اعجاز وسیم باکھری :
ٹونٹی 20ورلڈکپ کے تیسرے روز پاکستان کو میزبان انگلینڈ نے باآسانی 48رنز سے شکست دیکر دوسرے راؤنڈ تک اپنی رسائی یقینی بنالی جبکہ پاکستان اس بھاری مارجن کی شکست کے بعد شدید مشکلات کا شکار ہوگیا او رقومی ٹیم کی دوسرے راؤنڈ تک رسائی مشکل ہوگئی ہے۔اوول میں کھیلے گئے میچ میں ہالینڈ جیسی کمزور ٹیم کے ہاتھوں رسوا ہونیوالی انگلش ٹیم نے ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی عالمی رینکنگ کی نمبر ایک ٹیم پاکستان کو رسوا کرکے انگلش شائقین کے چہروں پر رونقیں لٹا دیں جبکہ پاکستانی شائقین کے چہرے ایک بار پھر لٹک گئے ۔پاکستان کی انگلینڈ کے ہاتھوں شکست پر دکھ اس لیے نہیں ہے کہ ہماری ٹیم ایک ایسی ٹیم سے ہاری ہے جو ہالینڈ جیسی کمزور ٹیم کے ہاتھوں پٹ گئی تھی ،دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہماری ٹیم نے پورے میچ میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں تھا کہ میچ پر اپنی گرفت مضبو ط کی ہو یا انگلش ٹیم کو مشکل میں ڈالا ہو۔میرا خیال تھا کہ جنوبی افریقہ اور بھارت کے ہاتھوں پر یکٹس میچز میں شکست کے بعد پاکستان نے اپنی غلطیوں کودرست کرنے کیلئے محنت کی ہوگی او ر قومی ٹیم انگلینڈ کے خلاف اہم میچ میں ایک نئے روپ میں نظر آئے گی لیکن انگلینڈ کے خلاف میچ کے آغاز سے لیکر اختتام تک یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پاکستانی کھلاڑی انگلش ٹیم اور برطانوی عوام کا دکھ بانٹنے کیلئے انہیں جیت کا تحفہ دینے کیلئے اُن کی مدد کررہے ہوں۔یونس خان نے پہلی غلطی کی کہ ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ شاید اُسے ڈر تھا کہ بھارت کی طرح انگلش ٹیم کے اوپنر ہی نہ ہدف پورا کرلیں اس لیے بہتر ہے کہ پہلے انہیں کھلایا جائے جو کہ انتہائی غلط فیصلہ ثابت ہوا ۔انگلش بیٹسمینوں نے اپنی من مانی کے ساتھ بیٹنگ کی اور انہیں ہالینڈ کے خلاف ناکام ہونے کا جو بھی دکھ اور غصہ تھا انہوں نے وہ بھر پورانداز میں نکالا ۔پہلے بولنگ کرکے پاکستان نے 185رنزکھالیے اور جب بیٹنگ کی باری شروع کی تو احمد شہزاد نے شارٹ لگانے کی کوشش کی لیکن ناکامی کی صورت میں اس نے خودساختہ کیچ دینا مناسب سمجھا اور واپس چل دئیے ،کامران اکمل نے چوکے لگانے کیلئے جستجوکی لیکن انہوں نے بھی آؤٹ ہونا مناسب سمجھا۔دوسرے اینڈ پر ٹیسٹ میچ کی طرز پر سلمان بٹ نے بیٹنگ جاری رکھی اور اُس نے چند چوکے لگائے اور پھر ایک ایسی گیند پر چوکا لگانے کی کوشش کی جس پر شاید سنگل بنانا بھی خطرناک تھا لیکن ہمارے ٹیسٹ اوپنر نے اُس پر بھی چوکا لگانے کی کوشش کی اور کیچ آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ گئے ،سلمان بٹ اگر اس بال کو چھوڑ دیتے جوکہ یقینی طورپر ایک خطرناک بال تھی تو اس میں کوئی حرج نہیں تھی حالانکہ اس سے قبل وہ کئی گیندیں ضائع کرچکے تھے اور اپنے ”ٹھنڈے “پن کی وجہ سے انگلش باؤلر کو خود پر حاوی کرچکے تھے لیکن انہوں نے وہی غلطی کی جو وہ ہمیشہ سے کرتے چلے آرہے ہیں ۔
سلمان بٹ کے بعد یونس خان نے ایک اینڈمضبوطی سے سنبھالا جبکہ شعیب ملک نے کچھ مزاحمت کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہوپائے ،اسی دوران نجانے کہاں سے شاہد آفریدی نمودار ہوئے حالانکہ اگراُس وقت مصباح الحق کو بھیجا جاتا تو شاید ہم اتنا ذلت آمیز طریقے سے شکست نہ کھاتے لیکن جیسے میں نے پہلے کہاکہ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پاکستانی ٹیم میچ جیتنے کی نہیں بلکہ برطانوی عوام کا غم دور کرنے کی کوشش میں مصروف تھی۔آفریدی نے وہی کیا جو وہ گزشتہ 10سال سے کرتا چلا آرہا ہے ،میں حیران ہوں کہ اس نے 275ون ڈے میچز کھیل لیے ہیں لیکن مجال ہے کہ اس میں عقل یا سمجھ آئی ہو،وہ ہمیشہ مشکل حالات میں اپنی ٹیم کو گڑھے میں دھکیل کر بے فکری کے عالم میں واپس لوٹ جاتا ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک اچھاباؤلر اور بہترین فیلڈر ہے اور کبھی کبھار” کھوٹے سکے“ کی ماند سکور بھی کرلیتا ہے لیکن گزشتہ 10سال میں بہت کم ایسے مواقع آئے جب پاکستان کو شاہدآفریدی کی بیٹنگ کارکردگی سے کامیابی ملی ہو۔یہاں صرف شاہد آفریدی کی غیر ذمہ دار ی کا رونا رویا جائے تو درست نہیں ہوگا ،پوری پاکستانی ٹیم گزشتہ دو سیریز میں اسی غیر ذمہ داری کا ثبوت پیش کرتی چلی آرہی ہے۔ہم نے آسٹریلیا کے خلاف ایک جیتی ہوئی سیریز گنوائی کیا اُس سے سیریز سے پاکستان نے کچھ سیکھا ؟حالانکہ پوری سیریز میں یونس خان نے اس بات کی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ ہم آسٹریلیا سے سیکھ رہے ہیں ،اب اُن سے سوال کیا جائے کہ خان صاحب کیاآسٹریلیا کے خلاف آپ نے یہی کچھ سیکھا تھا کہ آپ کیلئے ورلڈکپ کے دوسرے راؤنڈ تک رسائی مشکل ہوجائے؟بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف پریکٹس میچز کے بعد آپ نے کہاکہ ہمیں ورلڈکپ سے قبل بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ،جناب وہ سب جو پہلے میچز سے سیکھا کہاں گیا ہے ،آپ تو مسلسل لاپرواہی سے شکستوں پہ شکستیں کھاتے چلے جارہے ہیں ؟۔
پوائنٹس ٹیبل کی صورت حال یہ ہے کہ انگلش ٹیم اپنے دونوں میچز میں ایک میں شکست اور ایک میں کامیابی کے بعد 347رنز بنانے کی وجہ سے سپر ایٹ میں جگہ پکی کرچکی ہے ،ہالینڈ کی ٹیم نے اپنے پہلے میچ میں 163رنز بنائے وہ اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان 137رنز بنانے کے”انعام“میں تیسرے نمبر پر ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ اگر میچ ہار رہے تھے تو کم از کم ہالینڈ جتنا سکور تو کرلیتے تاکہ دوسرے راؤنڈ تک رسائی کا چانس بن جاتا ،اب منگل کے روز ہالینڈ کے خلاف میچ میں کم از کم 200سکور کرنے کی صورت میں ہی دوسرے راؤنڈ تک رسائی مل سکتی ہے جوکہ بہت مشکل لگ رہی ہے۔ویسے بھی اگر قومی ٹیم ورلڈکپ کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہوگئی کہ یونس خان کو میرے مشورے پر عمل کرنا چاہئے اور ہرسوال کرنے والے کو یہ جواب دینا چاہئے کہ”2003 ء اور 2007ء کے ورلڈکپ میں بھی پاکستان پہلے راؤنڈ سے باہر ہوا تھا ،اگر آج ہم پہلے راؤنڈ سے باہر ہوئے تو کونسا اتنا بڑا طوفان آگیا ہے ،یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہم روایات کے پابند لوگ ہیں ۔
کل کے میچ پر ہمیں انگلش ٹیم کو داد دینا ہوگی کہ انہوں نے انتہائی پروفیشنل انداز میں کرکٹ کھیلی اورہالینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد نوجوان انگلش کھلاڑیوں کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اپنی 200سالہ کرکٹ کی تاریخ کی بدترین شکست کے بعد پاکستان سے نبردآزما ہیں،انہوں نے مکمل ہوشیاری اور ذمہ داری سے کرکٹ کھیلی اور خود کو دوسرے راؤنڈ تک پہنچا دیا ،یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو بھی بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی لیکن پاکستان نے کیوں کم بیک نہیں کیا ،آخر کیا وجہ تھی کہ انگلینڈ کم بیک کرنے میں کامیاب ہوگیا مگر ہم کم بیک کرنے کی بجائے ایک اور میچ ہار گئے ؟شاید ہماری ٹیم کے کھلاڑیوں اور مینجمنٹ کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ وہ ایک ملک کی نمائندگی کررہے ہیں اوردوسری جانب پوری دنیا میں پاکستانی لوگ اپنی ٹیم کی شکست کی وجہ سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں ۔ہمارے بے حس کھلاڑیوں کو چاہئے تھا کہ بھارت جیسے بدترین دشمن کے ہاتھوں شکست کے بعد قوم کو جیت کا تحفہ دیتے لیکن افسوس ہے کہ وہ ایک غم کو کم کرنے کی بجائے ایک اور غم دے گئے ۔
اس وقت لاہور میں رات کے 2 بج رہے ہیں اور میچ کو ختم ہوئے 30منٹ ہونیوالے ہیں ،مجھے ابھی ابھی لندن آکسفورڈ سے عدنان ارشدصاحب نے ای میل کی ،وہ لکھتے ہیں کہ میچ ابھی جاری ہے اور میں نے ٹی وی بند کرلیا اور شکر ہے کہ میں نے ان نااہل کھلاڑیوں پر 60پاؤنڈ خرچ نہیں کیے،ہارنے کا بھی طریقہ ہوتا ہے کم از کم ہمارے بیٹسمین غیرت کا مظاہر ہ تو کرتے ۔عدنان صاحب آپ کا دکھ اپنی جگہ لیکن کویت سے احمد اشفاق صاحب کا دکھ آپ کے دکھ سے بھی بڑا ہے ۔میچ کے فوراً بعد میل کرکے احمد اشفاق لکھتے ہیں کہ ”اعجازبھائی قسم پیدا کرنے والے کی ”انگلینڈ کے ہاتھو ں ہار کا دکھ نہیں ہے ،دکھ تو اس بات کا ہے کہ کل صبح دفتر میں ہندوستانیوں کا کیسا سامنا کرونگا،وہ کیا کیا تانے ماریں گے اور کیا کیا بکواس کرینگے یا تو میں جانتا ہوں یا پھر وہ دوست جن کو ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں ۔اگر ہم نے یوں ہی ذلیل ہونا ہے تو پاکستان کو کرکٹ ٹیم ہی بند کردینی چاہئے تاکہ روز روز کی ذلت سے بچ جائیں ۔
یہ تو صرف دو لوگ ہیں جنہوں نے اپنا دکھ میرے ساتھ شیئر کیا نجانے ہزاروں ایسے ہونگے جنہوں نے اپنی ٹیم کی خاطر وقت بھی ضائع کیا ہوگا اور پیسے بھی خرچ کیے ہونگے لیکن بجائے خوشی ملنے کے انہیں رسوائی اور شرمندگی اٹھانا پڑی ہوگی ۔کاش ہماری ٹیم کے کھلاڑی اپنی قوم کے جذبات کو سمجھتے اور ہوش مندی سے کھیلتے ۔کرکٹ ہم پاکستانیوں کے خون میں شامل ہے اوریہ واحد کھیل ہے جس سے ہماری جذباتی وابستگی ہے اور سب سے زیادہ یہی کھیل پاکستان کو جگ ہنسائی کا سبب بنارہا ہے اور لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہا ہے ۔ہم پاکستانی بھی نجانے کس مٹی سے بنے ہیں ا ب ہالینڈ کے خلاف میچ ہوگا ہم اس کو بھی اہتمام سے دیکھیں گے اور ہماری خواہش ہے کہ ٹیم کسی بھی طرح دوسرے راؤنڈ میں پہنچ جائے لیکن ایسا اُس وقت ممکن ہے جب ہمارے کھلاڑی اپنی ذمہ داری اور قوم کے جذبات کا احساس کرینگے ۔