اعجازوسیم باکھری:
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوسرے سپرفور راؤنڈمیں آج میزبان پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف میدان میں اتر رہی ہے۔قومی ٹیم پہلے ہی سے ٹورنامنٹ کے فائنل کی دوڑ سے باہرہوچکی ہے اور آج محض رسمی کارروائی کے طو ر پر دونوں ٹیمیں ایک دوسرے سے نبردآزماہورہی ہیں۔ایشیا کپ کے فائنل کیلئے بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں پہلے ہی سے فائنل کیلئے کوالیفائی کرچکی ہیں ۔نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جانیوالے اس میچ میں پاکستانی ٹیم شدید پریشر کے ساتھ میدان میں اتریگی کیونکہ بھارت کے خلاف راؤنڈ میچ اور سری لنکا کے خلاف سپر فورکا پہلا معرکہ ہارنے کے بعد ٹیم کے کپتان شعیب ملک اور کوچ جیف لاسن ایک بارپھر زیر عتاب آچکے ہیں اور دونوں پر ہرطرف سے تنقید کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔آج کے میچ میں پاکستانی ٹیم نے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں جن میں آل راؤنڈ ر شاہد آفریدی ،وہاب ریاض اور منصور امجد کو آرام دئیے جانے کا امکان ہے۔جبکہ دوسری جانب کپتان شعیب ملک بھی مکمل صحت یاب نہیں ہیں اور ان کی بھی شرکت کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوپایا۔ایشیا کپ میں آج پاکستانی ٹیم اپنا چوتھا میچ کھیل رہی ہے اور اب تک کھیلے جانیوالے تین میچز میں سے محض ہانگ کانگ کی کمزور ٹیم کے خلاف اتنہائی مشکل سے فتح حاصل کی جبکہ بھارت اور سری لنکا کے ہاتھوں بھاری مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی بدولت ٹیم بنگلہ دیش سے بھی قبل اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے جانیوالے ایونٹ سے باہرہوگئی۔ ایشیا کپ کے آغاز ہی سے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی لڑکھڑارہی ہے ، ہانگ کانگ کے خلاف بیٹنگ کی ناکامی کے بعد ابھی تک پاکستانی ٹیم سنبھل نہیں پائی اور بجائے حالات میں بہتری آنے کے صورت حال مزیدخراب ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔سپر فورکے پہلے میچ میں سعید اجمل کی بجائے منصور امجد کو ون ڈے کیپ دینے پر کافی اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں کیونکہ منصور نے اپنے 8اوورز میں 42رنز کے عوض محض ایک ہی وکٹ حاصل کی اور کپتان شعیب ملک کی سست رفتار بیٹنگ پر بھی کافی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ۔دوسری جانب ایشیا کپ میں دوسری مرتبہ صفر کی خفت سے دوچار ہونیوالے اوپنر بیٹسمین سلمان بٹ کی ناکامی نے ٹیم مینجمنٹ نیندیں حرام کررکھی ہیں۔فاسٹ باؤلر عمرگل کے زخمی ہونے کے بعد سلیکشن کمیٹی نے عبدالرؤف کو 15رکنی ٹیم میں شامل کرلیا لیکن اسے گراؤنڈ میں اتارنے سے گریز کیا گیا تاہم آج کے میچ میں توقع کی جارہی ہے کہ ٹیم مینجمنٹ رؤف کو گراؤنڈ میں اتارے کیونکہ وہاب ریاض ایک بارپھر اپنے سے وابستہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔آج کے میچ میں سعید اجمل ،عبدالرؤف اور ناصر جمشید کو موقع دیا جاسکتا ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا ٹیم مینجمنٹ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ کمزور ٹیم کے ساتھ بھارت کے خلاف میدان میں اترنا بھی ایک رسک ہے ۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ جیف لاسن نے صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر تمام میڈیا نمائندگان سے معافی طلب کرلی ہے تاہم بعدازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے ایک بار پھر غیرشائستہ الفاظ استعما ل کرتے ہوئے کہاکہ میں نے ان جرنلسٹس سے معافی مانگی ہیں جنہوں نے میری پریس کانفرنس کا بائیکاٹ نہیں کیا تھا،اس بیان پر کراچی کے صحافی سیخ پا ہوگئے ہیں اور سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف جاری میچ کے دوران نیشنل سٹیڈیم کے باہرآکر جیف لاسن کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔جب صحافی نعرے بازی کررہے تھے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اہلکار انہیں راضی کرنے کی کوشش کرتے رہے بالآخر کرکٹ بورڈ کے سنیئر عہدیداران کی اس یقین دہانی پر صحافیوں نے احتجاج ختم کیا کہ جیف لاسن ازخود صحافیوں سے معافی مانگیں گے۔بعد ازاں کچھ دیر بعد جیف لاسن کی جانب سے اس کے ہاتھ سے تحریر کردہ ایک پیپر صحافیوں کو دیا گیا جس میں اس نے معافی مانگی تھی اور کہاکہ وہ صحافیوں سے ملاقات کرکے برملا معافی طلب کریں گے اس کے بعد صحافیوں نے اپنا احتجاج کا سلسلہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا ۔
اس تمام صورت حال میں بھارت سے آئے ہوئے 65صحافی سارا منظر دیکھتے رہے اور وہ بھی لاسن کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئے ۔جیف لاسن کی اس حرکت پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتانوں ،رمیزراجہ،وسیم اکرم،وقاریونس اور عامر سہیل نے سخت افسوس کا اظہار کیا۔جیف لاسن چونکہ ایک آسٹریلین ہیں اور وہ بہت جلدغصہ میں آجاتے ہیں اور وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے اور یہاں کے صحافی زیادہ لکھے پڑھے نہیں ہوتے اور انہیں شعور نہیں ہوتا ،تاہم اس کے ناقابل برداشت رویے کے خلاف صحافیوں نے جب بائیکاٹ کیا تو لاسن کو یہ احساس ضرور ہوگیا ہے کہ وہ پاکستان میڈیا کے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں وہ درست نہیں ہے اسی لیے وہ اپنی نوکر ی کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے معافیوں پر ترلے منتوں پر اتر آئے ہیں کہ شاید ان کی نوکری بچ جائے لیکن پاکستان میں کرکٹ سمجھنے والا ہرشخص جیف لاسن کو پاکستان کرکٹ کیلئے” کینسر “قراردبتا ہے۔اب یہ بورڈ پر منحصر ہے کہ وہ جیف لاسن کے بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے مگر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ پاکستانیوں کو جیف لاسن کی قعطاً ضرورت نہیں ہے۔