اعجازوسیم باکھری:
قومی کرکٹ ٹیم نے اپنی روایت کو برقر ار رکھتے ہوئے بھارتی ٹیم سے اپنی پہلی شکست کا بدلہ چکا دیا ہے۔ایشیا کپ کے راؤنڈ میچ میں شکست کھانے کے بعد کہاجارہا تھا کہ پاکستانی ٹیم ایونٹ سے باہرہوچکی ہے اور موجودہ ٹیم فتح حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی لیکن یونس خان اور مصبا ح الحق بھارتی بولنگ اٹیک کے سامنے چٹان بن کرکھڑے ہوگئے اور ٹیم کو فتح دلاکر ایشیا کپ میں قوم امیدوں کو پھر زندہ کردیا ہے۔پاکستان نے 309رنز کا مشکل ہدف 2وکٹوں پر 45.3اوورز میں پورا کرلیا۔گو کہ اس میچ میں پاکستانی ٹیم کو بھاری مارجن سے فتح نہیں ملی لیکن بھارت کے خلاف اس کامیابی سے نہ صرف ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے بلکہ یہ بھی واضع ہوگیا ہے کہ ٹیم کو شعیب ملک جیسے کپتان کی ضرورت نہیں ہے جو محض انفرادی کھیل پیش کرکے ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔پاکستان نے اس اہم میچ میں تین بڑی تبدیلیا ں کیں ،زخمی کپتان شعیب ملک جو میچ سے قبل فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہے ان کی جگہ لیفٹ ہینڈ اوپنر ناصر جمشید کو بطورافتتاحی بیٹسمین میدان میں اتارا گیا جہاں ناصر نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 53رنز بنائے ،تاہم انہیں زخمی ہونے کی وجہ سے ریٹائرڈ ہرڈ ہونا پڑا۔جبکہ ان کے ساتھی اوپنر سلمان بٹ اس بار نہ صرف صفر کی خفت سے بچنے میں کامیاب رہے بلکہ انہوں نے 36رنز بناکر اپنی ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان کی پہلی وکٹ 65رنز پر گری تو ون ڈاؤن کی پوزیشن پر کھیلنے کیلئے قومی ٹیم کے سٹار بیٹسمین یونس خان میدان میں اترے تو شائقین نے ان کا بھر پورا ستقبال کیا اور یونس خان نے شائقین کے جذبات کی لاج رکھتے ہوئے اور ٹیم کی ضرورت کے پیش نظر بھارتی بولرز کو تگنی کاناچ ناچنے پر مجبور کردیا۔یونس خان نے اپنے کیرئیر کی پانچویں سنچری 99گیندوں پر مکمل کرکے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔محمد یوسف کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد مصباح الحق نے یونس خان کا بھر پورساتھ دیا اور دونوں فاتح بن کر لوٹے ،مصباح اور یونس کے درمیان چوتھی وکٹ کی شراکت میں 144رنز بنے اور یہی پارٹنرشپ قومی ٹیم کی جیت کا سبب بنی۔
اس سے قبل نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے میچ میں ایک بار پھر پاکستانی ٹیم اپنے کمزور بولنگ اٹیک کے ساتھ میدان میں اتری اور بھارتی بیٹسمینوں نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے 309رنز مشکل ہدف دیا۔عمرگل کی انجری کے باعث اس بار ٹیم مینجمنٹ نے وہاب ریاض کی جگہ اکاڑہ سے تعلق رکھنے والے فاسٹ باؤلر عبدالرؤف کو میدان میں اتارا جہاں رؤف نے اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلوں میں انتہائی کم رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔موجودہ قومی ٹیم کے سب سے بہترین اور قابل بھروسہ فاسٹ باؤلر سہیل تنویر میچ میں مکمل طور پر آف کلر نظر آئے اور اپنے دس اوورز میں انہوں نے ایک وکٹ کے عوض 87رنز دئیے۔ایشیا کپ میں قومی ٹیم انتہائی کمزور بولنگ اٹیک کے ساتھ کھیل رہی ہے کیونکہ ٹیم کے اہم ستون شعیب اختر اور محمد آصف آف دی فیلڈسرگرمیوں کی وجہ سے سائیڈ لائن پر بیٹھے ہیں جبکہ عمرگل ایک بار پھر انجری کاشکار ہوچکے ہیں۔اس میچ میں قومی ٹیم کی کارکردگی دیکھ اس بات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ پاکستانی ٹیم جب کوئی ہدف اپنے ذہن میں رکھ کر میدان میں اترتی ہے تو وہ فتحیاب ہوکر میدان سے باہرآتی ہے۔یونس خان اور مصباح الحق کی مثالی اور تاریخی پارٹنر شپ نے ایشیا کپ میں پاکستان کی امیدوں کو ایک بار پھر جگادیاہے ۔پاکستان نے بھارت کو شکست دیکر پہلی مشکل باآسانی پار کرلی ہے اور اب آج کے میچ میں سری لنکن ٹیم بھارت کو شکست دیکر پاکستان کیلئے فائنل تک پہنچنے کیلئے بہترین راستہ فراہم کرسکتی ہے اگر سری لنکن ٹیم بھاری مارجن سے بھارت کو شکست دینے میں کامیاب رہی اور کل پاکستان کمزور حریف بنگلہ دیش کو بھاری مارجن سے ہرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستانی ٹیم آسانی کے ساتھ فائنل میں سری لنکا کے مدمقابل آسکتی ہے۔اب تمام تر نظریں آج کے میچ پر ہیں جہاں سری لنکن ٹیم بھارت کا مقابلہ کررہی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ سری لنکن ٹیم اس میچ میں اپنے سینئر کھلاڑیوں کو آرام کا موقع دینا چاہتی ہے اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے نقصان دہ ہوگا کیونکہ پاکستان کی فائنل تک رسائی کیلئے سری لنکابھارت کو لازمی شکست سے دوچا ر کرے اس کیلئے جے وردھنے الیون کو اپنی پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا اور بھارت کو شکست دینا ہوگی اور یہ بھی واضح ہے کہ آج کا میچ بھارتی ٹیم کیلئے کرو یا مرو کی صورت حال اختیار کرگیا ہے ،بھارتی ٹیم اس میچ میں کم بیک بھی کرسکتی ہے کیونکہ ان کیلئے یہ میچ ایک طرح کا سیمی فائنل ہے لیکن سری لنکاکی حالیہ کارکردگی کے پیش نظر بھارتی ٹیم کو آسانی سے اس میچ میں فتح نہیں ملے گی اور انہیں سخت محنت کرنا پڑے گی۔بہرحال پاکستانی ٹیم کا میابی سے کراچی کے شائقین بہت پھر پور جوش دکھائی دے رہے ہیں اور ایک بار پھر شائقین کا جذبہ عروج پر ہے۔پاکستانی ٹیم فائنل تک رسائی حاصل کرپاتی ہے یا نہیں یہ فیصلہ آج بھارت اور سری لنکاکے میچ کے اختتام پر ہوجائیگا ۔