اعجاز وسیم باکھری:
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ ان دنوں پاکستان میں جاری ہے جہاں پہلا راؤنڈ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور دوسرے راؤنڈ کے میچز کا آغازآج سے ہورہا ہے۔سپر فور راؤنڈ کے پہلے میچ میں آج بھارت اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ایک دوسرے کا سامنا کررہی ہیں ۔ٹورنامنٹ کے بقیہ تمام میچز نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جائینگے ۔ ٹورنامنٹ میں اس وقت بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں4، 4پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستانی ٹیم بغیر2پوائنٹس کے تیسرے نمبر پر موجود ہے۔تاہم کیری فارورڈ پوائنٹس کے حوالے سے بھارتی ٹیم پاکستان ،اور سری لنکن ٹیم بنگلہ دیش کو شکست دیکر اگلے راؤنڈ میں دو دوپوائنٹس حاصل کرچکی ہیں جبکہ پاکستانی ٹیم کا کوئی پوائنٹس نہیں ہے جس سے قومی ٹیم کو سپر فور راؤنڈ میں اپنے تینوں میچ میں فتح حاصل کرنا ہوگی۔
دوسری جانب ،پاکستانی ٹیم ایک بار پھر مسائل کا شکار ہوگئی ہے اور اب ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی مشکل لگ رہی ہے کیونکہ قومی کرکٹ ٹیم کے پیسر عمر گل ایک بار پھر انجریز مسائل سے الگ ہوکر ایشیا ء کپ سے آؤٹ ہوگئے ہیں۔وہ بھارت کے خلاف ایشیا ء کپ کے پہلے راؤنڈ کے آخری میچ میں آٹھ گیندیں پھنکنے کے بعد کمر کی تکلیف کا شکار ہوکر گراؤنڈ سے باہر چلے گئے تھے جہاں انہیں ڈریسنگ روم میں ابتدائی طبی امداد دی گئی تاہم تکلیف بڑھ جانے کی وجہ سے انہیںآ غا خان ہسپتال لیجایا گیا جہاں ان کے ایکسرے کے گئے جن کی رپورٹ ملنے کے بعد ڈاکٹر نے عمرگل کو چند دن آرام کا مشورہ دیا ہے اور اب ان کی جگہ ٹیم میں عبدالرؤف کو15رکنی سکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سکواڈ میں پہلے ہی سے لیفٹ ہنڈر فاسٹ باؤلر وہاب ریاض ہیں جو کہ بنگلہ دیش میں ہونیوالی تین ملکی سیریز میں اپنے ناکام جوہر دکھاچکے ہیں لہذا اب پاکستان کو سہیل تنویر ،راؤافتخار اور وہاب ریاض،عبدالررؤف ،سعید اجمل اور شاہد آفریدی کی بولنگ پر انحصار کرنا ہوگا جسے یہ صاف جھلک رہا ہے کہ پاکستابی بولنگ اٹیک انتہائی کمزور ہوچکا ہے اور میرے خیال میں موجودہ پاکستانی بولنگ اٹیک میں وہ دم خم نہیں ہے کہ یہ بھارتی اور سری لنکن بیٹسمینوں نکیل ڈال سکیں۔لہذا عمرگل کی انجری پاکستانی ٹیم کو شدید نقصان ہوا ہے ،اس سے قبل عمرگل دورہ بھارت کے دوران ابتدائی ٹیسٹ میچ میں زخمی ہونے کے بعد وطن واپس لوٹ آئے تھے اور بعدازاں انہیں علاج کیلئے آسٹریلیا بھیجا گیا جہاں وہ پندرہ دن زیر علاج رہے اور مکمل فٹ ہوکر وطن لوٹے تھے لیکن اب ایک بار پھر عمرگل کی انجری سے پاکستانی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ پہلے ہی سے ٹیم اپنے دو اہم باؤلر شعیب اختر اور محمد آصف کی خدمات سے محروم ہوچکی ہے جو اپنی آف دی فیلڈحرکات کی وجہ سے سائیڈ لائن پر بیٹھے ہیں۔ٹیم مینجمنٹ کیلئے اس وقت گیارہ رکنی سکواڈکا انتخاب مشکل ہوگیا ہے اور اب تما م تر بوتھ اور ذمہ داری بیٹسمینوں پر عائد ہوچکی ہے کہ وہ بڑا سکور کریں اور بولرز کا ساتھ دیں ،یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پاکستانی ٹیم میں انفرادی کارکردگی پیش کرنے کا رجحان زیادہ پایا جاتاہے جبکہ اجتماعی کھیل پیش نہ کرنے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم ہمیشہ مسائل کا شکار رہی ہے اور جب بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے ملکر اور یکجاہو کر کرکٹ کھیلی ہے پاکستان نے وہاں کامیابی حاصل کی ہے ،لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی انفرادی کھیل پیش کرنے کو زیادہ اولیت دیتے ہیں مگر اب وقت کی یہ ضرورت ہے کہ اجتماعی کھیل پیش کیا جائے ،اس کیلئے ٹیم کی قیادت کسی مضبوط شخص کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے جو کھلاڑیوں کے ذہنوں کو بدل کرانہیں حریف ٹیم کے خلاف لڑنے پر اکسائے لیکن بدقسمتی سے پاکستانی ٹیم کے کپتان شعیب ملک میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی وہ خودایک طویل عرصے سے ناکام چلے آرہے ہیں مگر بھارت کے خلاف کراچی میں ملک نے سنچری تو سکور کی لیکن وہ پہلے گراؤنڈ میں ہی نہ آئے اور جب آئے تو بولنگ نہیں کی جس سے پاکستانی ٹیم شکست کھاکر مشکل میں پھنس گئی ہے۔اب پاکستانی ٹیم کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ بھوکے شیر کے طرح حریف ٹیموں پر جھپٹ پڑے اور ہرمیچ کو آخری میچ سمجھ کرکھیلے اور اپنی فائنل تک رسائی کو یقینی بنایا جائے ۔پاکستانی ٹیم سپر فور راؤنڈ میں اپنا پہلا میچ اتوار کو سری لنکا کے خلاف کھیلی گی جبکہ روایتی حریف پاک بھارت ٹیم 2جولائی کو ایک دوسرے کے مدمقابل ہونگی۔