اعجازوسیم باکھری :
”گوکہ جنوبی افریقہ ایک مضبوط ٹیم ہے اور وہ فیورٹ قرار دی جارہی ہے لیکن اگر پاکستانی ٹیم ایک یونٹ کی طرح متحدہوکر کھیلی اور ہرکھلاڑی نے اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائی تو پاکستان افریقہ کو ہرا بھی سکتاہے کیونکہ ٹونٹی ٹونٹی گیم جذبے اور دلیری کی گیم ہے اور جو ٹیم دلیری سے کھیلتی ہے وہی فتحیا ب ہوتی ہے“
یہ الفاظ میں نے گزشتہ روز اپنے آرٹیکل کے آخر میں لکھے تھے اور مجھے خوشی ہے کہ پاکستانی ٹیم نے ایمانداری اور دلیری سے کرکٹ کھیل کر سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دی اورفائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔نوٹنگھم انگلینڈ میں کھیلے گئے ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم نے 7رنز سے کامیابی حاصل کرکے قوم کے جذبات اور توقعات کی لاج رکھی اور فیورٹ ٹیم جنوبی افریقہ کو بے بس کردیا۔پورے ٹورنامنٹ میں یہ پہلا میچ تھا جس میں پاکستانی ٹیم نے اوّل تو بہت کم غلطیاں کیں اور جوغلطیاں سرزدبھی ہوئیں، انہیں اُسی وقت درست کرکے بہترین کرکٹ کھیلی گئی اورقومی ٹیم نے ورلڈکپ کی ناقابل شکست ٹیم کو شکست دیکردنیائے کرکٹ کو انگشت بدنداں کردیا۔پاکستان نے جب نوٹنگھم میں جنوبی افریقہ کوشکست دی تو اُس وقت یہاں پاکستان میں رات کے 1-30بج رہے تھے اور اُسی وقت قومی ٹیم کی جیت کی خوشی میں پورے ملک لوگ سڑکوں پر آگئے اور میٹھائیاں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا اور فتح کا بھر پورانداز میں جشن منایا گیاجو صبح تک جاری رہا ۔ وہی شائقین اپنی ٹیم کی جیت پر سجدہ ریزنظر آئے جو شکست پر خفا نظر آتے ہیں کیونکہ ہم پاکستانیوں کے خون میں کرکٹ شامل ہے اور جب ٹیم برا کھیلتی ہے تو لوگ شدید غصے کا اظہار کرتے ہیں اور جب ٹیم بڑے میچ میں فتح حاصل کرتی ہے تو پھر لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ رات کا ڈیڑھ بج رہا ہے یا دو بج رہے ہیں ،جیت کے جشن میں لوگ اُسی وقت اپنے گھروں سے باہر نکل آتے ہیں اور خود ہی ڈھول بجاتے ہیں اور خود ہی بھنگڑے ڈالتے ہیں جس کامظاہرہ گزشتہ رات ملک بھر میں دیکھا گیا اور ویسے بھی لوگوں کی دلچسپی اور خوشی کی بڑی وجہ پاکستان کی غیر متوقع جیت تھی کیونکہ ہرایک شخص کا خیال تھا کہ قوت میں افریقی ٹیم مضبوط ہے اور پاکستان کی شکست کے زیادہ چانس تھے لیکن قومی کرکٹرز نے دلیری اور حوصلے سے افریقی ٹیم کا مقابلہ کرکے تاریخی فتح حاصل کی۔
سیمی فائنل کے اہم معرکے میں پاکستان کی جیت میں سٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے پہلے بیٹنگ میں 51رنز بنائے اوربعد میں بولنگ میں جنوبی افریقہ کے دو اہم بلے بازوں ہرشل گبزاور ڈی ویلیئرز کو بولڈکرکے اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔اس سے قبل شاہدآفریدی نے آئرلینڈ کے خلاف بھی عمدہ بولنگ کرکے چاروکٹیں حاصل کی تھیں۔سیمی فائنل میں شاہدآفریدی بالکل ایک نئے روپ میں نظرآئے اور جب انہیں شازیب حسن کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد ون ڈاؤن پوزیشن پر بھیجا گیا تو اس فیصلے پر سب کو حیرانی ہوئی لیکن قسمت نے شاہد آفریدی کا پورا پورا ساتھ دیا اور اُس نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور 51رنز کی قیمتی اننگز کھیل کر پاکستان کو 150رنزکا ٹارگٹ تشکیل دینے میں مدد دی ،آفریدی کے آؤٹ ہونے کے بعد دیگر کوئی بھی بیٹسمین بڑی شارٹس کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکا اورافریقی باؤلرز نے ایسی نپی تلی بولنگ کی کہ آخری پانچ اوورز میں پاکستان کوئی بھی چوکا یا چھکا نہ لگاسکا ،لیکن شاہد آفریدی کو داد دینا ہوگی کہ اُس نے اپنی اننگز میں 8چوکے لگائے اور پہلی بار ایسا موقع ہے کہ شاہد آفریدی کی فیفٹی میں کوئی چھکا شامل نہیں ہے ۔
پاکستان کی جانب سے دئیے جانیوالے بظاہرآسان نظر آنیوالے 150رنز کے ہدف کے جواب میں جنوبی افریقی ٹیم پانچ وکٹوں پر20 اوورز میں صرف 142رنزبناسکی۔جیک کیلس نے انتہائی ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور64 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جبکہ جے پی ڈومنی نے44 رنز بنائے لیکن یہ دونوں بیٹسمین اپنی ٹیم کو کامیابی دلانے میں ناکام رہے،پاکستان کی جانب سے عمرگل نے آخری اوورز میں ٹارگٹ پر بولنگ کرتے ہوئے حریف بیٹسمینوں کو رنز بنانے سے روکے رکھا ۔ آخری اوور میں جنوبی افریقہ کو جیت کیلئے23رنزکی ضرورت تھی تاہم نوجوان باؤلر محمد عامر نے ڈومنی جیسے سٹروک میکر بیٹسمین کو 6گیندوں پر صرف 15رنز بنانے کا موقع دیا ،یوں پاکستان لگاتاردوسری بار ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ،اس پہلے دوسال قبل پاکستان نے پہلے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا جہاں قومی ٹیم فائنل میں بھارت کے خلاف پانچ رنز سے ہار گئی تھی۔اس بار قومی ٹیم نے کئی اتار چڑھاؤ کے بعد سیمی فائنل میں جگہ حاصل کی اور سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست دیکر فائنل میں جگہ حاصل کرلی ہے اور اب اتوار والے دن لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں قومی ٹیم آج کھیلے جانیوالے سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرے سیمی فائنل کی فاتح ٹیم کے ساتھ مدمقابل آئے گی۔اتوار کو وہی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ ہوگا جہاں پاکستان 1999ء کے ورلڈکپ کے فائنل میں وسیم اکرم کی کپتانی میں آسٹریلیا سے ہار ا تھا ،اس بار یونس خان ٹیم کی قیادت کررہے ہیں اور سیمی فائنل میں ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر فائنل میں پاکستان کی جیت کے امکانات روشن نظر آرہے ہیں ۔
گزشتہ روز کھیلے جانیوالے سیمی فائنل میں ہرایک شخص جنوبی افریقہ کو فیورٹ قرار دے رہا تھا لیکن شاید جنوبی افریقہ کی قسمت میں سیمی فائنل ہارنا ہی لکھا ہے۔ پاکستان کے خلاف ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست کے بعد جنوبی افریقہ نے سیمی فائنل میں ہارنے کی اپنی روایت ایک بار پھر برقرار رکھی ۔اس سے قبل افریقی ٹیم 92ء 99ء اور2007ء کے ورلڈکپ کا سیمی فائنل ہار چکی ہے جبکہ 2000ء 2002ء اور 2006ء کی چیمپئنزٹرافی میں بھی جنوبی افریقی ٹیم سیمی فائنل میں آکر ہمت ہار گئی ۔اس بار ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں ماہرین ایک بارپھر جنوبی افریقہ کوفیورٹ قرار دے رہے تھے لیکن قسمت نے اُن کا ساتھ نہیں تھا اور وہ ایک بارپھر سیمی فائنل میں آکر شکست کھا گئے ۔بیشک پاکستانی ٹیم نے عمدہ کھیل پیش کیا لیکن شاید جنوبی افریقی کھلاڑی بڑے میچ کا پریشر برداشت کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں اور ہرباروہ سیمی فائنل میں جاکر ناکام ہوجاتے ہیں،اس بار انہیں یہ ناکامی پاکستان کے خلاف سہنی پڑی ۔بہرحال:سیمی فائنل میں انتہائی سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے پر قومی ٹیم کو اردوپوائنٹ کی پوری ٹیم اور قارئین اردوپوائنٹ کی جانب سے ڈھیروں مبارکباد ہو۔میں اپنی طرف سے اپنے قارئین کو بھی پاکستان کی جیت پر مبارکباد دیتا ہوں اور ہماری دعاہے کہ پاکستان فائنل میں بھی اسی طرح بے مثال کھیل پیش کرے ۔ایک با ت میں یہاں کہنا چاہوں گا کہ جب ٹیمیں بڑے میچز میں فتوحات حاصل کرتی ہیں تو وہ اپنی غلطیوں کو فراموش کردیتی ہیں ،میرے خیال میں سیمی فائنل جیسے بڑے میچ میں پاکستان نے شازیب حسن کو کھیلا کر غلطی کی کیونکہ وہ بڑے میچ کا پریشر برادشت نہیں کرسکتا ،سیمی فائنل سے قبل بھارت کے خلاف اوول میں پریکٹس میچ میں بھی وہ صفر پر آؤٹ ہوا تھا لہذا ٹیم مینجمنٹ کو چاہئے کہ فائنل میں شا زیب کی جگہ احمد شہزاد یا پھر ناچاہتے ہوئے بھی سلمان بٹ کو موقع دے ورنہ شازیب کی وکٹ جلدی گرنے کی صورت میں ٹیم نقصان اٹھاسکتی ہے۔
سیمی فائنل میں قومی ٹیم کی کارکردگی کی جتنا تعریف کی جائے وہ کم ہے کیونکہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے اس میں تعریف اُس وقت کی جاتی ہے جب کھلاڑی گراؤنڈ میں اچھا پرفارم کرتے ہیں ۔یہ کوئی دستور نہیں ہے کہ ٹیم برا بھی کھیلے اور تنقید بھی نہ کی جائے ۔کرکٹ میں وہی اچھا کہلواتا ہے جو اچھی کارکردگی پیش کرے ۔کل شاہد آفریدی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا آج ہم سب اُس کی تعریف کررہے ہیں کیونکہ وہ تعریف کا حقد ار بھی ہے کیونکہ اُس نے پاکستان کو تاریخی کامیابی دلائی دی ہے، نہ صرف شاہد آفریدی تعریف کا مستحق ہے بلکہ پوری ٹیم تعریف کی مستحق ہے کیونکہ آخری دم تک قومی کھلاڑیو ں نے افریقہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔پاکستان کی سیمی فائنل میں کامیابی پر جہاں ملک بھر میں جشن جاری ہے وہیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے چہرے بھی کھل اٹھے ہیں اور آج طویل عرصے بعد ایک ایسا دن آیا ہے کہ اوور سیز پاکستاینوں کو سراٹھا کر چلنے کا موقع ملا ہے،کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے واقعات اورساتھ ساتھ کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی نے اوور سیز پاکستانیوں کو کافی تکلیف پہنچائی اور انہیں شرمسار ہونا پڑتا تھا لیکن آج کئی سال بعد ایک ایسا دن آیا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کے چہروں پر نہ صرف رونق لوٹ آئی ہے بلکہ انہیں ہمیشہ تکلیف پہنچانے والے”ہندوستانی“ بھی مبارکباد پیش کررہے ہیں جوکہ ہم سب کیلئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔
ہماری دعا ہے کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل کی طرح فائنل میں بھی عمدہ کارکردگی پیش کرے اور17سال بعد قوم کو ورلڈکپ کی صورت میں جیت کا تحفہ دے۔آمین!