اعجاز وسیم باکھری:
کرکٹ کے کھیل میں یہ روایت اب عام ہوچکی ہے کہ ہرنئے سال میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونماہوتا ہے جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا۔یہ سلسلہ کرکٹ کے آغازسے لیکر اب تک اپنی پوری آب و تاب سے جاری ہے جہاں ہر نئے سال کی آمد کے ساتھ ہربار کوئی انوکھا واقعہ یا کوئی حیران کردینے والی تبدیلی دیکھنے کوملتی ہے جو بہت جلدعوامی مقبولیت حاصل کرلیتی ہے۔(آئی سی ایل) کے بعد( آئی پی ایل) بھی ایک ایسی حیران کردینے والے تبدیلی ہے جس نے اپنے آغاز سے قبل ہی کرکٹ کے دیوانوں کو اپنے سحرمیں مبتلاکررکھاتھا اور اب جب آئی پی ایل شروع ہوچکی ہے تو کرکٹ کا ہرشائق آئی پی ایل کی رنگینی میں کھوچکا ہے۔آئی پی ایل کا آغاز تو انتہائی شاندار اور دھماکے دار تھا مگر انجام کیا ہوگا یہ فیصلہ آنے والے ماہ و سال کرینگے کیونکہ بے پناہ پیسہ ،بھرپورگلیمر اور گراؤنڈز میں حسیناؤں کے ناچ گانے کے شور نے ماہرین کو حقیقی کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں پریشان کردیا ہے کیونکہ کرکٹ جسے شرفاء کا کھیل کہا جاتا ہے جس کا اصل حسن پانچ روزہ ٹیسٹ میچ کو قراردیا جاتا ہے پہلے ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ اور اب پرائیوٹ لیگ کرکٹ نے جہاں شائقین میں بہت کم عرصے میں مقبولیت حاصل کی ہے وہیں کرکٹ کے مستقبل کیلئے کھیل پر گہری نگاہ رکھنے والے قدآور لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبوربھی کردیا ہے کیونکہ بہت زیادہ پیسہ اور ڈالرز کی لالچ میں آکر بہت سے کھلاڑیوں نے اپنی قومی ٹیموں کی جانب سے کھیلنے کی بجائے پرائیوٹ لیگ کرکٹ کوجوائن کرلیا ہے اور بہت سے اس کیلئے پرتول رہے ہیں جو کہ ایک فکرآمیز بات ہے۔ اس کے علاوہ جوپہلوسب سے زیادہ توجہ طلب ہے وہ 20اوورز کی کرکٹ کی بھرمار ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ باؤلرز کے مقابلے میں بیٹسمینوں کیلئے مفید کرکٹ ہے لیکن میرے خیال میں یہ نہ تو بلے بازوں کیلئے سودمند کرکٹ ہے اور نہ ہی باؤلرز کیلئے ۔کیونکہ جس بے دردی سے بیٹسمینوں کی تکنیک اور ٹمپرامنٹ کا خون ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں ہورہا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور رہی بات باؤلرز کی، تو ان کیلئے اس سے بڑے زوال کی بات اور کیا ہوسکتی ہے انہیں پورے میچ میں محض چار اوورز پھینکنے کوملتے ہیں جن میں انہیں کپتان کی ہدایات پروکٹ حاصل کرنے کی جستجو کیے بغیر محض سکور کنٹرول کرنا ہوتا ہے جو کہ ایک باؤلرز کیلئے توہین آمیز اقدام ہے ۔
جب ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کا انگلش سرزمین پر وجود پذیر ہوا تو بہت سے لوگوں نے اسے کھیل کیلئے زہرقاتل قرار دیا۔ تاہم آج چار سال بعد بھی یہ بہت محسوس کی جا سکتی ہے کہ ٹونٹی کرکٹ نہ تو ٹیسٹ کرکٹ پر اثرانداز ہوئی اور نہ ہی 50اوورزکے ون ڈے میچز پر۔ تاہم جب سے پرائیوٹ لیگ کرکٹ کا آغاز ہوا پہلے” آئی سی ایل“ اور اب ”آئی پی ایل“ کی رنگینی، کھلاڑیوں کی پیسہ کے پیچھے لگی بھاگ دوڑ اور پلیئرز کی خرید فروخت نے حقیقی معنوں میں کرکٹ کے مستقبل پربہت سے سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں حالانکہ اگر فٹبال پر نظردوڑائی جائے تو ہرملک میں ایک سے زائد لیگ ٹورنامنٹ ہرسال بڑے دھوم دھام سے کھیلے جاتے ہیں مگر وہ فٹبال کی اصل شکل یعنی 90منٹ ہی کے میچز ہوتے ہیں جس سے فٹبال کو بجائے نقصان پہنچنے کے بے پناہ فائدہ ہوتاہے اور نوجوان کھلاڑی سامنے آتے ہیں یوں کلب اور لیگ لیول مقابلے میں بھی جوش وخروش سے دیکھے جاتے ہیں اور انٹرنیشنل میچزمیں بھی شائقین بھرپوردلچسپی لیتے ہیں کیونکہ دونوں کا ایک ہی معیار اور ایک ہی قاعدہ قانون ہوتا ہے لیکن کرکٹ میں یہ چیزیں یکسر مختلف ہیں۔ کرکٹ کا اصل حسن ٹیسٹ میچز کو کہاجاتا ہے ایک روزہ میچز کرکٹ کی معراج کہلواتے ہیں تاہم 20اووروں کے مقابلوں نے کرکٹ کے میدانوں میں جو ہنگامہ برپاکررکھاہے اس کے مستقبل میں خطرناک نتائج بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔اگر ٹونٹی کرکٹ ایک حدتک کھیلی جائے جیسے دوسال بعد ایک ورلڈکپ ٹورنامنٹ اور ایک ٹیم سال میں چار ٹونٹی میچز کھیلے تو ایسے میں ٹونٹی کرکٹ ٹیسٹ اور ون ڈے میچز پر اثر انداز نہیں ہوپائے گی تاہم آئی پی ایل کا 44دنوں پر محیط ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ نہ صرف کرکٹ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے بلکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی برے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ جب تمام کھلاڑی لگاتار تواتر کے ساتھ ڈیڑھ ماہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کھیل کرٹیسٹ میچز کیلئے میدان میں اتریں گے تو وہ یکسر بدل چکے ہونگے یہ ایک تلخ حقیقت ہے اس سے آنکھیں توچرائیں جا سکتی ہیں لیکن انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ بات محض کہنے کی حدتک نہیں ہے ایسے نظارے عام طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں جب ٹیسٹ میچز تیسرے دن ہی اختتام کو جاپہنچتے ہیں اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پہلے تو کوئی ٹیسٹ میچ ڈرا ہی نہیں ہوتا اور جو فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں وہ چوتھے روز ہی اپنے اختتام کو پہنچ جاتے ہیں یہ سب کچھ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی بھرمار ہی ہے جو ٹیسٹ کرکٹ کے حسن کو بگاڑنے کی کوشش کررہی ہے اور اب آئی سی ایل کے بعد سرکاری لیگ آئی پی ایل جسے آئی سی سی کی سرپرستی حاصل ہے جسے دنیا ئے کرکٹ کے تمام کرکٹ بورڈز سپورٹ کررہے ہیں، شائقین کو بھرپور تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کرکٹرز کو لاکھوں ڈالر سمیٹنے کا موقع تو دے رہی ہے لیکن مشاہد نظروں سے دیکھا جائے تو اس سے کرکٹ کا حقیقی رنگ پھیکا پڑ رہا ہے جس کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے فی الحال تو ڈالرز نے سب کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے مگر کچھ وقت گزرنے کے بعد کسی ایک کوبھی اپنی اس غلطی کا ازالہ کرنے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔