اعجاز وسیم باکھری :
آئی سی سی ٹونٹی ٹوٹنی ورلڈکپ کا آج پہلا سیمی فائنل کھیلا جارہا ہے جس میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں ۔ٹرینٹ برج نوٹنگھم میں کھیلے جانیوالے پہلے سیمی فائنل کیلئے ماہرین جنوبی افریقہ کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں اور گریم سمتھ الیون کی جیت کی پیشگوئیاں کی جارہی ہیں تاہم قومی کپتان یونس خان نے قوم سے دعا اور سپور ٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ کھلاڑی انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف ہونیوالی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے اور ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور دلیری کے ساتھ کھیل پیش کرکے فائنل تک رسائی حاصل کرینگے۔خدا کرے…یونس خان کا کہا سچ ثابت ہو اورپاکستان جنوبی افریقہ جیسی مضبوط اعصاب کی مالک ٹیم کے خلاف ڈٹ کر بہادری سے مقابلہ کرے اور کامیابی حاصل کرکے فائنل میں جگہ بنائے ۔ آمین! بظاہر اگر پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کی قوت کا اندازہ لگایا جائے تو افریقی ٹیم ابھی تک پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست ٹیم کے طور پر چلی آرہی ہے جبکہ پاکستان کو انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم سپرایٹ کے گزشتہ دو میچز میں نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم نے قدرے اعتماد اور ذمہ داری سے کھیل پیش کیا اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ۔یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کیلئے جن تین ٹیموں کو شکست دی وہ کمزور ٹیمیں تھیں جن میں ہالینڈ،نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ جبکہ جن دو مضبوط ٹیموں انگلینڈ اور سری لنکا کے ساتھ مقابلہ ہوا وہاں قومی ٹیم یکسر ناکام ثابت ہوئی ۔اسی تلخ تجربے کے پیش نظر جنوبی افریقہ کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم انتہائی کمزور لگ رہی ہے لیکن عبدالرزاق کے ٹیم میں آنے سے اور” میں یہاں خصوصی طور پر ذکر کروں گا “کہ سابق چیف سلیکٹرعبدالقادر کی یونس خان اور شعیب ملک سمیت انتخاب عالم کے خلاف پریس کانفرنس کرنے سے ٹیم میں جان آئی ہے اور کھلاڑیوں نے ذمہ داری سے کھیلنا شروع کردیا ہے۔ورنہ جس طرح ہم انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف بغیر مزاحمت کیے ہار ے تھے ہمارا سیمی فائنل تک پہنچنا غیر یقینی تھا ،اگر آج ہم سیمی فائنل کھیل رہے ہیں تو یہ صرف اور صرف عبدالرزاق کی ٹیم میں واپسی اور عبدالقادر کی پریس کانفرنس کا نتیجہ ہے ورنہ ہمارے کپتان سے لیکر کوچ تک کسی کو نہ تو ٹیم کی فکر تھی اور نہ ہی ملک کی ۔
ہمارے قارئین کی ایک بڑی تعداد کا خیا ل ہے کہ میڈیا بلا وجہ قومی ٹیم پر تنقید کرتا ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری ٹیم تو اتنی اچھی ہے کہ سیمی فائنل میں پہنچ گئی ، جبکہ بھارت ،انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں باہر نکل گئی ہیں۔قارئین کرام :شروع دن سے ہم ایک ہی بات کہتے چلے آئے ہیں کہ یہ ٹیم فائنل جیت سکتی ہے لیکن اگر خلوص نیت اور جذبے سے کھیلے تب ۔آسٹریلیا کے خلاف یواے ای کی سیریز میں یونس خان نے کہاتھا کہ ہم یہاں آسٹریلیا سے سیکھ رہے ہیں حالانکہ آسٹریلوی ٹیم 200رنز کا ہدف بھی پورا نہیں کرپارہی تھی لیکن ہمارے کپتان اُن سے سیکھ رہے تھے ۔اگر ہم آسٹریلیا کے خلاف جذبے سے کھیلتے تو ہم وہ سیریز 5-0سے جیت سکتے تھے کیونکہ آسٹریلوی ٹیم اب مکمل طور پر زوال کا شکار ہوچکی ہے جس کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ آئرلینڈ کی ٹیم ورلڈکپ کے دوسرے راؤنڈ تک پہنچ گئی جبکہ آسٹریلیااس کیلئے کوالیفائی نہیں کرسکا۔ہمیں آج بھی دکھ ہے کہ پاکستان نے آسٹریلیا پر برتری حاصل کرنے کا ایک نادر موقع گنوایا ۔پھر ورلڈکپ شروع ہوا تو انگلینڈ سے شکست کھانے کے بعد ہمارے کپتان نے کہاکہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ”ڈبلیو ڈبلیو ای “کی طرح ایک انٹرٹینمنٹ ہے اور کہاکہ اگر ہم دوسرے راؤنڈ تک کوالیفائی نہ کرسکے تو اس کا بات کا دکھ نہیں ہوگا۔جب ٹیم کا کپتان ایسی بات کریگا تو آپ اُس ٹیم سے کیا توقعات وابستہ کرسکتے ہیں؟ یونس خان کے اس بیان پر انگلش اور بھارتی میڈیا نے پاکستانی ٹیم کا خوب مذاق اڑایا ،جب آپ ایسی حرکات کرتے ہیں تو پاکستانی میڈیا کیوں نہ آپ پر تنقید کرے کیونکہ پاکستانی میڈیا قوم کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے اورپاکستانی لوگ اپنی کرکٹ ٹیم سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتے ہیں۔شاید میرے سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہوکہ پاکستان کی ہار یا جیت پر پاکستان میں اور پاکستان سے باہرلوگوں کے کیاجذبات ہوتے ہیں، مگر جب میں ٹیم کی پرفارمنس اور کپتان کی لاپراہی دیکھتا ہوں تو ہزاروں پاکستانیوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے کپتان اور ٹیم کو اُن کی ذمہ داری کا احساس دلانا پڑتا ہے۔لہذا ہم اگر میڈیا والے ٹیم پر تنقید کرتے ہیں تو ہماری تنقید کا مقصد صرف اور صرف ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں کو اُن کی ذمہ داری اورقوم کی توقعات اور جذبات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے اور ویسے بھی ہم پاکستانیوں کو اگر کھلی چھوٹ ملے تو ہم اپنی ذمہ دار ی میں کوتاہی برتنے میں بڑے مشہور ہیں اور اگر کوئی احساس دلائے تو پھر شرمندگی سے ڈٹ کراپنافرض نبھاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی میڈیا ،ماہرین اور سابق کرکٹرز کی تنقید ہی ایک راستہ ہوتا ہے جس کے ذریعے ٹیم میں جان ڈالی جاتی ہے اور کھلاڑیوں کو بتایا جاتا ہے کہ لوگ کتنا آپ سے محبت کرتے ہیں اور یہ غلط رائے ہے کہ میڈیا کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرتاہے ۔
بہرحال:مجھے یقین ہے کہ آج کا پہلا سیمی فائنل ایک دلچسپ مقابلہ ہوگا اور ممکن ہے پاکستان جنوبی افریقہ کو اپ سیٹ کردے لیکن بطور تجزیہ نگار میری نظر میں جنوبی افریقہ فیورٹ ٹیم ہے اور وہ مکمل طور پر پروفیشنل انداز میں کرکٹ کھیل رہے ہیں ،اُن کے پاس طویل بیٹنگ لائن اپ ہے اور بولنگ میں ان کے پاس وسیع تجربے کے مالک ان فارم باؤلر ز ہیں اور جنوبی افریقہ کی فیلڈنگ بھی ہمیشہ مثالی رہی ہے ،بڑے میچز میں جیت کیلئے بہترین فیلڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے جوجنوبی افریقہ کے پاس موجود ہے جبکہ پاکستان کے پاس بھی سرکل میں کھڑے ہونیوالے عمدہ فیلڈرز ہیں لیکن بعض اوقات بلاوجہ کا پریشراپنے اوپر لیکر کیچز گرادیتے ہیں جس سے ٹیم کو نقصان اٹھاناپڑتا ہے ۔سیمی فائنل میں پاکستان کو جنوبی افریقہ پر صرف بولنگ کے شعبے میں برتری حاصل ہے ،سعید اجمل ،عمرگل اورشاہد آفریدی اس وقت ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرز کی فہرست میں نمایاں ہیں اور آج کے میچ میں اگر فیلڈرز نے ان باؤلرز کا ساتھ دیا تو یہ تینوں افریقی بیٹسمینوں کو نکیل ڈال سکتے ہیں۔بیٹنگ کے شعبے میں اس وقت تمام بلے باز ذمہ داری سے کھیل رہے ہیں مسوائے شعیب ملک کے ۔جب سے رزاق ٹیم میں واپس آیا ہے بجائے کہ شعیب ملک اپنی جگہ برقرار رکھنے کیلئے آفریدی کی طرح بیٹنگ بولنگ اورفیلڈنگ میں کچھ اچھی کارکردگی دکھاتا ،اُس نے مزید سست روی اختیار کرلی ہے جس کو یقینا ٹیم مینجمنٹ نے بھی نوٹ کیا ہوگا جبکہ عبدالرزاق سے بھی بہت سی امید یں وابستہ ہیں کہ وہ بڑے کھلاڑی کے طور پر بڑے میچ میں عمدہ پرفارمنس دیں گے۔گوکہ جنوبی افریقہ ایک مضبوط ٹیم ہے اور وہ فیورٹ قرار دئیے جارہے ہیں لیکن اگر پاکستانی ٹیم ایک یونٹ کی طرح متحدہوکر کھیلی اور ہرکھلاڑی نے اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائی تو پاکستان افریقہ کو ہرا بھی سکتاہے کیونکہ ٹونٹی ٹونٹی گیم جذبے اور دلیری کی گیم ہے اور جو ٹیم دلیری سے کھیلتی ہے وہی فتحیا ب ہوتی ہے۔ ویسے بھی پاکستانی ٹیم پر پچھلا ورلڈکپ ہارنے کا قرض برقرار ہے جو اس بارٹیم کو چاہیے کہ وہ عالمی کپ جیت کر نہ صرف اپنا قرض اتارے بلکہ پریشانیوں ،دہشت گردی ،بحرانوں اور مایوسی میں گھیری اپنی قوم کوورلڈکپ کی صورت میں خوشی کے چند لمحات فراہم کرے۔