اعجاز وسیم باکھری:
اب توہاکی کو پاکستان کا قومی کھیل کہتے اور لکھتے ہوئے بھی دکھ سامحسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے قومی کھیل کو نہ صرف فراموش کردیا ہے بلکہ اس کو تباہ کرنے کیلئے ہروہ طریقہ اختیار کیا گیا جوہمار ے بس میں تھا۔ایک زمانہ تھا جب دنیا بھر میں پاکستان ہاکی ٹیم کا طوطی بولتا تھا لیکن سیاست اور پسند نا پسند نے قومی کھیل کو زوال پذیرکردیا ہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک طرف ٹیم ابھی اولمپکس کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے تو دوسری جانب سابق اولمپیئنز گھر بیٹھ کر ٹیم پر تنقید کے پہاڑ توڑرہے ہیں کہ ٹیم اولمپک میں اگر چھٹی پوزیشن بھی حاصل کرلے تو فتح تصور کی جائیگی تاہم دوسری جانب قومی ٹیم کے کھلاڑی سابق اولمپئنز کی اس پیشگوئی کو غلط ثابت کرنے کیلئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں اور تمام کھلاڑی اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اولمپکس گیمز میں وکٹری سٹینڈ تک ضرور پہنچے گا۔بیجنگ اولمپکس 11اگست سے چین میں شروع ہورہے ہیں اور پاکستان ہاکی ،سوئمنگ ،شوٹنگ اور اتھلیٹکس میں حصہ لے رہا ہے،ہاکی واحد ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان نے کوالیفائی کیا جبکہ دیگر تمام کھیلوں میں پاکستان کو وائلڈ کارڈ پر انٹری نصیب ہوئی ہے۔دیگر تینوں کھیلوں میں تو میڈل کی توقع نہیں کی جاسکتی البتہ ہاکی ٹیم کے مورال کودیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ پاکستان وکٹری سٹینڈ تک رسائی حاصل کرنے میں سرخروہوگا،ایونٹ میں پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ آسٹریلیا اور ہالینڈ سے ہے جو پاکستان کے پول بی میں شامل ہیں اور اگر پاکستانی ٹیم اپنے پول میں آسٹریلیا اور ہالینڈ کو شکست دیکر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہوگا۔
پاکستان ہاکی ٹیم اپنی تاریخ میں چار مرتبہ ورلڈکپ جیت چکی ہے اور تین بار پاکستان اولمپک گولڈمیڈل جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔آخری بار پاکستان نے1984ء کے لانس اینجلس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا اس کے بعد اب تک پاکستانی ٹیم اولمپکس میں گولڈمیڈل حاصل کرنے میں ناکام چلی آرہی ہے جبکہ قومی ٹیم نے اپنی آخری بڑی فتح 1994ء کا ہاکی ورلڈکپ جیت کرحاصل کی اور اب تک 14برس بیت گئے ہیں لیکن پاکستان ہاکی ٹیم دوبارہ قوم کو کوئی خوشخبری نہیں دے سکی مگر اس بار کرکٹ ٹیم سے مایوس شدہ قوم اب ہاکی ٹیم سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے اور کھلاڑی بھی فتح کیلئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔گوکہ قومی ٹیم گزشتہ اذلان شاہ کپ میں شکست کھاگئی اور آخری چیمپئنزٹرافی میں بھی پاکستان نے خاطر خواہ کھیل پیش نہیں کیا لیکن ایونٹ کیلئے منتخب کردہ 16رکنی ٹیم میں یہ اہلیت نظر آتی ہے کہ وہ قوم کو دوبارہ خوشی دے سکتے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اولمپکس گیمز کیلئے ذیشان اشرف کو کپتان مقرر کیا ہے جبکہ ان کے نائب کے فرائض فل بیک محمد عمران ادا کرینگے دیگر کھلاڑیوں میں گول کیپر سلمان اکبر ،ناصر احمد، عمران وارثی ، محمدجاوید ،محمد ثقلین ،عدنان مقصود ،رانا آصف ،وقاص شریف ،وقاص اکبر ،ریحان بٹ ،شکیل عباسی ،عباس حیدر ،زبیر اور شفقت رسول شامل ہیں ۔جبکہ ریزرو کھلاڑیون میں گول کیپر فصیح الرحمن ،محمد عتیق ،عرفان فرید،سعید شاہ ،حسیب خان ،شبیر احمد کامران احمد اور امحمد امین شامل ہیں ۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان ہاکی کے زوال کی سب سے بڑی وجہ فیڈریشن میں ہونیوالی سیاست ہے اور حکومت کی جانب سے سوتیلی ماں جیسے سلوک نے ہاکی کو پاکستان میں ختم کرکے رکھ دیا ہے ۔دوسری طرف کھلاڑیوں کے مالی مسائل کی جانب بھی توجہ نہیں دی جاتی اور اب تک کئی پاکستانی کھلاڑی بیماریوں میں مبتلا ہوئے لیکن ان کی کسی نے مدد نہیں کی اور محمد قاسم جیسا عظیم گول کیپر بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا اور مدثر علی خان جیسا تیزرفتار فارورڈ اپنے عروج کے دور میں محض پانچ لاکھ کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مزید ہاکی کھیلنے سے محروم ہوگیا یہ وہ چندواقعات ہیں جن کو مدنظر رکھ کرنوجوان ہاکی کی طرف رغب ہونے سے کتراتے ہیں ۔حکومت نے ہردور میں ہاکی کے کھلاڑیوں پر توجہ نہیں دی اور آہستہ آہستہ ہاکی پاکستان میں زوال کا شکار ہوتی گئی اور پاکستان بین الاقومی سطح پر ایک ناکام ترین ملک سمجھا جانے لگا مگر اس وقت آصف باجوہ کے آنے سے ایک بار پھر امید کی کرن نظر آئی ہے اور فیڈریشن نے اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر ہرکھلاڑی کو 15،15لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے اور اگر ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہی تو ہرکھلاڑی کو ہزار سی سی کار انعام میں دی جائیگی۔
اولمپکس گیمز کیلئے قومی ہاکی ٹیم کا تربیتی کیمپ جاری ہے اور ٹیم ایونٹ میں شرکت کیلئے 31جولائی کوبیجنگ روانہ ہوگی۔اولمپکس گیمز میں پاکستان کو پول بی میں رکھا گیا ہے جبکہ دیگر ٹیموں میں آسٹریلیا، ہالینڈ،برطانیہ ،کینیڈا اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں شامل ہیں ۔پول اے میں قدرے کمزور ٹیموں کو شامل کیا گیا ہے ان میں چین بیلجیم ،کوریا،نیوزی لینڈ ،سپین اور جرمنی شامل ہیں۔تین مرتبہ اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ٹیم ایونٹ میں اپنا پہلا میچ 11 اگست کو برطانیہ کے خلاف کھیلے گی جبکہ 13 اگست کو پاکستان کا مقابلہ کینیڈا سے ہو گا ۔ 15 اگست کو آسٹریلیا اور پاکستان کا جوڑپڑیگا جبکہ 17 اگست کو جنوبی افریقہ اور پاکستان کی ٹیمیں آپس میں ٹکرائیں گی۔قومی ٹیم ایونٹ کے پہلے راؤنڈ میں آخری میچ 19 اگست کو مضبوط حریف ہالینڈ کے خلاف کھیلے گی جبکہ اولمپک ہاکی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنلز 21 اگست اور فائنل 23 اگست کو کھیلا جائے گا۔