UrduPoint Sports

كھیل >> شعیب اختر

اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ کی یہ بدقسمتی ہے کہ جب بھی کوئی بڑا ایونٹ سرپر آتا ہے تو مشکلات میں اضافہ اور پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں ۔گزشتہ کئی سال سے یہ مشکلات شعیب اختر کیلئے ہوتی ہیں اور پریشانی پاکستان کرکٹ ٹیم کو اٹھانا پڑتی ہے ۔اس بار ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کیلئے تیاریاں عروج پر ہیں اور دنیا کی تمام ٹیمیں بھر پورتیاری کے ساتھ ایونٹ میں شرکت کیلئے پرعز م ہیں لیکن پاکستانی ٹیم کو ایونٹ کے آغاز سے قبل ہی فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی خدمات سے محروم ہونا پڑا ہے ۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب شعیب اختر کوئی ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل ان فٹ قرار دئیے گئے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ یا تو وہ ان فٹ پائے گئے یا پھر غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ میگاایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے سے محروم رہے۔اس بار توقع کی جاری تھی کہ محمد آصف کی غیر موجودگی میں شعیب اختر پاکستانی ٹیم کیلئے سود مند ثابت ہوگا کیونکہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں باؤلر کیلئے ایک میچ میں صرف چار اوور کرانے ہوتے ہیں تو شعیب اختر میں یہ خوبی اب بھی برقرار ہے کہ وہ کسی بھی میچ میں چار اوور مکمل ردھم کے ساتھ پھینک سکتا ہے اس لیے ان سے بہت سے توقعات وابستہ کی جارہی تھیں لیکن گزشتہ روز پی سی بی کے میڈیکل بورڈ نے فاسٹ باؤلر کو جلدی بیماری کا شکار ہونے کے باعث ورلڈکپ میں شرکت سے روک دیا جس سے نہ صرف شعیب اختر کے ارمان خاک میں مل گئے بلکہ قومی ٹیم کو بھی اس فیصلے سے شدید نقصان ہوا ہے ۔
چلیں شعیب اختر پاکستانی ٹیم میں نہ سہی لیکن قومی ٹیم میں دیگر کھلاڑی تو موجود ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،ویسے بھی شعیب اختر نے پہلے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کی تھی وہاں وہ محمد آصف کو بلا مارنے کے جرم میں نااہل قرار دئیے گئے تھے اور اگلی فلائٹ سے جنوبی افریقہ سے پاکستان لوٹ آئے تھے اس لیے ان کی دوسرے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں قومی ٹیم کیلئے شرکت کوئی زیادہ مفید ثابت ہونے کے امکانات کم تھے لیکن آصف کی غیر موجودگی میں شعیب اختر کا ٹیم کے ساتھ ہونا کافی سودمند ثابت ہوسکتا تھا لیکن اب تمام تر ذمہ داری عمرگل اور شاہد آفریدی کے کاندھوں پر آن پڑی ہے جن کی بہترین بولنگ کی بدولت پاکستا ن نے گزشتہ ورلڈکپ کا فائنل کھیلا ۔
پہلے ورلڈکپ میں پاکستان نے عمدہ کھیل پیش کیا تاہم فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست کھانا پڑی اس کے باوجود شائقین آج بھی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔پہلے ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے بعد آئی سی سی نے دو سال کے وقفے کے بعد دوسرا ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کرانے کا اعلان کیا اور اس سلسلے کو مستقل جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا جاچکا ہے۔دوسرا ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ 5جون سے برطانوی سرزمین پر کھیلا جارہا ہے جس میں دنیا بھر کی 12ٹیمیں شرکت کررہی ہیں جنہیں چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔گروپ اے میں بھارت ، بنگلہ دیش اور آئرلینڈ ،گروپ بی میں پاکستان ،انگلینڈ اور ہالینڈ،گروپ سی میں آسٹریلیا ،سری لنکا اور ویسٹ انڈیز ،جبکہ گروپ ڈی میں نیوزی لینڈ ،ساؤتھ افریقہ اور سکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ میں میزبان انگلینڈ اور ہالینڈ کے مابین کھیلا جائیگا جبکہ پاکستانی ٹیم اپنی مہم جوئی کا آغاز 7جون کو انگلینڈ کے خلاف کریگی ۔ٹورنامنٹ کا فائنل 21جون کو کھیلا جائیگا۔اس بار ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں شریک پاکستانی ٹیم کی قیادت یونس خان کررہے ہیں جبکہ فاسٹ باؤلر شعیب اختر بھی پہلی بار ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی نمائندگی کرینگے۔گزشتہ ایونٹ میں پاکستان کی فائنل تک رسائی میں اہم کردار ادا کرنے والے فاسٹ باؤلر محمد آصف اس بار پابندی کی وجہ سے قومی ٹیم کا حصہ نہیں ہونگے۔ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم فیورٹ کی حیثیت سے شرکت کریگی کیونکہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی پاور رینکنگ میں پاکستان 230پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ آسٹریلوی ٹیم 226پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شائقین کے وقت کا ضائع نہیں ہوتا ۔دونوں ٹیموں کی اننگز 20،20 اوورز پر مشتمل ہوتی ہے۔پہلی اننگز مکمل ہونے کے بعد محض 20منٹ کے وقفے کے بعد دوسری اننگز شروع ہوجاتی ہے۔یوں پورے میچ کا وقت کم از کم 3گھنٹے ہوتا ہے ۔وقت بچانے کی خاطر وکٹ گرنے کے بعد نئے بیٹسمین کو محض 1منٹ 30سیکنڈ میں کریز تک پہنچنا ہوتاہے۔اسی وجہ سے بیٹنگ کرنے والی ٹیم باؤنڈری لائن پر ہی بنے منی ڈریسنگ روم (ڈگ آؤٹ)میں موجود ہوتی ہے۔ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں ابتدائی 6اوورز تک فیلڈرز کو دائرے میں رہنا ہوتا ہے اور 14اوورز تک بھی محض پانچ فیلڈر کو سرکل سے باہر کھڑا ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔بولنگ کے شعبے میں ایک بولر محض 4اوورز کرانے کا پابند ہوتا ہے۔اس کے علاوہ نوبال پر بیٹسمین کو فری ہٹ دی جاتی ہے جس پراس سے اگلی گیند پر بیٹسمین مسوائے رن آؤٹ ہونے کے دوسرے کسی بھی طریقے سے آؤٹ نہیں ہوسکتا اس لیے عموماً فری ہٹ پر بیٹسمین چھکا لگا نے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ٹوٹنی ٹوٹنی کرکٹ کا سب سے بڑا اور دلچسپ جو قانون ”بال آؤٹ“کا تھا جس اب ختم کرکے ”سپر اوور “کا قانون متعارف کرایا گیا ہے جس میں میچ ٹائی ہونے کے بعد دونوں ٹیموں کو بیٹنگ کیلئے ایک ایک اوور دیا جاتا ہے ۔پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم اپنے تین بیٹسمنیوں کا نام درج کراتی ہے اور اگر 6گیندوں کے دوران دو وکٹ گرجاتی ہیں تو بیٹنگ سائیڈ کی اننگز مکمل ہوجاتی ہے ،بولنگ کرانے کیلئے دوسری ٹیم کو اپنے ایک ہی باؤلر کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو سپر اوور میں کم سے کم رنز دینے کی کوشش کرتا ہے جواب میں حریف ٹیم مطلوبہ ہدف پورا کرنے کیلئے میدان میں اترتی ہے ۔اس سے قبل سپر اوور قانون کی جگہ ”بال آؤٹ “قانون تھا جسے مشاورت کے ساتھ ختم کردیا گیا ہے۔سپر اوور قانون کا پہلی بار مظاہر ہ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے مابین میچ میں دیکھا گیا جہاں میچ ٹائی ہونے کے بعد سپر اوور کے قانون کے تحت فیصلہ کیا گیا ۔نیوزی لینڈ کی جانب سے سپر اوور کرانے ڈینینل ویٹوری کو منتخب کیا گیا جبکہ بیٹنگ میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے گرس گیل ،مارشل اور چندر پال کو چنا گیا ۔مارشل بغیر کوئی بال کھیلے رن آؤٹ ہوگئے ان کی جگہ چندر پال بیٹنگ کیلئے آئے ۔گرس گیل نے مکمل اوور خود بیٹنگ کی اور 25رنز بنائے ۔جواب ویسٹ انڈیز نے بولنگ کیلئے لیفٹ ہینڈ سپنر سلیمان بن جمال کو منتخب کیا گیا ،بیٹنگ میں نیوزی لینڈ کی جانب سے جیکب اورم اور برینڈن میک کالم نے بیٹنگ شروع کی تو اوور کی تیسری گیند پر جیکب اورم کیچ آؤٹ ہوگئے اور آخر ی بیٹسمین روز ٹیلر اوور کی پانچویں بال پر کلین بولڈہوگئے ، نیوزی لینڈ کی ٹیم مقرر ہ دو وکٹوں پر پانچ بال کھیلتے ہوئے صرف 15رنز بنا سکی ،یوں ویسٹ انڈیز کی ٹیم سپر اوور میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد میچ میں فاتح قرار پائی۔ٹونٹی ٹونٹی کے مزید قوانین میں امپائرز کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ٹیم ضائع کرنے والی ٹیم کے پانچ رنز کاٹ بھی سکتے ہیں اور پنالٹی کے طور پر پانچ رنز کا ہدف میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں۔بولنگ کرنے والی ٹیم اگر 75منٹ میں 20اوور مکمل نہیں کرپاتی تو اُسے چھ رنز کی پنالٹی کی جاتی ہے ۔لیگ سائیڈ پر پانچ سے زائد فیلڈر کھڑے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔
بہرحال :ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ دیکھنے کو تو آسان لگتی ہے لیکن کھیلنے میں تھوڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔پاکستانی ٹیم نے ایونٹ کیلئے بھر پور تیاری کررکھی ہے اس سلسلے میں قومی ٹیم نے لاہور میں تین پریکٹس میچز بھی کھیلے ۔ماہرین کا خیال ہے کہ انگلینڈ کی وکٹوں پر اگر شعیب اختر ٹیم کے ہمراہ ہوتے تو یقینی طور پر پاکستانی ٹیم کو فائدہ پہنچتا لیکن اب ٹیم کو چاہئے کہ وہ شعیب اختر اور آصف کی غیر موجودگی میں ورلڈکپ میں عمدہ کھیل پیش کرے اور پچھلے ورلڈکپ کے فائنل میں ہونیوالی غلطی کا ازالہ کیا جائے ۔

     
مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.