اعجازوسیم باکھری:
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل آج دفاعی چیمپئن سری لنکا اور بھارت کی ٹیموں کے مابین کھیلا جارہا ہے۔نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جانیوالے اس میچ کیلئے ماہرین سری لنکا کوفیورٹ قرار دے رہے ہیں تاہم آخری میچ میں کامیابی کے بعدبھارتی ٹیم بھی ٹائٹل جیتنے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔دوسری جانب میزبان پاکستانی ٹیم ایک بار پھر کسی بڑے ایونٹ میں کچھ کردکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور پاکستان اپنے ہی ملک میں کھیلے جانیوالے ایونٹ کے فائنل سے باہرہوچکا ہے تاہم اپنے آخری راؤنڈ میچ میں پاکستان نے کمزور حریف بنگلہ دیش کو 10وکٹوں سے شکست دیکر ٹورنامنٹ میں اپنا اختتام کامیابی کے ساتھ کیا ہے لیکن اگر مجموعی طور پر پاکستانی ٹیم کی ایونٹ میں کارکردگی کے بارے میں جائزہ لیا جائے تو قومی ٹیم کو ایک ایک بار بھارت اور سری لنکا کے خلاف شکست کاسامنا کرناپڑا جس کی بدولت پاکستان ایونٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا جبکہ بنگلہ دیش بھارت اور ہانگ کانگ کو پاکستان نے شکست دی۔ٹورنامنٹ میں سلیکٹرز نے نئے کھلاڑیوں کو مواقع دئیے جن میں منصور امجد اور سعیداجمل سیمت عبدالرؤف شامل ہیں جبکہ فاسٹ باؤلر عمرگل انجرڈ ہوکر ٹورنامنٹ سے باہرہوگئے ۔
دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شعیب اختر ایک بار پھر شہ سرخیوں میں آگئے ہیں اور اس باران کی خبروں میں واپسی ہی نہیں بلکہ کرکٹ میں بھی واپسی کیلئے راہ ہموار ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے شعیب اختر کی سزا معطل کرتے ہوئے اور انہیں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تاہم ان پر 70 لاکھ روپے کا جرمانہ برقرار رکھا گیا ہے مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین ڈاکٹر نسیم اشرف اب تک کورٹ سے باہر شعیب اختر کے ساتھ مصالحت کے بارے انکار کررہے ہیں ۔ انہوں نے شعیب کی سزا کی معطلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے ۔ جب کیس ختم ہو گا تو اس بارے میں بات کریں گے ابھی اس بارے میں کہنا قبل ازوقت ہے ۔ ہائی کورٹ نے شعیب اختر کی سزا کے خلاف دائر رٹ کا فیصلہ آنے تک انہیں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر شعیب اختر پر پانچ سال کی پابندی لگائی تھی۔ سزا کے خلاف اپیل پر اپیلیٹ ٹریبونل نے شعیب اختر پر ڈیڑھ سال کی سزا عائد کی اور ان پر70 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالتی حکم کے مطابق رٹ پر فیصلہ آنے تک شعیب اختر ملک اور بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کرسکتے ہیں رٹ کے ساتھ ہی جرمانے پر بھی فیصلہ ہوگا شعیب نے سزا کو مکمل طور ختم کرنے کی استدعا کی ہے ۔ درخواست کی اگلی سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ عدالتیں گرمیوں کو تعطیلات کے لیے بند ہیں اور اگلی سماعت چھٹیوں کے بعد ہوگی۔ شعیب اختر کے وکیل عابد منٹو نے گذشتہ سماعت میں فیصلے کو عارضی طور پر معطل کرنے کی درخواست دی تھی۔ جمعے کو اس درخواست پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفصل رضوی نے دلائل دیے شعیب اختر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔ اس موقع پر جسٹس زاہد حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو قوم نے بہت عزت دی ہے آپ کوئی ایسا کام نہیں کریں جو نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے ۔ شعیب اختر نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ ایسا کچھ نہیں کریں گے ۔ پابندی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کو فتح دلوانے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی فٹنس بہتر بنانے کے لیے انگلینڈ میں چند کاوٴنٹی میچ کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ڈاکٹر نسیم اشرف نے ان سے بھر پور تعاون کیا جس پر وہ ان کے شکر گذار ہیں۔ شعیب نے فیصلے پر اطمینان کا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے بے چین ہوں۔ واضع رہے کہ شعیب اخترنے ٹیسٹ کرکٹ میں178اور ون ڈے میں219 کھلاڑیوں کو آوٴٹ کیا ہے ۔ انہوں نے دسمبر میں اپناآخری ٹیسٹ بھارت کے خلاف بنگلور میں کھیلا تھا۔