوں ریزی کی صورت میں سامنے آتا۔
افغانستان میں بھی اس سے ملتا جلتا کھیل انہی مقاصد کے حصول کے لئے بڑے طویل عرصے سے کھیلا جا رہا ہے۔ رفتہ رفتہ پولو ایشیا ء بھر میں مقبول کھیل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ جنگجو شہنشاہ اورنگ زیب اپنے فوجی کمانڈروں کا انتخاب پولو کے کھیل کے میدانوں سے کیا کرتے تھے۔ بعدمیں انہی کی مدد سے انہوں نے پورے برصغیر پر قبضہ کیا۔ برطانوی راج کے دوران انگریز اس کھیل کو برطانیہ لے گئے جہاں پر انہوں نے اس کے باقاعدہ اصول وضوابط مقرر کئے اس طرح ایک وحشیانہ کھیل کو ایک بہت اچھے اورمہذب کھیل میں بدل دیا۔
پولو دنیا کا واحد کھیل ہے جس کے پوری دنیا میں صرف چند ہزار کھلاڑی پائے جاتے ہیں۔ انٹر نیشنل پولو فیڈریشن میں موجودپاکستانی سفیر طارق آفریدی کا کہنا ہے کہ پولو ایک نارمل کھیل نہیں ہے۔ اس کے کھلاڑی پولو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سوچتے، اس کھیل کی اپنی الگ دنیا ہے۔ ہم سب کی اپنی الگ زبان ہے۔12برس کی عمر سے پولو شروع کرنے والے طارق آفریدی نے سفارت کا ربننے کے بعد بھی اسے جاری رکھا۔ انہوں نے اپنی تعیناتی کے تمام ممالک میں اس سے ناطہ نہیں ٹوٹنے دیا۔
زیادہ تر پولو مقابلوں میں میچ چار راؤنڈ پر مشتمل ہوتا ہے جن میں سے ہر راؤنڈ ساڑھے سات منٹ کا ہوتا ہے۔ درمیان میں گھوڑے بدلنے کے لئے درکار وقت کو بھی شامل کر لیا جائے تو ایک میچ آدھے گھنٹے میں کھیلا جا سکتا ہے۔ لیکن اس آدھے گھنٹے کے لئے کئی گھنٹے تیاری کرنا پڑتی ہے۔ ہر گھوڑے کو کھلا یا پلایا جا تا ہے اسے ورزش کرائی جاتی ہے۔
پولو کھیل جسمانی پھرتی اور ذہانت کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ اس میں ٹیم کے چاروں ساتھی بڑی سمجھ داری کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ ادریس جو گزشتہ تیس برس سے پولو کے کھلاڑی ہیں، اسے شطرنج کا ایسا کھیل سمجھتا ہے جس میں بہت تیزی سے چالیں چلی جاتی ہیں۔ پولو گھوڑے پر سوار ہو کر بال کولے کر بھاگنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں آپ اپنے حریف کی چالوں پر نظر رکھتے ہیں کہ اس کی ممکنہ چال کیا ہو سکتی ہے اور آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیسے اس کامقابلہ کر سکتے ہیں سب سے اہم بات یہ کہ فیصلے کے لئے آپ کے لئے پاس چند سیکنڈ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں جولائی کے مہینے میں پولو کے سب سے بڑے مقابلے شندور میں ہوتے ہیں جہاں پر دنا بھر سے نامور کھلاڑی آتے ہیں اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی یہاں آتے ہیں۔ اسے اب وہاں پر ایک باقاعدہ ثقافتی سر گرمی کے طور پر اہمیت دی جاتی ہے۔ پولو کی وجہ سے اس خطے کی شہرت ساری دنیا میں پھیل گئی ہے۔ پاکستان میں حکومت کا اہم حصہ بننے کے بعد، پولو کے کھلاڑی آصف علی زرداری سے پر امید ہیں کہ اپنی بے پناہ مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود وہ اس کھیل کی بہتری کے لئے کچھ اقدامات کر یں گے۔