اعجازوسیم باکھری:
دنیا ایسے کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں جہاں ہار جیت کے علاوہ اُس میں حصہ لینے والے کی زندگی بھی داؤ پر لگی ہوتی ہے۔ان کھیلوں میں”کوہ پیمائی “بھی شامل ہیں جس میں منزل تک پہنچنا اس حد تک یقینی نہیں ہوتا جس حد تک حادثہ کا خطرہ ہوتا ہے لیکن اس کراہ ارض پر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں خطرات سے کھیلنے کا شوق ہوتا ہے ۔ وہ ہمیشہ کچھ ایسا کام کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں جو ایک عام انسان کیلئے سوچنا بھی خوفناک ہوتا ہے۔کوہ پیمائی وہ واحد کھیل ہے جس میں اب تک سب سے زیادہ انسانی جانیں ضیائع ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچنے والوں کا نہ تو شوق کم ہوا اور نہ ہی حادثات ان کی منزل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں کامیاب ہوئے۔گزشتہ دنوں پاکستانیوں کو اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب ٹی وی چینلز نے یہ خبربریک نیوزکے طور پر نشرکی کہ نذیر صابرکے بعد ملکی تاریخ میں دوسری مرتبہ پاکستانی کوہ پیماہ حسن سد پارہ نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا ہے۔ حسن سدپارہ کا صرف قومی پرچم لہرانا ہی بڑا کارنامہ نہیں تھا وہ دنیاکے ان چند کوہ پیماؤں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جو ماؤنٹ ایورسٹ پر اکسیجن ماسک لیے بغیرپہنچے ، حسن پاکستان کے پہلے کوہ پیماہ بھی بن گئے جنہوں نے اکسیجن ماسک استعمال نہیں کیا۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے حسن سدپارہ نے اس سے قبل گزشتہ سال بھی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے۔ ٹو بھی بغیر آکسیجن سر کی تھی ۔2000 ء میں ماوٴنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیماہ نذیر صابر کا تعلق بھی گلگت سے ہے ۔8ہزار8سو48میٹر بلند ترین ماؤنٹ ایورسٹ چوٹی تک پہنچنے کیلئے حسن سدپارہ کو تین دن لگے۔حیران کن امریہ ہے کہ اس دوران نہ تو ان کے پاس ماسک اکسیجن کی سہولت موجود تھی بلکہ وہ دیگر ضروری سامان کے بغیر اپنی منزل تک پہنے۔حسن سدپارہ نے پہاڑ پر جنوبی راستے کا انتخاب کیا اور وہ صبح ساڑھے سات بجے چوٹی پر پہنچے اور پاکستانی پرچم لہرایا۔حسن سدپارہ ماوٴنٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے جانے والی الپائن کلب آف پاکستان کی مہم کے رکن ہیں ۔اس مہم کیلئے حکومتِ پاکستان نے رقم فراہم کی ہے۔حسن جس راستے سے چوٹی تک پہنچے اس راستے میں سب سے مشکل اور انتہائی ڈھلوان گلیشیئرموجود ہیں جو سب سے زیادہ مشکل ترین سفر ہوتا ہے۔مذکورہ گلیشیئراب تک35کوہ پیماوٴں کی جانیں لے چکا ہے لیکن حسن سدپارہ تمام خطرا ت اور رکاوٹوں کو شکست دیکر اپنے مقصد میں کامیاب رہے جوکہ نہ صرف ان کیلئے پاکستان کیلئے بھی بہت بڑا اعزاز ہے۔
گزشتہ سال کے ۔ٹو سر کرنے پر حکومت کی جانب سے حسن سدپارہ کو ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے کیلئے 5لاکھ 80ہزار روپے کی رقم فراہم کی گئی تھی ۔حسن سد پارہ کے دیگر تین ساتھی کیمپ نمبر 3سے آگے نہ جا سکے اور انہیں اکیلے اپنی منزل تک پہنچنا پڑا۔حسن نے کوہ پیمائی کا آغاز 1994ء میں کیا اور 2007ء تک انہوں نے پاکستان میں واقع8ہزارمیٹر سے بلند پانچ چوٹیاں آکسیجن کی مدد کے بغیر سر کر لی تھیں۔حسن سدپارہ نے 1994ء میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو،93ء میں قاتل پہاڑ کے نام سے پہچانے جانے والے نانگا پربت، 2006ء میں گیشا برم ون اور گیشا برم ٹو جبکہ 2007 ء میں ’براڈ پیک‘ کو سر کیا۔کوہ پیمائی میں اعلیٰ کارکردگی پر حکومت پاکستان نے حسن سدپارہ کو 2008ء میں تمغہ حسن ِ کارکردگی سے بھی نوازا ۔2007ء میں براڈ پیک سر کرنے کے بعد حسن سدپارہ نے اعلان کیا تھا کہ اگران کے ساتھ تعاون کیا جائے تو قومی پرچم ماوٴنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک لے کر جائیں گے ۔ اس اعلان کے چار سال بعد وہ اپنے خواب کی تعبیر پانے میں کامیاب ہوگئے جوکہ ان کی خداداد صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔