اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان کی میزبانی میں کھیلے جارہے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھارت نے میزبان پاکستان کوباآسانی 6وکٹوں سے شکست دیکر تین ملکی سیریز میں پاکستان کی حاصل کردہ برتری کاخاتمہ کردیا ہے۔36ہزارشائقین کی موجودگی میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 300رنز کا ہدف دیا لیکن کپتان شعیب ملک اور عمرگل کی انجری کی وجہ سے بھارتی بیٹسمینوں نے کمزور بولنگ اٹیک کا بھرپورفائدہ اٹھایا اور پاکستان کو باآسانی شکست دے ڈالی۔پاک بھارت میچ کے اختتام کے ساتھ ہی ٹورنامنٹ کا پہلاراؤنڈ مکمل ہوچکا ہے اور اب دوسرے راؤنڈ میں حصہ لینے کیلئے سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں بھی لاہور سے کراچی پہنچ گئیں ہیں۔
نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور خود 125رنز بناکر اپنی ٹیم کو ایک بڑا مجموعہ تشکیل دینے میں مدد فراہم کی لیکن انہیں ف ریٹائرڈ ہرٹ ہو کر اپنی اننگز کو چھوڑ کر باہر آنا پڑا جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کی بولنگ کمزور ہوگئی اور جب بھارت نے اپنی اننگز شروع کی تو عمرگل 8گیندیں کرنے کے بعد انجرڈہو کر گراؤنڈ سے باہرچلے گئے اور پاکستانی ٹیم بری طرح لڑکھڑا گئی۔بھارتی بیٹسمینوں سہواگ اور سریش رائنا نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے198رنز کی ریکارڈ پارٹنرشپ قائم کی ،سہواگ نے 5چھکوں اور 12چوکوں کی مدد سے 119رنز بنائے جبکہ رائنا نے 84رنز بنا کر اپنی ٹیم کو ایک آسان فتح دلانے میں اہم کردار اداکیا۔پاکستان کی جانب سے بولنگ میں کسی کھلاڑی نے متاثر کن کھیل پیش نہیں کیا جبکہ کپتان شعیب ملک نے شکست کی تمام ترذمہ داری عمرگل کی انجری پر ڈالتے ہوئے کہاکہ ہمارامین باؤلر زخمی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ہم بڑا ٹارگٹ دینے کے باوجود بھی کم بیک نہیں کرسکے۔تاہم شعیب ملک پرامید ہیں کہ وہ تین ملکی سیریز کی طرح ایشیا کپ میں بھی کم بیک کرینگے اور اپنے بقیہ میچز میں تازہ دم ہوکر نئے جذبے کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور اس شکست کاازالہ کرینگے۔شعیب ملک کی تمام باتیں اپنی جگہ لیکن یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قومی ٹیم کو آصف اور شعیب اختر کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی ہے کیونکہ عمرگل بھی اب انجرڈ ہوچکے ہیں اور آصف کے متبادل کے طور پر ٹیم میں آنے والے سہیل خان بھی سائیڈ لائن پر بیٹھے ہیں اب ٹیم کو مجبوری کے عالم میں سعید اجمل اور وہاب ریاض پر انحصار کرنا ہوگاجوکہ بڑے میچزکاپریشر برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جس سے پاکستان کیلئے اگلے میچز کیلئے حتمی گیارہ رکنی ٹیم کاانتخاب مشکل میں پڑگیاہے ۔کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہرمیچ سے قبل حتمی گیارہ رکنی ٹیم کے انتخاب کیلئے سلیکشن کمیٹی کے کوچ اور کپتان سے اختلاف چل رہے ہیں کیونکہ پریس کانفرنس میں جب شعیب ملک سے ٹیم کی سلیکشن کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ پریشان ہوگئے اور محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہاکہ ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے والی 11رکنی ٹیم کاانتخاب سلیکشن کمیٹی کرتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے ایک بار پھر سلیکشن کمیٹی ٹیم میں انتشار پیدا کررہی ہے جس سے ٹیم کی کارکردگی پر برا اثر پڑرہا ہے۔
بہرحال،پاکستانی بیٹسمینوں نے عمدہ بیٹنگ کی اور شائقین نے اپنی ٹیم کو کھل کرداد دی تاہم بولنگ میں ناکامی کے بعد کراچی کے شائقین خاصے مایوس نظر آئے اور 20اوورز کے کھیل کے بعد شائقین نے گراؤنڈ سے باہر نکلنا شروع کردیاکیونکہ ایک طویل عرصے بعد پاک بھارت ٹیمیں کراچی میں مدمقابل تھیں اس لیے شائقین کی ایک بڑی تعداد نے سٹیڈیم کا رخ کیا لیکن بھارت کے ہاتھوں شکست ملنے سے ایک بار پھر ایشیا کپ کے روز ماند پڑتا ہوا محسوس رہا ہے لیکن پاکستانی ٹیم کم بیک کرنے میں ایک الگ شہرت رکھتی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ٹیم دوسرے راؤنڈ میں ایک نئے جذبے کے ساتھ میدان میں اترے گی اور اپنی ناکامی کا ازالہ کریگی۔دوسری جانب ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ کے شیڈول کااعلان کردیا گیا ہے ۔ایونٹ میں شریک ہانگ کانگ اور یواے ای کی ٹیمیں ٹورنامنٹ سے آؤٹ ہوگئی ہیں اور اب ایونٹ کے بقیہ تمام میچز کراچی نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جائینگے ،سپر فور راؤنڈ کا پہلامیچ 28جون کو بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کھیلا جائیگا جبکہ 29جولائی اتوار کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جوڑپڑیگا جبکہ روایتی حریف پاک بھارت ٹیمیں2جولائی کو مدمقابل ہونگی اور ایونٹ کا فائنل 6جولائی کو کھیلا جائیگا۔