اعجاز وسم باکھری:
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منعقد ہونیوالا ایشیا کپ اپنے کامیاب انعقاد کے بعد اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ایونٹ میں شائقین کو دلچسپ مقابلے دیکھنے کوملے۔ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقادپرپاکستان کرکٹ بورڈ یقینی طور پر مبارکباد کا مستحق ہے کیونکہ ایک طویل عرصے بعد اور وہ بھی کراچی جیسے شہرمیں 6ملکی ٹورنامنٹ کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر کرنا یقیناًپی سی بی کی بہت بڑی وکٹری ہے کیونکہ یہ ایشیا کپ کاکامیاب انعقاد ہی ہے جس کی بدولت پاکستان میں چیمپئنزٹرافی کے انقعاد کیلئے حالات ساز گار ہوئے ہیں۔ایشیا کپ کی میزبانی لاہور اور کراچی کے سپرد تھی تاہم لاہور میں محض تین ون ڈے میچز کا انعقاد کیا گیا جبکہ فائنل سمیت 10 میچ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں منعقد ہوئے جس کی وجہ سے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک شائقین کرکٹ ایک میلے کی کیفیت میں رہے ۔ گوکہ میزبان پاکستان کا فائنل میں نہ پہنچنا شائقین کے لیے کافی مایوسی کا باعث بنا لیکن بھارت کے خلاف آخری میچ میں کامیابی سے شائقین میں خوشی دوبارہ لوٹ آئی۔ٹورنامنٹ میں سری لنکن ٹیم نے انتہائی عمدہ کھیل پیش کیا اور نوجوان و باصلاحیت بیٹسمین مہیلا جے وردھنے کی قیادت میں پرعزم کھلاڑیوں پر مشتمل سری لنکا کی ٹیم نے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا دفاع شاندار انداز میں کرکے اپنی بہترین صلاحیتوں کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا ۔ پورے ٹورنامنٹ میں سری لنکن سکواڈ کی کارکردگی تمام حریفوں کے لیے چیلنج بنی رہی۔ سینئر کھلاڑی اور دنیا کے مایہ ناز بلے باز جے سوریا نے ٹورنامنٹ میں شانداربلے بازی کا مظاہرہ کرکے ثابت کردیا کہ سری لنکن ٹیم کو اب بھی ان کی ضرورت ہے اور وہ کسی بھی وقت کسی بھی بولنگ لائن کو تہس نہس کرسکتے ہیں۔ فائنل میں انڈین بولنگ کے سامنے جے سوریا نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا وہ شائقین کرکٹ کو برسوں یاد رہے گی۔ ان کے ساتھ جونیئر کھلاڑیوں نے بھی اعزازکے دفاع کے لیے جان لڑائی اور فائنل کی آخری گیند تک بہترین کرکٹ کھیل کر خود کو اپنی پوری قوم کے سامنے سرخرو کیا۔
ایونٹ میں مجموعی طور پر 13میچز کھیلے گئے جن میں 6563رنز بنے اور 190وکٹیں گریں۔ایونٹ کا سب سے بڑا مجموعہ بھارت نے ہانگ کے خلاف سب سے زیادہ 374رنزبنا کر سجایا جبکہ بنگلہ دیش کی ٹیم پاکستان کے خلاف سب سے کم اسکور 115رنز پر آوٴٹ ہوئی۔ ٹورنامنٹ میں دو بار 300رنز کا ہدف عبور ہوا۔ ایشیا کپ میں رنز کے حساب سے سب سے بڑی فتح اس سال بھارت نے حاصل کی جب اس نے ایونٹ میں نووارد ٹیم ہانگ کانگ کو 256 رنز سے رونددیا، واضح رہے کہ ہانگ کانگ 375 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ پاکستان نے ایشیا کپ کی تاریخ میں سب سے بڑی فتح 2000 میں بنگلہ دیش کے خلاف حاصل کی جب بنگلہ دیش کی ٹیم 321 رنز کے تعاقب میں تھی مگر اسے 233رنز سے شکست ہوئی۔ اس بارایک اننگزمیں ایشیائی چیمپئن سری لنکا نے ایشیا کپ میں سب سے زیادہ اسکور 357 جبکہ پاکستان نے سب سے زیادہ اسکور 343 رنزبنائے ۔ ایشیا کپ میں بنگلہ دیشی ٹیم ایک اننگ میں سب سے کم اسکور کا ریکارڈابھی تک اپنے پاس رکھے ہوئے ہے ، جون 2000 میں ڈھاکہ میں پاکستان کے خلاف بنگلہ دیشی بیٹسمین صرف 87 رنز پر ڈھیر ہوگئے تھے ۔ اس سے پہلے 1986 میں بنگلہ دیش پاکستان کیخلاف ہی 94 رنز بناسکی تھی۔ ایشیا کپ کی ایک اننگ میں کم اسکور کے لحاظ سے سری لنکا تیسرے نمبر پر ہے ، 1984 میں بھارت کے خلاف سری لنکن بلے باز صرف 96 رنز پر ڈھیر ہوگئے تھے ۔ ایشیا کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز سری لنکن بیٹنگ کے اہم ستون سنتھ جے سوریا کے پاس ہے ، وہ اب تک 24 اننگز کھیل کر 1220 رنز بناچکے ہیں، جس میں 6 سنچریاں اور 3 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ایک میچ میں بہترین بولنگ کا ریکارڈ سری لنکا کے نوجوان بولر مینڈس کے پاس ہے جس کی شاندار اور ساحرانہ بولنگ نے سری لنکا کو اس سال ایشیا کپ جتوایا۔ مینڈس نے فائنل میں انڈین بولنگ کے خلاف 8 اوور میں 13 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں، اس سے پہلے یہ ریکارڈ پاکستان کے سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کے پاس تھا جب انہوں نے 1995 میں انڈیا کے خلاف 19رنز سے کر 5 وکٹیں لی تھیں۔ مینڈس نے اس سال ایشیا کپ کے 5 میچوں میں 17 وکٹیں لیکر بھی ایک سیریز میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا بھی ریکارڈ قائم کیا ہے ۔
ایشیا کپ میں پاکستانی بیٹسمینوں میں یونس خان سب سے کامیاب ترین بلے باز رہے ،یونس نے پانچ میچز میں ایک سنچری کے ساتھ 296رنز اسکور کیے جبکہ دوسرے نمبر پر کپتان کپتان شعیب ملک ہیں جنہوں نے چار میچز میں 212رنز بنائے۔شاہدآفریدی نے چار میچز کی تین اننگز میں محض 13رنز سکور کیے ۔بولنگ میں پاکستان کی جانب سے سہیل تنویر نے سب سے زیادہ 10جبکہ راؤافتخار نے 9کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔