تحریر و ترتیب :اعجاز وسیم باکھری :
فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور یہ واحد کھیل ہے جو دنیا کے ہر کونے میں دیکھا اور کھیلا جاتا ہے۔یورپ کو فٹبال کی سرزمین کہا جاتا ہے تو لوگ ایشیا کو کرکٹ کی سلطنت کے نام سے پکاراجاتا ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ایشیا میں کرکٹ ہی ایک ایسا واحد کھیل ہے جس کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے لیکن فٹبال بھی ایک لحاظ سے آہستہ آہستہ ایشیا میں اپنے مقبولیت پیدا کررہا ہے جس کا واضح ثبوت ایشین فٹبال کپ ہے جہاں ایشیا کی 30ٹیمیں حصہ لیتی ہیں ۔فٹبال کے کھیل کے حوالے سے پاکستان کا ریکارڈ ہمیشہ پست ہی رہا ہے اور ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی پاکستان آج تک فٹبال میں کوئی خاطر خواہ پرفارمنس پیش نہیں کرسکا جس کی ایک نہیں کئی واجوہات ہیں جس میں پہلی تو حکومتی عدم دلچسپی ہے اس کے علاوہ حکومت نے ہمیشہ فٹبال فیڈریشن کو ایسے لوگوں کے حوالے کیے رکھا کہ جو کھیل کی سمجھ بوجھ سے بھی محروم ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان فٹبال کی عالمی رینکنگ میں 170ویں پوزیشن پر ہے جس کا تمام تر کریڈٹ فیڈریشن چلانے والے لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے ہمیشہ جو بھی اقدام اٹھایا کھیل کو بربادی کی طرف لیجانے والااٹھایا ورنہ کرکٹ کے کھیل میں عالمی نمبر تین کی پوزیشن پر فائز پاکستان فٹبال کی عالمی رینکنگ میں170ویں پوزیشن پر نہ ہوتا۔گزشتہ کئی سالوں سے حکومتی عدم دلچسپی اور ذاتی پسند نے پاکستان میں کھیلو ں کا جوحشر ہوا ہے وہ پچھلے 50سالوں میں نہیں ہوا موجودہ حکومت نے تمام کھیلوں کی فیڈریشنز میں ایسے لوگ بٹھائے ہیں جنہوں کھیل کی مکمل طورپر معلومات نہیں ہوتیں اس لیے پاکستان میں تمام کھیل الٹے قدموں پر چل رہے ہیں ایسے حالات میں جب تمام کھیل پستی کا شکار ہوچکے ہیں اور ان کی جانب کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے اور لوگ کھیلوں سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں تو لاہور میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ سپورٹس برائے خواتین کے تعاون سے طالبات اور سپورٹس ٹیچرز نے” سپورٹس سائنسز وویمن فٹبال کلب “کے نام سے پنجاب کے پہلے خواتین فٹبال کلب کا قیام عمل میں لایا اورذاتی اخراجات پر کلب کو چلانا شروع کیا۔کلب کی سربراہی وفاقی وزیر برائے کھیل شمیم حیدر کی اہلیہ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ حیدر کررہی ہیں جبکہ طاہر نذیر جنرل سیکرٹری ،مہوش اعوان منیجر اور قومی اتھلیٹ ٹریفک وارڈن کی سب انسپکٹر سلمہ شوکت کلب انتظامیہ کی سنیئر ترین رکن ہونے کے ساتھ ساتھ میڈیا منیجرکی خدمات کے علاوہ بطورکھلاڑی ڈ یفنڈرہیں۔کلب کی کوچنگ معروف قومی کوچ سیف السلام کررہے ہیں۔سپورٹس سائنسز وویمن فٹبال کلب میں کھیلنے والی سبھی لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جن میں بعض گریجویشن کرنے کے بعد مختلف تعلیمی اداروں میں سپورٹس انچارج کی خدمات سرانجام دے رہی ہیں جبکہ بعض ایم اے کی سٹوڈنٹس ہیں جبکہ دیگر لڑکیاں ٹریفک وارڈن ہیں۔اس کلب کو پنجاب یونیورسٹی نے شعبہ سپورٹس برائے خواتین کی گراؤنڈ کی سہولت فراہم کی ہے جبکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن نے تاحال اس کلب کو رجسٹرڈ نہیں کیا تاہم گزشتہ روز ہونے والی تقریب میں پی ایف ایف کے ڈائریکٹر آپریشن پرویز میر نے کلب کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے کلب انتظامیہ سے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ پی ایف ایف تمام کھلاڑیوں ہر ممکنہ سہولیات فراہم کریگی۔کلب کی معمولات کچھ اس طرح سے ہیں ابتدائی طور پر کھلاڑی روزانہ گراؤنڈز میں پر یکٹس کرتی ہیں جس میں سب سے پہلے رننگ ہوتی ہے جہاں پلیئرز وارم اپ ہونے کے بعد آپس آپ میں میچز کھیلتی ہیں جہاں آدھے گھنٹے کے بعد دس منٹ کا وقفہ کیا جاتا ہے اورآخری سیشن میں کوچ سیف السلام لڑکیوں کو پنالٹی شوٹر ،ککس ، فری ہٹ اور ہینڈر گول کرنے کی خصوصی تربیت دیتے ہیں ۔ کلب کے کوچ سیف السلام نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کلب سے منسلک سبھی لڑکیاں باہمت ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی حوصلے مند ہیں اور گرمیوں اور دھوپ میں سخت محنت کرتی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کھلاڑی آنے والے دنوں میں انتہائی مستند کھلاڑی کے روپ میں نظر آئیں گی۔کلب کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سپورٹس سائنسسز وویمن فٹبال کلب کے جنرل سیکرٹری طاہر نذیر نے ”اردوپوائنٹ ڈاٹ کام “ سے بات چیت کرتے ہوئے کہ مجھے ان لڑکیوں کا حوصلہ اور ہمت دیکر انتہائی خوشی ہوئی ہے اور مجھے اس بات کی پوری امید ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف یہ کلب ملکی سطح پر خواتین کا ٹاپ کلب ہوگا بلکہ اس کلب سے منسلک کھلاڑی نیشنل سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایں گی۔انہوں نے مزید کہا سبھی لڑکیاں شوق سے کھیل رہی ہیں اور ان سبھی کا مقصد پاکستانی معاشرے میں خواتین کو کھیلوں کے متعلق شعور دیناہے بالخصوص فٹبال کے بارے میں ہمارے ہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور کم ہی کھیلتے ہیں اس لیے ہماری کوشش ہے کہ پاکستان فٹبال کی دنیا میں بھی اپنا نام پیداکرے ۔کلب کی سنیئر ترین رکن اور ٹریفک وارڈن سب انسپکٹر سلمہ شوکت نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سبھی لڑکیاں پڑھی لکھی ہیں اور شوق کی خاطر کھیل رہی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں فٹبال کے کھیل کی طرف خواتین کو بھی آنا چاہیے ہم نے یہ کلب اس لیے بنایا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی کھیلوں میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی سب سے پہلی وجہ والدین اپنی بچیوں کو اجازت نہیں دیتے اور اگر کوئی لڑکی کھیلوں میں حصہ بھی لیتی ہیں تو اس کی گائیڈنس کرنا والا کوئی نہیں ہوتا ۔سلمہ شوکت نے مزید بتایا کہ کلب کیلئے سپانسر ڈھونڈنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں ہماری کئی کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے امید ہے کہ کلب کیلئے سپانسر بھی مل جائیں گے۔